یہ بات کی جاتی ہے کہ ملکی تاریخ میں آدھی حکومت براہِ راست فوج کی رہی ہے اور اسی وجہ سے جمہوریت پنپ نہیں سکی۔ ویسے یہ بات کسی حد تک درست ہے…… کیوں کہ باقی آدھی حکومت جو بظاہر عوامی نمایندگان کے ہاتھوں میں تھی، یا ہے…… اُن میں بھی جمہوری اقدار کی مضبوطی دیکھنے کو نہیں ملی۔
ہر جمہوری حکومت میں اپوزیشن کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا گیا، جو آمریت کے زمانے میں ناپسندیدہ سیاست دانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ نیب نامی ادارہ بنایا تو ایک آمر نے تھا، مگر بعد میں سیاست دانوں نے ایک دوسرے کے خلاف اتنی شد و مد کے ساتھ اس کا استعمال کیا کہ الامان و الحفیظ…… اور ممکنہ طور پر اَب بھی نیب کا ’’سیاسی استعمال‘‘ جاری ہے۔
ٹھیک اس طرح صحافیوں کے ساتھ جو سلوک فوجی حکومتوں میں ہوتا رہا، وہی نام نہاد جمہوری حکومتوں میں بھی کم و بیش اسی طرح جاری رہا۔ یوں یہ کہنا کہ پاکستان میں جمہوریت اس لیے نہ پنپ سکی کہ حکومتوں میں رہنے کی وجہ سے فوج طاقت ور ہے۔ یہ بات سچ ہوگی…… مگر مجھے کہنے دیجیے کہ یہ ’’آدھا سچ‘‘ ہے۔ پورا سچ یہ ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے اندر بھی اب تک جمہوریت جڑ نہ پکڑ سکی۔ اسی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ کیوں کہ اس کے لیے فوج کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔
ابھی نئے سپہ سالار متعین ہوئے ہیں، جو کہ کل پرسوں ’’طاقت کی چھڑی‘‘ اپنے پیش رو سے حاصل کرلیں گے…… لیکن سب جانتے ہیں کہ گذشتہ ایک سال سے اس تعیناتی بارے کیا ہیجان انگیزی جاری تھی۔ میرے خیال میں ایک سرکاری ملازم کا جانا اور دوسرے کا آنا کوئی تعجب خیز بات نہیں۔ جانے والا مردِ کامل تھا، اور نہ آنے والا ہی کامل ہوگا۔ ملک اور ادارے اہم ہوتے ہیں، افراد نہیں۔ افراد کے کردار سے انکار نہیں…… لیکن اگر وہ کردار آئین و قانون کے دایرے میں ملک و قوم کے فایدے کا ہو…… لیکن ہماری چوں کہ سیاسی پارٹیوں میں خود جمہوریت نہیں، اس لیے ایک بندے کے تعین کو گویا ملک کی بقا کا مسئلہ بنائے رکھا گیا۔ ملکی تاریخ کی آدھی حکومت اگر فوج نے کی ہے، تو اس عرصے میں سیاسی پارٹیوں کے اندر جمہوریت کو مزید مضبوط ہونا چاہیے تھا۔ کیوں کہ مزاحمت ہی سے مضبوطی آتی ہے…… لیکن پاکستان میں گنگا الٹی بہتی ہے۔
بظاہر جو عوامی لیڈران تھے، وہ آمروں سے ساز باز کرکے بیرونِ وطن جا بسے اور جلسے جلوسوں کے لیے کارکنان کو سڑکوں پر چھوڑا۔ پھر واپسی کے لیے بھی ساز باز کرکے جب آئے، حکومتیں بنائیں، تو ان سڑک چھاپ کارکنان کی بجائے خاندان کے اندر عہدوں کا بندر بانٹ کیا گیا۔
جاوید ہاشمی المعروف ’’باغی‘‘ اس کہانی کی مجسم تصویر اور زندہ مثال ہے…… لیکن یہ کہانی صرف ایک پارٹی یا ایک شخص تک محدود نہیں…… بلکہ باالتحقیق جماعتِ اسلامی مکمل اور تحریکِ انصاف کافی حد تک خاندانی قبضے سے آزاد ہیں۔ باقی اکثر پارٹیوں کو ’’فیملی لمیٹڈ‘‘ کاروباری دکانیں بنایا گیا ہے۔ فوج کی طرف داری مراد نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوج نے کبھی کسی پارٹی سربراہ کو یہ نہیں بتایا ہوگا کہ پوری پارٹی کو خاندانی وراثت بناؤ۔
اب آپ یہ دیکھ لیں کہ مولانا فضل الرحمان خود پارٹی کا تاحیات قاید، مولانا کا ایک بھائی سینیٹر اور پارٹی کا صوبائی صدر، دوسرا بھائی ممبر صوبائی اسمبلی، مولانا کا بیٹا وفاقی وزیر جب کہ دامام مئیر پشاور اور اب سمدھی گورنر خیبر پختونخوا ہے۔
اس طرح پرویز خٹک ممبر قومی اسمبلی اور صوبائی صدر، خٹک کا ایک بیٹا ممبر صوبائی اسمبلی، دوسرا بیٹا تحصیل مئیر، خٹک کا بھائی ممبر صوبائی اسمبلی، بھابھی ممبر قومی اسمبلی جب کہ داماد بھی ممبر قومی اسمبلی ہے۔
اسی طرح ہر پارٹی پر اکثر و بیشتر ایک ہی خاندان کا قبضہ ہے۔
حالیہ دنوں پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اختلافِ رائے پر پارٹی کے کئی ایک بزرگ راہنماؤں کو پارٹی سے نکال دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر کا استعفا تو ابھی کل پرسوں کی بات ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب تک پارٹیوں کے اندر اصل جمہوریت نہیں ہوگی، تب تک ملک میں مضبوط جمہوریت کی بات خواب ہی ہے۔ پھر اس طرح ہر سیاست دان ’’طاقت کی چھڑی‘‘ کے ذریعے ہانکا جائے گا…… لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ اب وقت بدل چکا ہے…… اور نوجوان نسل اس خاندانی سیاست کو مزید قبول نہیں کرے گی۔ کیوں کہ اس ملک میں اب آمریت کی کوئی گنجایش نہیں۔ خواہ وہ سیاسی پارٹیوں میں ہو…… یا حکومت میں۔
عوامی رائے کا احترام نہیں کیا گیا، تو عوامی رویے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ممکن ہے…… اور اگر یہ تبدیلی خدانخواستہ منفی ثابت ہوئی، تو پھر چشمِ تصور میں وہ وقت لائیے کہ کیا ہوگا……!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔