مثالی اور آئیڈیل انسان کا تصور کئی مفکرین نے پیش کیا ہے۔ مغرب میں نٹشے کا فوق البشر کا تصور اس سلسلے میں کافی شہرت رکھتا ہے۔ چوں کہ نٹشے خود اسلام اور فلسفۂ توحید سے بے خبر تھا، اس لیے اس کی مثالی انسان میں خامیاں موجود ہیں اور وہ انسانِ کامل نہیں۔
نٹشے کا ’’فوق البشر‘‘ حیوانی طاقت اور ابلیسی عقل کا ایک قوی ہیکل دیو ہے، جو عشق سے عاری ہے۔ چوں کہ مکمل انسان کے لیے مکمل جسم، مکمل عقل یا مکمل دماغ اور مکمل عشق یا مکمل قلب ضروری ہے۔ اس لیے نٹشے کا فوق البشر انسان کامل نہ بن سکا۔ مکمل جسم، مکمل عقل اور مکمل عشق، مکمل اور حسین امتزاج بھی مکمل یا آئیڈیل انسان ہوگا…… لیکن یہ آئیڈیل ہمیشہ آئیڈیل ہی ہوگا۔ یہ عملی نہیں ہوسکتا۔
افلاطون نے اپنی خیالی ریاست میں اپنے تصور کا مکمل حاکم، فلاسفر کنگ یا فلسفی بادشاہ کی شکل میں پیش کیا ہے…… لیکن فلسفی بادشاہ میں بھی عشق کی عنصر کی کمی ہے۔
الجبلی نے ’’انسانِ کامل‘‘ نامی کتاب میں انسانِ کامل کا تصور پیش کیا ہے۔ الجبلی کی ’’انسانِ کامل‘‘ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ اس وجہ سے اقبال کے ’’انسانِ کامل‘‘ کی کئی صفات کی وجہ سے قریب ہے، لیکن یہ ایسا واضح تصور نہیں رکھتا جو اقبال نے مردِ مومن کی تصور میں وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے۔
مردِ مومن، اسلامی فلسفۂ حیات کا ایک نمونہ یا مثالی انسان ہے اور اسلامی فلسفۂ حیات کا مغز اور بنیادی خیالِ توحید ہے۔
اب توحید کیا ہے؟ یہ صرف خدائے واحد پر اعتقاد نہیں بلکہ یہ باری تعالا کی صفات کو دل میں جذب اور پیدا کرنا ہے اور ’’تخلقو بالاخلاق اللہ‘‘ کے فلسفہ پر عمل کرنا ہے اور خدا تعالا کی صفاتی مشابہت پیدا کرنا ہے۔
راہِ توحید درحقیقت راہِ عشقِ الٰہی ہے اور اس کا حاصل، مومن فقیر کا کردار اور شخصیت ہے۔ تصورِ توحید سے بلند خیال دوڑانا ممکن نہیں اور اس طرح مومن فقیر کے کردار اور شخصیت سے کوئی بلند نہیں۔
جو انسان راہِ توحید پر رواں ہوجائے، تو اس میں مردِ مومن کی صفات فروغ پاتی ہیں اور یہ صفات اس میں روز بہ روز مستحکم ہوتی جاتی ہیں…… اور جگہ پکڑتی ہیں۔ درحقیقت یہہی صفاتِ الٰہی ہیں۔
مردِ مومن کی مکمل شکل آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اپنی شخصیت ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اسوۂ حسنہ پر چلنے کی کوشش کرے اور اپنے آپ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صفات پیدا کرے۔
اقبال کے مومن کا بھی یہی تصور ہے۔ وہ مردِ مومن میں یہ صفات دیکھتے ہیں اور مردِ مومن میں بالکل یہی صفات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اس وجہ سے اقبال کا مردِ مومن، مردِ آزاد، مردِ قلندر، مردِ کامل اور مردِ مولا والی صفات ہے، نہ کہ نٹشے کی طرح کا ایک خیالی انسان…… بلکہ یہ ایک با عمل و باکردار مومن ہے۔ اسلام نے ایسے انسان پیدا کیے اور ہمیشہ پیدا کرے گا۔
اس طرح علامہ نے مردِ مومن کی یہ صفات منظوم صورت میں بتائی ہیں:
ہاتھ ہے اللہ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفرین، کارکشا، کار ساز
خاکی و نوری نہاد، بندۂ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دلِ بے نیاز
اس کی اُمیدیں قلیل، اس کے مقاصد جلیل
اس کی ادا دل فریب، اس کی نگاہ دل نواز
نرم دم گفت گو، گرم دم جستجو
رزم ہو یا بزم ہو، پاک دل و پاک باز
(نوٹ:۔ 9 نومبر یومِ اقبال کے حوالے سے ہماری تجویز ہے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتیں ہر سال یکم نومبر سے دس نومبر تک عشرۂ اقبال کے طور پر منانے کا اہتمام کریں۔ ان ایام میں میڈیا پر عوام خصوصاً نوجوانوں کو اقبال کی تعلیمات سے آگاہ کیا جائے۔ کیوں کہ یہ وقت کی اشد ضرورت ہے، راقم الحروف)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔