دنیا بھر میں تفریح کے لیے کھیل، تماشے ، کرتب اور ڈرامے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کھیل تماشوں کی مقبولیت اور پسندیدگی کا واحد معیار شایقین، حاضرین اور ناظرین کی تعداد ہوا کرتی ہے ۔ ’’جو دِکھتا ہے…… وہ بکتا ہے‘‘ اُصول کے تحت شایقین کی تعداد ہی پر ان کھیل تماشوں کو سپانسرز اور انویسٹرز ملتے ہیں…… اور انعامی رقم کا تعین ہوتا ہے۔
کھیلوں کے عالمی انسائیکلو پیڈیا 2003ء کے مطابق دنیا میں 8 ہزار سے زاید کھیل پائے جاتے ہیں۔ ان کھیلوں کو ڈھیر سارے لوگ کھیلتے ہیں اور پسند بھی کرتے ہیں۔ لہٰذا ہم کون ہوتے ہیں ان کو عجیب کہنے والے!
وہاں بیل کی ساجھے داری میں کھیل کھیلے جاتے ہیں اور ہمیں یہاں عجیب لگتا ہے، جب کہ یہاں وہی سب انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے اور کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔
جیسے ’’ڈگری ڈگری ہوتی ہے‘‘ ویسے کھیل بھی کھیل ہی ہوتا ہے۔ کھیل کو کھیل ہی رہنے دیا جائے، تو یہ تفریح، شہرت، عزت، پیسے اور تعلقات بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دانش صاحب نے ایک غزل میں کہا تھا کہ
مڑہ خو روزگار دے نو، یا دلتہ او یا اَلتہ
یعنی ارے بھئی، روزگار ہی تو ہے…… چاہے اِدھر ہو یا اُدھر۔
بعینہٖ کھیل کھیل ہی رہتا ہے…… خواہ اسے ’’بوڈاگے‘‘ میدان لال قلعہ دیر میں کھیلے یا ویرات کوہلی لال قلعہ گراؤنڈ دہلی میں۔ فرق ہوتا ہے، تو بس مہارت، شہرت اور پیسے کا۔ باقی تفریح تو کم و بیش ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ تماش بین کے لیے تو دونوں ہی تفریح کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے اگر شاہد آفریدی کے چکے دیکھنا موجبِ ثواب اور قومی فریضہ نہیں، توبوڈاگے کو کھیلتے دیکھنا بھی کوئی باعثِ گناہ نہیں۔
رائید اللہ عرف بوڈاگی کا تعلق ضلع دیر سے ہے۔ سوشل میڈیا پر اس سے موسوم درجنوں اکاؤنٹس ہیں اور کئی ایک کے فالوورز پچاس ہزار سے زاید ہیں۔ ایک غریب گھرانے سے اس کا تعلق ہے اور کرکٹ کا دیوانہ ہے۔ سکولز ٹورنمنٹ میں گراؤنڈ مین کا کردار احسن طریقے سے ادا کرتا ہے۔ وہ انتہائی معصوم اور سادہ انسان ہے۔ محنت مزدوری کرکے رزقِ حلال کماتا ہے۔ بھولا بھالا بوڈاگے، کرکٹ میں جتنا سخت مزاج ہے،عام زندگی میں اس کے بالکل برعکس ہے۔ بوڈاگی کے کئی انٹرویوز دیکھے۔ بہت معصومیت سے باتیں کرتا ہے۔ بوڈاگی کی اس معصومیت کو لوگ کیش کرتے ہیں، ویڈیوز بناتے ہیں اور ’’ویووز‘‘ بٹورتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بوڈاگے صوبہ خیبرپختونخوا میں انتہائی مقبول ہے اور دیر میں ناصر خان جان جیسے فحش گو کی بجائے اب ایک کھلاڑی سٹار بن گیا ہے۔ بے شک کچھ صحافیوں اور سوشل میڈیا انفلونسرز کو یہ بات بری لگے۔
بوڈاگی کی طرح ہنگو سروخیل کا کیپٹن کامران بھی کرکٹ اور سوشل میڈیا کا ایک درخشندہ ستارہ ہے۔ چھوٹی ہی عمر میں کیپٹن کامران کے سوشل میڈیا پر لاکھوں پرستار ہیں۔ اِمسال ماہِ اکتوبر کے آخری ہفتے میں کیپٹن کامران نے ہنگو سے دیر کا دورہ کیا اور بوڈاگی کے ساتھ میچ کھیلا۔ بوڈاگی نے کیپٹن کامران کے سولہ رنز کا ہدف پانچویں گیند پر پورا کرکے میچ اپنے نام کیا۔ اس میچ کو سیکڑوں لوگوں نے گراؤنڈ میں، ہزاروں نے لائیو اور لاکھوں نے بعد میں دیکھا۔ اس میچ کے بعد کچھ سوشل میڈیا ستاروں نے خواہ مخواہ پیالی میں طوفان برپا کرنے کی کوشش کی اور الحمدللہ منھ کی کھانی پڑی۔ ایک نے کہا کہ پختون پہلے کتے اور مرغے لڑایا کرتے تھے اور اب بوڈاگے اور کامران کو……! یعنی یہ صاحبان مخالفت میں اس حد تک گئے کہ مثال بھی ٹھیک نہ دے پائے۔ کتے اور مرغے لڑانا کبھی پختونوں کا روایتی کھیل نہیں رہا۔ یہ اہلِ پنجاب کی ثقافت ہے اور آج بھی اس کے شوقین وہاں پائے جاتے ہیں۔ ہر معاملے میں پختونوں کو کوسنا اور ملامت کرنا کچھ لوگوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔
اہلِ دیر و ہنگوکو بھی اس معاملے میں برا بھلا کہا گیا۔ کسی نے کہا کہ یہ فارغ لوگ ہیں جو اتنی تعداد میں میچ دیکھنے جمع ہوگئے ہیں۔ میرا سوال صرف یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کا کرکٹ میچ اور سعودی عرب اور ارجنٹائن کا فٹ بال میچ 80 ہزار سے زاید لوگوں نے سٹیڈیم میں دیکھا اور یہ میچ دیکھنے کے لیے انھوں نے لاکھوں روپیا خرچ کیا۔ وہاں کون سا لوگوں نے کردار سازی یا کیرئیر بلڈنگ کا سیشن اٹینڈ کیا جو یہاں نہ ہوا! بس تفریح تھی…… وہاں بھی میسر آئی اور یہاں بھی۔ بس غریب کھجائے، تو خارش اور کھجلی اور امیر کرے توسکن انفیکشن۔ آپ کریں تو ٹھیک، ہم کریں تو ’’سالا، کیریکٹر ڈھیلا ہے!‘‘ ان دانش وروں میں ایک نے پچھلے دنوں ایک ’’مشہور شاعرہ‘‘ کے اُن اشعار پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے تھے، جس پر پرانے زمانے کے بادشاہ بندے کو زِندان میں ڈالا کرتے تھے، لیکن ہم نے کچھ کہا؟ نہیں ناں……! تو پھر بوڈاگی سے یہ جلن اور تکلیف کیوں؟
جہاں دنیا میں یوتھ اولمپکس، پیرا اولمپکس اور یہاں تک کہ گے گیمز کی اجازت اور دیکھنے کا شوق موجود ہے اور ان کے شایقین پر کسی دانش ور کو اعتراض نہیں، وہاں بوڈاگئی کا کھیل دیکھنے والوں پر تنقیدکیوں؟ جہاں مداری کے کرتب، عمران خان و مریم کی تقریر، اوریا مقبول جان کی مبصرانہ رائے، ڈاکٹر شاہد مسعود کی پیشین گوئیاں، صابر شاکر کے تجزیے، نواز شریف کا انٹرویو، زریون کی شاعری اور شاہد خان و سواتی کی فلم پسند کی جاتی ہو، وہاں پر بوڈاگی کی پرفارمنس پر حرف زنی کیوں؟
مجھے تو اصل دکھ اس بات کا ہے کہ محنت سے حلال رزق کمانے والے اور دل لگا کر کرکٹ کھیلنے والے معصوم اور سادہ لوح انسان بوڈاگی کا موازنہ کیا بھی گیا تو کس سے……؟ ’’زیبا گل‘‘ اور ’’کوکو سلیم آفریدی‘‘ سے۔
افسوس! خود پسندی اور نرگسیت کے مارے ان ’’دانش وروں‘‘ کو اپنی مشہوری کی خاطر مشقِ ستم کے لیے ملا بھی تو کون…… ’’رائیداللہ عرف بوڈاگے……؟‘‘
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔