نومبر کا اختتام قریب ہے مگر ملک میں ہیجان بڑھ رہا ہے۔ عمران خان کا لانگ مارچ رواں دواں ہے۔ دوسری طرف لکی مروت میں تحریکِ طالبان نے پولیس گاڑی پر حملہ کرکے چھے پولیس اہل کاروں کو شہید کیا ہے۔
اس طرح چمن اور سپین بولدک سرحدی کراسنگ پوائنٹ پر طالبان نے ایک پاکستانی ایف سی اہل کار کو شہید کیا ہے…… جس کی وجہ سے پاک افغان سرحدی گیٹ چمن کے مقام پر بند کردیا گیا ہے۔
یہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں عوامی بیداری کے پُرامن مظاہرے بھی جاری ہیں۔ سونے پر سہاگا یہ کہ سردی بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے بلوچستان اور سندھ کی صنعتوں کو فروری کے آخر تک گیس کی سپلائی روک لی گئی ہے۔ باقی ملک میں بھی گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ متوقع ہے۔
کم از کم گیس کے بحران کا نزلہ عمران خان پر نہیں گرایا جاسکتا۔ کیوں کہ ان کو نکالے چھے مہینے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے۔ لہٰذا گیس بحران کی مکمل ذمے داری حالیہ حکم رانوں پر عاید ہوتی ہے۔
قارئین! اسحاق ڈار صاحب تشریف لاچکے، لیکن ڈالر کی اُڑان ختم نہیں ہو رہی۔ ادارۂ شماریات کے مطابق مہنگائی میں ہفتہ وار اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام کا ستیاناس ہو رہا ہے۔ ایسے میں کسی بھی تبدیلی کو روکا نہیں جاسکتا۔ مثبت نہ ہوئی، تو منفی تبدیلی کو لانے کے لیے دشمن کے آلۂ کار بھی چنگاریوں کو ہوا دینے موجود رہتے ہیں۔
مگر اس کی فکر کس کو ہے؟
حکومت اور اپوزیشن دونوں بس ایک شخص کو متعین کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ نومبر کے آخری ہفتے نئے فوجی سپہ سالار کا تعین ہر معاملہ پر حاوی نظر آرہا ہے۔ بظاہر یہ ایک معمولی معاملہ ہے۔ کیوں کہ فوج وزارتِ دفاع کا ایک ماتحت ادارہ ہے…… اور اس کے سربراہ کا تعین اتنی اہمیت کا حامل نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اگر ایسا ہوجاتا، تو اس سے فوج کی تکریم میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوجاتا…… جیسا کہ باقی مہذب دنیا میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہاں کے لوگ اپنی فوج سے محبت بھی کرتے ہیں، مگر عوام میں اکثریت کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا آرمی چیف کون ہے اور خفیہ ایجنسی کا سربراہ کون……؟
بدقسمتی وطنِ عزیز کی ہے کہ آغاز سے لے کر آج تک فوج عملی طور پر سیاست میں ایسی مصروف رہی ہے کہ اب سپہ سالار کا تعین بھی اہم موضوع بن گیا ہے۔
قارئین! بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ فوجی آمر جنرل ایوب خان بیک وقت وزیرِ دفاع بھی تھے اور آرمی چیف بھی۔ اس کے بعد مشرف تک جتنے آمر رہے ہیں۔ سب کے ’’سیاہ نامے‘‘ محفوظ ہیں۔
اب اس ہونے والے تعین نے پاکستانی سیاست دانوں کو گندے پانی میں کھڑا کر دیا ہے۔ معمول کے مطابق جو تعین ہونا تھا، اُسے ’’متنازع‘‘ بنایا جا رہا ہے۔
مگر اب حالات بڑی حد تک بدل چکے ہیں۔ عوام جان چکے ہیں۔ یہاں صرف ایک مثال دینا چاہوں گا کہ ن لیگ نے عوامی بالا دستی کے لیے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ ایجاد اور استعمال کیا تھا۔ واضح طور پر اس نعرے میں غیر سیاسی قوتوں کو تنبیہ یا پیغام تھا کہ ’’اب اور بس……!‘‘
یہ بھی سب کو یاد ہوگا کہ نواز شریف لندن سے پریس کانفرنسز کرکے باقاعدہ جنرل باجوہ کا نام لیا کرتے تھے، مگر یہ تو ابھی کل پرسوں کی بات ہے کہ ن لیگ والوں نے مختلف شہروں میں فوج اور خاص کر جنرل باجوہ کے حق میں مظاہرے کیے ہیں۔ یہ کسی پارٹی کے موقف میں بہت بڑی اور واضح تبدیلی ہے۔ اچھی یا بری اپنی جگہ…… مگر تبدیلی تو ہے ناں!
اگرچہ عوامی ذہنوں میں ن لیگ کی سیاست میں یہ تبدیلی مضحکہ خیز ہے، مگر ن لیگ والوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گذشتہ دو ہفتوں سے یہ گزارش کر رہا ہوں کہ اب پاکستان جہاں نوجوانوں کی آبادی دس کروڑ سے زیادہ ہے، اس ملک میں پانچ کروڑ کے لگ بھگ لوگ سمارٹ فون استعمال کررہے ہیں…… یہاں تبدیلی کو روکا نہیں جاسکتا۔ اگر ذہنی تربیت اور سیاسی بلوغت نہ ہو، تو مضحکہ خیز ڈرامے پیش ہوں گے…… جیسا کہ ایک دن فوج کی مخالفت، تو دوسرے دن مدح سرائی…… ایں چہ بوالعجی است! اور یہ کام تقریباً سبھی پارٹیاں حسبِ ضرورت کرتی چلی آ رہی ہیں۔ جیسا کہ عمران خان پہلے فوج کے ساتھ ’’ایک پیج‘‘ پر تھے اور اب سپہ سالار کے تعین کے بارے میں صرف ’’میرٹ‘‘ تک محدود ہوکر رِہ گئے ہیں۔
قارئین! کالم کے آغاز میں جن حالات کا ذکر کیا گیا ہے، کیا ان کی موجودگی میں کسی ایک شخص کے تعین کے عمل کو اتنی اہمیت دینی چاہیے؟ مگر آپ سے کیا شکوہ……! خود مَیں نے بھی تو سارا کالم اسی مسئلے پر لکھ ڈالا۔ اب آپ کی مرضی کہ آپ میرے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ لیکن ذاتی طور پر میرا ماننا ہے کہ کسی ایک شخص کے متعین ہونے کے مسئلے سے زیادہ اہم ملکی کے داخلی، خارجی، سیاسی اور معاشی حالات ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کو اس بارے سوچنا ہوگا۔ ملک مظبوط اور پُرامن ہو، تو سپہ سالار کوئی بھی ہو، کچھ فرق نہیں پڑتا۔
ویسے بھی ہم کون سا کشمیر واپس لینا چاہتے ہیں…… جو اتنا واویلا ہو رہا ہے؟



…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔