کم و بیش مہینا قبل برطانیہ میں بیک وقت تاج اور تخت (حکومت) کے جانشین بدل گئے ۔ آنجہانی ملکہ ایلزبتھ دوم کے انتقال کے بعد شہزادہ چارلس بادشاہ بن گیا اور اس مہینے وزیرِ اعظم نے بھی استعفا دے دیا۔ کچھ ہی دنوں میں پارلیمان نے نیا وزیرِ اعظم منتخب کرلیا۔ نہ کوئی شور اُٹھا، نہ ہیجان اور بحران پیدا ہوا، نہ اُمورِ ہی سلطنت ٹھپ ہوئے، جس سے بلاشبہ شہریوں کی زندگی متاثر ہوتی۔ یہ سب کچھ اُس ملک میں ہوا جہاں امریکہ یا دوسرے ممالک کی طرح آئین آج بھی ایک مرکب تحریری شکل میں موجود نہیں، بلکہ زیادہ تر صدیوں پر محیط تاریخی روایات پر مبنی ہے…… لیکن آج تک کسی کو بشمول تاج (بادشاہ/ ملکہ)، وزیرِاعظم، وزرا اور ممبرانِ پارلیمنٹ کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ اس کی کسی بھی روایت سے معمولی سے روگردانی کریں۔
سرکاری افسران خواہ فوجی ہوں یا سویلین، وہ بے چارے تو اس معاملے میں کسی شمار قطار میں نہیں۔ خود پوری زندگی تنخواہ پر گزارہ کرکے سروس کے دوران میں گم نامی اور سبک دوشی کے بعد صرف پنشن کے سہارے زندگی گزارتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ان ناہنجاروں نے جاتے جاتے ہمارے لیے ایسی افسری شاہی تشکیل دی اور اُسے وہ تربیت دی جو خود شاہ بننے سے کم پر راضی نہیں۔
نام نہاد جمہوری یا غیر مارشل لائی دور میں ہرتین سال بعد اس ملک میں تاج پوشی والا سماں بندھتا تھا۔ حکومتی غلام گردشوں سے لے کر عوامی سطح پراتنی قیاس آرائیاں اور لے دے شاید ہی قرونِ وسطیٰ کے کسی بادشاہ کی جانشینی اور تخت نشینی پر ہوتی ہوں، جتنا اب ہمارے آرمی چیف کے تقرر پر ہوتی ہیں۔ جنرل کیانی کے دور سے تو سونے پہ سہاگے وا لا کام ہوا۔ کیوں کہ انھوں نے ہیجان انگیزی میں ایکسٹینشن والے ٹینشن کا بھی اضافہ کردیا۔ اس سے پہلے جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف وردی میں صدر رہنا پسند کرتے تھے۔ لہٰذا ’’صدر ضیاء الحق‘‘ اور ’’صدر مشرف‘‘ بہ رضا و رغبت ’’جنرل ضیاء الحق‘‘ اور ’’جنرل مشرف‘‘ کو ملازمت میں تو سیع دیا کرتے تھے۔ ضیاء الحق اور مشرف کے مارشل لاؤں کے بیچ دس برسوں میں قربان جاؤں "58/ 2B” کے کہ وزیرِ اعظم بمشکل دو سال ہی پورے کرپاتا۔ ’’اٹھاون ٹو بی‘‘ کی کھال میں جنرل ضیاء الحق کی روح تابندہ و پایندہ تھی۔ وہ ایک طرح سے جنگل کا بادشاہ تھا۔ جی چاہتا، تو انڈا دیتا، نہیں تو بچہ۔ ہم پوچھنے والے کون تھے! آئین کے اندر ضیاء الحق کا یہ ’’ملاکا‘‘ ہنی مون اور کپتان کی طرح ایامِ مدت کے اختتام کے انتظار کے بغیر کسی بھی وقت منتخب وزیرِ اعظم کو خاور مانیکا اور قومی اسمبلی کو توشہ خانہ بناسکتا تھا۔
جب نواز شریف نے دو تہائی کا بھنگ پی کر آئین کی بالادستی کی بات کی، تو محفوظ ہاؤسز میں ’’توہینِ ملاکا‘‘ اور خطرے دونوں کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی اور یوں 12 اکتوبر کا سانحہ رونما ہوا۔ اُس دفعہ صدر زرداری دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر اٹھارویں آئینی ترمیم لایا۔ اب چوں کہ ’’ملاکا‘‘ جنرل مشرف کے ہاتھوں میں رہ رہ کر اس کا رنگ و روغن ماند پڑ گیا تھا، اس لیے راست اقدام کی بجائے انوکھی چال اپنائی گئی…… اب سپریم کورٹ جانے اور وزیرِ اعظم۔ جب چاہا منی کو بدنام کرنے کے لیے کوئی سویز کو چھٹی لکھنے نہ لکھنے کا ڈراما رچایا گیا، ساتھ پانامہ کی ہوا کھڑی کی گئی۔ اب ’’بلا تو ٹل جائے گی، لیکن بلا کے بچوں کا کیا کیا جائے گا؟‘‘ والا سوال تھا۔ کیوں کہ اسمبلی رہے پانچ سال کے لیے اور چیف بے چارہ تین سال کے لیے…… یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بھئی! ہم پاگل نہیں…… نہ ہمارا دماغ ہی خراب ہے۔ چیف صاحب کو توسیع چاہیے، تاکہ وہ ’’اسمبلی بی بی‘‘ کو ویلکم بھی کہے اور پانچ سال بعد ’’گوڈ بائے‘‘ بھی۔ نواز شریف کے پیٹ میں ایک بار پھر مروڑ اُٹھا اور راحیل شریف کی توسیع کی معصومانہ خواہش پر پانی پھیر دیا، یوں خود ’’پانامہ‘‘ کی زد میں آگئے۔
عمران خان کو یہ مسئلہ پہلے تھا نہ اب ہے۔ وہ تو درویش بندہ ہے۔ اس کو تو وزیرِ اعظم ہاؤس میں ایک ’’آستانہ‘‘ چاہیے۔ اس کو تو دو میں سے ایک چیف اپنی مرضی کا چاہیے۔ اگر پنڈی والا نہ ہو، تو آبپارے والا ہی سہی۔ عرض صرف اتنی تھی کہ ’’جب تک جناب وہاں کے چیف ہیں، تو ان کو میرے ساتھ رہنے دیں۔ کیوں کہ آج کل جس رنگ کی تسبیح میرے ہاتھ میں ہیں، اُسی رنگ کی ان کے ہاتھ میں۔ جس طرح مَیں تسبیح پھیرتا ہوں، عین اسی زاویے سے بغیر کسی بھول چوک کے وہ بھی پھیرتے ہیں اور وہی ورد کرتے ہیں جو مَیں کرتا ہوں۔‘‘ بھئی ہم خیالی کے بغیر قربت، قربت نہیں رقابت ہوتی ہے۔
کر نہ سکے ہم پیار کا سودا قیمت ہی کچھ ایسی تھی
کے مصداق جب کچھ نہ بن سکا، تو آخر میں یہ فراخ دلانہ پیشکش کی کہ چلیں، آپ خود رہیں اور ہمیشہ کے لیے رہیں، لیکن تب پل کے نیچے ڈھیر سارا پانی بہہ چکاتھا۔ اب تختہ اتنا بوسیدہ ہوچکا تھا کہ دونوں کا وزن برداشت نہیں کرسکتا تھا۔دونوں میں سے ایک کو جانا تھا یا پھر تختہ ہی زمیں بوس ہونا تھا۔
وہ جو کہتے ہیں کہ اپنی جان پر بن آئے، تو ماں اپنے سگے بچے کو بھی پھینک دیتی ہے، مگر حالات سنبھلنے کے بعد ڈھونڈنے اور واپس گود لینے کے لیے بھی آیا کرتی ہے۔ ایسے میں پچھلے آٹھ مہینوں سے بھولے بادشاہ عمران خان سے کیا کیا نہیں کروایا گیا۔ ایک طرف اس کی مقبولیت کے غبارے میں میں ہوا بھری جا رہی ہے۔ میڈیا کی آج بھی ڈیوٹی ہے کہ اس کی ہر ادا اور بیان کو خشوع وخضوع کے ساتھ ہمہ وقت عوام کے کانوں، آنکھوں اور دماغ کی خوراک بنایا جائے۔ ان کو مارچ سے پہلے ماڈل ٹاؤن کی طرح ارشد شریف کی لاش بھی مل جاتی ہے۔ مارچ کے دوران میں ان پر ہومیوپیتھک قسم کا حملہ بھی ہوجاتا ہے…… لیکن دوسری طرف ان کے اعمال نامہ سے وقتاً فوقتاً چھوٹے موٹے کارنامے بھی مشتہر کیے جاتے ہیں کہ ’’خبردار! اپنی اوقات میں رہو۔ تیری مقبولیت اور ولایت کا بھانڈا پھوڑنے کے لیے بس ایک کنکر مارنے کی دیر ہے۔ تیرے جسم کے ہر بال کے نیچے جو انواع و اقسام کی بد اعمالیاں ہیں، اس پر ہم نے آہنی پردہ ڈال رکھا ہے۔‘‘
دوسری طرف چیف کا تقرر اور ایکسٹینشن کے ٹینشن نے بے چارے وزیرِ اعظم کو کورونا کردیا۔ جاننے اور قیاس کرنے والے رقم طراز ہیں کہ اس دفعہ ادارہ یا اس میں کچھ مقتدر افراد کا مطالبہ یا رائے ہے کہ ’’اگر یہ نہیں، تو پھر آنے والا ان کی مرضی سے!‘‘ یعنی وزیرِاعظم اُس نام کی منظوری پر دستخط کرے جس پر ہم انگلی رکھیں۔
پاکستان میں ہر خاص و عام کو پتا ہے کہ چیف ہمیشہ اپنے ادارے کا چیف ہوتا ہے، متعین کرنے والوں کا نہیں۔ یہاں نواز شریف کی مثال سب کے سامنے ہے۔اب کی بار تو ایسا لگ رہا ہے کہ آرمی چیف کے عہدے سے جڑے طاقت کے ادارے کے علاوہ ایک محدود مفادات کا دایرہ وجود میں آیا ہے اور اس کا مقصد جانے والوں اور ان سے جڑے اندر باہر کے ٹولے کے تحفظ اور رہنے والوں کے لیے ریاستی وسایل تک رسائی برقرار رکھنا یقینی بنانا ہے۔ مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ حافظ صاحب سے کیوں کچھ لوگ یا حلقے خایف ہیں؟ کیا ان کے خیال میں حفظ کے وجہ سے ان پر جادو ٹونے کا اثر کرنا مشکل ہے؟
سیاسی عدم مداخلت، جمہوریت اور آئینی و عوامی بالادستی والے نظریے گئے تیل لینے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔