ویسے تو اصول کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیشہ تنقید حاکمِ وقت پر کی جاتی ہے اور اپوزیشن کی کچھ منفی باتوں سے بھی در گزر کیا جاتا ہے…… لیکن پہلی مرتبہ پاکستانی سیاست کا زاویہ کچھ اس طرح بدلا کہ خان صاحب ہمیں فرصت ہی نہیں دیتے کہ ہم حکومت کی نا اہلی اور غلط کاری پر بات کریں۔ سو آج کی خان صاحب کی سیاست پر بات کرنے سے پہلے آپ کو ایک پرانا گھسا پٹا لطیفہ جو یقینا آپ نے سنا ہوگا، پیش کرتے ہیں۔
سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر:
https://lafzuna.com/author/fayaz/
ایک دفعہ ایک شخص ایک ہوٹل میں گیا اور بیرے کو پانی لانے کو کہا۔ بیرہ پانی دے کر آرڈر کا منتظر رہا، لیکن اس نے آرڈر نہ دیا۔ البتہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ پانی کا گلاس طلب کرتا اور اس حد تک کہ بیرہ اُکتا گیا اور احتجاج کیا کہ بار بار صرف پانی ہی کیوں؟ اس پر وہ شخص غصے میں آگیا اور زور سے گلاس نیچے مار کر توڑ دیا۔ تب عمومی طور پر ہوٹلوں میں بل والا رواج نہ تھا۔ سو جب گاہک فارغ ہوتا، تو بیرہ براہِ راست کیش کاؤنٹر کو پتا دیتا تھا کہ کتنا بل ہے اور کبھی مزید وضاحت واسطے وہ مینو بھی بتا دیتا تھا۔ وہ شخص جب گلاس توڑ کر اُٹھا، تو بیرے نے کاؤنٹر کی طرف آواز لگائی کہ ’’کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا چارآنے!‘‘ یعنی صاحب نے کھایا پیا کچھ نہیں اور گلاس توڑ دیا ہے، چار آنے کا نقصان کر دیا ہے۔
بس اس واقعے یا لطیفے کے بعد یہ مثال مشہور ہوگئی اور مناسب موقع پر بیان ہونا شروع ہوگئی۔
ہمیں یہ واقعہ خان صاحب کے لانگ مارچ پر یاد آیا۔ عمران خان صاحب نے کتنے ماہ ضایع کیے۔ اول لانگ مارچ کا روز روز اعلان، پھر دھرنا دینا، کبھی اسلام آباد ڈی چوک میں کبھی راولپنڈی میں۔ پھر تاریخ کا اعلان ہوا اور اس کی تیاری کے لیے کیمپ لگا دیے گئے۔ عام عوام کے لیے مصیبت بنا دی گئی۔ روزانہ کی بنیاد پر خواتین، بچے اور بزرگ خجل خوار ہونا شروع ہوگئے۔ بلآخر لانگ مارچ ہوا۔ بہت ہی عجیب مارچ…… جو بقولِ رانا ثناء اﷲ ’’رینگ مارچ‘‘ بن گیا۔ ایک شہر سے دوسرے شہر جاتا، وہاں رات کے وقت راہنما آرام کرتے اور عام کارکن ذلیل ہوتے رہتے۔ اسی دوران میں وزیر آباد کا ایک قابلِ افسوس و قابلِ مذمت واقعہ بھی پیش آیا، مگر اس کے باجود لانگ مارچ رواں دواں رہا اور پھر خدا خدا کر کے یہ مارچ روات پہنچا…… بلکہ روات شہر کے باہر کہ جو تحصیل راولپنڈی، مطلب پنجاب کا حصہ تھا…… وہاں پر راہنماؤں کے خطاب ہوئے اور بس ایک اعلان ہوا کہ اب 26نومبر کو خان صاحب نے تمام کارکنان کو راولپنڈی پہنچنے کی تاکید کی ہے کہ جس میں خان صاحب زخمی شیر کی طرح خود شامل ہوں گے۔
سوات قومی جرگہ کا پائیدار امن کے لیے جد و جہد کا اعلان:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30297/
انھی دنوں چوں کہ نئے سپہ سالار کا اعلان ہونا تھا، سو میڈیا نے عوام میں خوب تجسس پیدا کیا۔ کسی کا خیال تھا کہ خان صاحب مرضی کا سپہ سالار چاہتے ہیں…… سو اس کا دباو بنانا چاہتے ہیں۔ یہ بتایا جا رہا تھا کہ خان صاحب پنڈی کو بطورِ مدد گار بنا رہے ہیں اور جب عوام کا سونامی پنڈی جمع ہو جائے گا، تو اس کو اسلام آباد کی جانب جانے کا حکم ہوگا اور اس سونامی کو حکومت روک نہ پائے گی۔ اس کے لیے ان کی دلیل تھی کہ اگر مارچ کا آخری پڑاو پنڈی ہوتا، تو خان صاحب اس سونامی کو لیاقت باغ کا کہتے۔ مری روڈ پر علامہ اقبال پارک میں روکنے کی وجہ یہی ہے کہ یہاں سے فیض آباد بہت قریب ہے اور آگے اسلام آباد اور پھر خان صاحب نے وہ دھرنا دینا ہے کہ لوگ دوہزار چودہ کا دھرنا بھول جائیں گے۔ اسلام آباد میں شہباز شریف کی قیادت میں موجود حکومت تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گی۔
بلکہ مجھے تو کچھ تحریک انصاف کے چیتوں نے یہ بھی یقین دلایا تھا کہ شہباز شریف، رانا ثناء اﷲ، آصف زرداری، مریم اورنگزیب، مولانا فضل الرحمان کو فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔
کچھ کا تو یہ خیال تھا کہ جوں ہی یہ سونامی اسلام آباد کی جانب سفر شروع کرے گا، یا مارشل لا لگ جائے گا، یا پھر فوج کی قیادت شہباز شریف سے استفعا لے کر فوراً نئے انتخابات کا ڈول ڈالنا شروع کر دے گی۔ بہرحال عام آدمی تجسس میں تھا۔ بس چند مجھ جیسے احمق ہی اس کو بے ضرر اور معمول کی ایک سیاسی سرگرمی سمجھ رہے تھے۔ خیر
کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
مارچ راولپنڈی پہنچ گیا۔ خان صاحب بھی زخمی شیر کی طرح بیساکھیوں پر تشریف لے آئے۔ انصافین کا جوش و جذبہ عروج پر پہنچا ۔ باقی عام عوام کی توجہ سکرین کی طرف، ہر شخص متجسس تھا کہ خان صاحب آخر کیا اعلان فرمائیں گے…… اور پھر خطاب شروع ہوا۔ خان صاحب بار بار کہتے، مَیں آخر میں آیندہ کا لایحۂ عمل دوں گا۔
قارئین! یاد رہے کہ اس سے پہلے تحریکِ انصاف کی دوسرے درجہ کی قیادت بھی بار ہا ٹی وی پر کہتی رہی کہ آخری لایحۂ عمل صرف خان صاحب ہی دیں گے۔حتی کے وزیرِاعلا کی مشیر خاص محترمہ مسرت چیمہ نے تو ایک دن قبل صاف کہا کہ یہ لایحۂ عمل ہم وقت پر دیں گے۔ اس کا علم اس دنیا میں شاید صرف محترم عمران خان کے پاس ہی تھا۔ اب تمام عوام سب کام چھوڑ کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ گئے۔ تجسس بڑھتا گیا اور پھر وہ وقت آ گیا جب جناب عمران خان نے لایحۂ عمل کا اعلان کرنا تھا۔ جوں ہی اعلان ہوا۔ سب لوگ بشمول تحریکِ انصاف کے کارکنان (البتہ چند جنونی معصوم کارکنان اس میں شامل نہیں) کی ہنسی نکل گئی۔ اعلان ہوا کہ ’’اب ہم اپنی ہی دو حکومتوں سے استعفا لیں گے، تاکہ ملک میں انتخابات کی راہ ہم وار ہوسکے۔‘‘
سیاسی شکست یا فوجی:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30243/
یہاں پر کاش، تحریک انصاف کے باشعور کارکنان، خان صاحب سے یہ سوال کرلیتے کہ اعلا حضرت! اگر یہ کچھ کرنا تھا، تو پھر سات ماہ قبل کر دیتے کہ جب حکومت کے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ تھا۔ اگر بالفرض سیاسی حالات کی وجہ سے وہ وقت مناسب نہ تھا، تو پھرجناب اس طویل جد و جہد کی کیا ضرورت تھی۔ خواہ مخواہ آپ نے کارکنان کو مصیبت میں ڈالے رکھا، بلکہ ایک آدھ صحافی سمیت کچھ ارکان جان سے بھی گئے۔ خود آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ اس کے علاوہ اربوں روپیا خرچ ہوا اور عام عوام کو نہ صرف شدید تکلیف ہوئی، بلکہ تاجروں اور دہاڑی دار مزدوروں کا بہت مالی نقصان بھی ہوا۔ سو اس سب مشق کا فایدہ؟ یعنی وہی بات ’’کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا چار آنے۔‘‘
بہرحال ہم تو بس رائے دے سکتے ہیں کہ خان صاحب کی سیاست و شخصیت کو تو تبدیل نہیں کرسکتے۔ خان صاحب شروع ہی سے نرگسیت کا شکار ہیں، اور خود پسندی تو ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ اب ملک کے سنجیدہ طبقوں میں یہ تاثر بھی پیدا ہو رہا ہے کہ خان صاحب کا مقصد صرف حصولِ حکومت ہے۔ اس کے لیے کوئی بھی انتہا چھوئی جاسکتی ہے۔ حتی کہ ملکی مفاد اور سیاست کی تباہی بھی قابل قبول ہے۔ عمران خان اور ہمارے تحریکِ انصاف کے دوست یہ بات یاد رکھیں کہ اس طرح کی سیاست شاید وقتی طور پر ان کو کچھ فایدہ دے، لیکن مستقبل میں اس قسم کی سیاسی حکمتِ عملی ان کے لیے تباہ کُن ہوسکتی ہے، جو آگے جا کر شاید تحریکِ انصاف کے لیے بالکل ’’ختم شد‘‘ کا باعث بن جائے۔ اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ خان صاحب ایک سنجیدہ اور محب الوطن سیاسی قاید کا کردار ادا کریں گے۔ یہ فضول میں گلاس توڑ کر چار آنے وہ بھی عوام کی جیبوں سے نقصان نہیں کریں گے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorl[email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔