ان دنوں سوشل میڈیا پر موٹیویشنل سپیکر شاہد انور کے چرچے ہیں۔ بیک وقت یوٹیوب، فیس بک، انسٹا گرام، ٹویٹر اور ٹک ٹاک پر وہ چھائے ہوئے ہیں۔نوجوان نسل کی اکثریت ان کے بیانیے اور فلسفۂ حیات کو مریدانہ انداز میں فالو کر رہی ہے۔
شاہد انور کو پچھلے کئی ہفتوں سے میں سُن رہا ہوں اور میں ان کے اپروچ سے بے حد متاثر ہوں اور جتنا ان کو سٹڈی کیا، ان کی باتوں میں لالچی پن نظر آیا اور نہ بناوٹ۔ وہ جب بھی بات کرتے ہیں، دل سے کرتے ہیں۔ بقولِ شاعر
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
شاہد انور نے پاکستانی معاشرے کو ٹارگٹ کیا ہوا ہے، جہاں وہ اپنی فلاسفی کے ذریعے امید کے دیے جلا رہے ہیں اور قوم کے نوجوانوں کو بیدار کر رہے ہیں۔ جس طرح کسی کو خوابِ غفلت سے جگانے کے مختلف طریقے ہیں۔ مثلاً: تبلیغی جماعت والے جب صبح نیند سے جگاتے ہیں، تو وہ آپ کے پاؤں دبانا شروع کرتے ہیں۔ گھر میں ماں پہلی دفعہ نماز کے لیے جگاتی ہے تو ’’بیٹا بیٹا‘‘ کَہ کر پکارتی ہے۔ جب نماز قضا ہونے کے قریب ہوتی ہے، تو زور سے چلا کر کہتی ہے: ’’اوئے بے غیرت، اٹھو! شیطان کی نہ مانو۔نماز قضا ہو رہی ہے۔‘‘ شاہد انور کا اِس وقت جو انداز ہے۔ یہ اُس وقت کا ہے جب نماز قضا ہونے کے قریب ہو یا قضا ہو چکی ہو۔
ماضیِ قریب میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ پشتون وطن میں مولانا بجلی گھر کا چرچا رہا۔ مولانا بجلی گھر بھی معاشرے کو خوابِ غفلت سے جگا رہے تھے۔ انھیں احساس دلا رہے تھے کہ ’’تم خسارے میں جا رہے ہو۔ نقصان کر رہے ہو۔ غلط راستے پر جا رہے ہو۔ منزل کھو رہے ہو۔‘‘ بجلی گھر صاحب کا انداز بہت نرالا تھا۔ وہ منبر و محراب سے غیر روایتی انداز میں قوم سے مخاطب ہوتے۔ اس کی باتیں غیر روایتی اور سخت ہوتیں، مگر معاشرے نے اس کے بیانیے کو قبول کیا تھا۔ آج پشتون وطن کے طول و عرض میں شاید ہی ایسا فرد ہو جس نے مولانا بجلی گھر (مرحوم) کو نہ سنا ہو یا انھیں جانتا نہ ہو…… یا اس سے عقیدت نہ رکھتا ہو۔ بجلی گھر صاحب کا جنازہ پشتون وطن کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ عقیدت مند آج بھی اُن کے درہ آدم خیل میں مزار پر جاتے ہیں اور نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ بجلی گھر صاحب کے علاوہ برصغیر پاک و ہند میں اکبر اِلہ آبادی ایسا کردار ہے جس نے طنزیہ انداز میں تہذیبِ مغرب اور مغربی غلامی سے قوم کو نفرت کرنے کی ترغیب دی ہے۔ انھوں نے شاعری کی زبان میں قوم کو جگانے کی کوشش کی ہے۔
آمدم برسرِ مطلب، شاہد انور کا تعلق ملاکنڈ سے ہے۔ بقولِ شاہد انور، وہ کچھ عرصہ پہلے والد کا ہاتھ بٹانے سعودیہ گیا، جو کسی سکول میں چوکیداری کرتا اور 1500 ریال تنخواہ کماتا تھا۔ ان کے والد نے وہاں تیس چالیس سال مزدوری کی۔ انھوں نے جب ضعیف باپ کو کس مہ پرسی میں دیکھا، تو اس کا کلیجہ پھٹنے لگا کہ اس قدر معمولی تنخواہ کے لیے وہ غریب الوطن اس قدر مشکل کام کر رہا ہے۔بقولِ شاہد انور، اُسی دن انھوں نے والد سے کہا کہ ’’آپ واپس پاکستان جائیں، مَیں کما کر کھلاوں گا۔ شاہد انور نے سات ہزار ریال سے وہاں کاروبار شروع کیا۔ بعد میں امریکہ کا چانس ملا اور وہاں دیارِ غیر کے اجنبی ماحول میں عقل و ہمت سے کام لے کر کاروبار شروع کیا۔ اس وقت وہ کروڑوں اور اربوں میں کھیل رہے ہیں۔
شاہد انور معاشرے میں اپنے انداز سے شعور کے دیے جلانے کی سعی کر رہے ہیں۔ انھیں کیا پڑی ہے کہ وہ وہاں کی پُرلطف اور حسین و جمیل دنیا میں وقت نکال کر قدامت پرست پشتونوں یا پاکستانیوں کو شب یلدا کی گہری نیندوں سے جگائیں…… مگر قوم کا درد اُن کے سینے میں موج زن ہے۔ ماہیِ بے آب کی طرح وہ قوم کی خاطر تڑپ رہے ہیں کہ ان کی صلاحتیں ضایع ہو رہی ہیں۔ انکا وقت برباد ہو رہا ہے۔ ان کی جوانیاں ضایع ہو رہی ہیں۔ اس لیے انھوں نے غیر روایتی انداز اپنا کر نوجوانوں کو اپنی طرف مایل کیا ہے۔
شاہد انور ہر ویڈیو میں لفظ ’’غریبوں‘‘ سے آغاز لیتا ہے……اور انھیں غیرت دلا رہا ہوتا ہے کہ وہ خدائی فیصلے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی کم ہمتی اور نالایقی کی وجہ سے آج غریب ہیں۔ ان کے آس پاس دولت کے انبار لگے ہیں۔ بشرط یہ کہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں۔
قارئین! ایک دفعہ ہمارے بنوں کے ایک بزرگ نے میرے ساتھ ڈسکشن میں کہا کہ یہ دولت بھی لیلۃ القدر کی طرح ہے۔آپ کے آس پاس ہوگی لیکن کچھ کو دکھائی دیتی ہے، اور کچھ کو نہیں۔شاہد انور بھی یہی بتا رہے ہیں کہ دولت کے انبار آپ کے آس پاس ہیں، بشرط یہ کہ آپ دیدہ ور ہوں، اہلِ نظر ہوں۔
پرسوں ایک ویڈیو میں قیمتی گاڑی کے سامنے کھڑے ہوکر کہتے دکھائی دیے کہ ’’لڑکی کوتاہ لباس ہو یا سادہ لباس، لیکن اس کو توجہ مل ہی جاتی ہے۔ البتہ مرد کے کی دل کشی یہ نہیں کہ میک اَپ کرے یا کوتاہ لباس بنے۔ اس کی دل کشی یہ ہے کہ اس کی جیب بھری ہو۔ وہ دولت مند ہو۔ اس کے پاس قیمتی گاڑی ہو اور ہاتھ پر قیمتی گھڑی۔
قارئین! آپ کو خدا کا واسطہ…… کیا شاہد انور کہی ہوئی یہ بات حقیقت نہیں……؟ جواب ہے: ’’زندہ و جاوید حقیقت!‘‘
پرسوں ایک دوست نے ان کی ایک ویڈیو کا لنک بھیجا کہ شاہد انور غریبوں کا مذاق اُڑاتا ہے اور دینی لحاظ سے بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ مَیں نے پوری ویڈیو دیکھی جس میں وہ نوجوانوں کو احساس دلا رہے ہوتے ہیں کہ پیسا ہو، تو آپ جنت بھی خرید سکتے ہیں۔ پھر وضاحت کرتے ہیں کہ قرآن میں درجنوں دفعہ اللہ فرماتا ہے کہ اپنے مال کو اللہ کی رضا کی خاطر استعمال میں لائیں۔ جب آپ اپنی دولت سے درد مندوں، غریبوں، مسکینوں، بیواؤں اور محبوباؤں کی خدمت کریں گے، تو کیا یہ جنت کا ٹکٹ نہیں؟
مَیں نے دوست کو سمجھایا کہ بے شک ہم ایک مولوی زدہ معاشرے میں پیدا ہوئے ہیں، جہاں دین کے اصل مقام کو سمجھایا نہیں گیا ہے اور ہم لاشعوری طور پر فتوے باز واقع ہوئے ہیں، لیکن شاہد انور کی باتوں کو مثبت انداز سے لیں۔ وہ مشنری جذبوں سے نئی پود کی جدید خطوط پر آبیاری کر رہے ہیں۔ جدید نسل کو نئے چیلنجز کے لیے، کاروباری سوچ کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ انھیں سمجھیں۔ انھیں قبول کریں۔
مجھے یاد ہے 2011ء میں سعودی شہر جبیل میں ایک سعودی شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ اُس نے مجھے ایک قیمتی بات کی، جو آج تک یاد ہے: ’’مرد وہ نہیں جس کے خط و خال مردوں کے ہوں، مرد وہ ہے جو عقل سے کام لے ۔توکل سے کام لے اور کاروبار کرے۔‘‘
شاہد انور اس معاشرے کا آفتاب ہیں، مینارِ نور ہیں ۔مہتابِ شبِ یلدا ہیں۔ انھیں سنیں، سمجھیں اور قبول کریں۔ ہر نماز میں ہم آخری جملہ ’’اللہھم ربنا اتنا فی الدنیا‘‘ پڑھتے ہیں۔ آخرت سے پہلے دنیا ہے۔ دنیا کی تمام رنگینیاں،حسن اور خوب صورتی بھری جیب میں ہے۔ خالی جیب کے بغیر یہ دنیا خدا کی قسم دوزخ ہے۔
اللہ ہمیں دولت سے نوازے، آمین!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔