دنیا بدل چکی ہے۔ ریاستی و حکومتی مشینری میں جدت آچکی ہے۔ انسان کا انسان پر انحصار کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے۔ ضروری کام اب زیادہ تر مشینوں کے ذریعے سرانجام دیے جارہے ہیں۔ کون سا شعبہ ہے جس میں جدت نہیں آئی؟ طب کی دنیا میں تو محیر العقول انقلابات رونما ہوچکے ہیں۔ لیزر ٹیکنالوجی کے بعد مزید ترقی ہوئی ہے اور مختلف پائپوں اور کیمروں کے ذریعے آپریشن کیے جاتے ہیں…… جن کو عرفِ عام میں ’’کیمرہ آپریشن‘‘ کہا جاتا ہے۔
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
ترقی یافتہ ممالک میں تو اب ’’ٹیلی میڈیسن‘‘ کا ریس لگا ہوا ہے۔جس میں مریض کو ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا پڑتا، بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے معاینہ اور دوا تجویز کی جاتی ہے۔ آمد و رفت کے شعبے میں خوش کن تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ کئی ایک ممالک میں خود کار گاڑیوں کی محدود پیمانے پر سروس کا آغاز کیا جاچکا ہے اور مستقبل انھی کی ہے۔ یوں ڈرائیور کے بغیر بجلی سے چلنے والی یہ گاڑیاں ٹریفک قوانین پر مکمل عمل درآمد کریں گی، جس سے دیگر فواید کے ساتھ ٹریفک حادثات میں کمی بھی واقع ہوجائے گی۔
’’روبوٹ ٹیکنالوجی‘‘ نے انٹرنیٹ کے ساتھ مل کر عام انسان کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ گھر کے صحن میں گھاس کاٹنے کے لیے بھی روبوٹ دستیاب ہیں اور دشمن کے علاقے میں چُپکے سے مہلک حملہ کرنے کے لیے بھی ڈرون موجود ہیں۔
جنگ کے میدان میں اب پیدل فوج سے زیادہ کار آمد ’’ٹیکنالوجیکل فورس‘‘ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوکرائن جیسے چھوٹے اور نسبتاً کم زور ملک نے امریکن اور یورپین ٹیکنالوجی کی مدد سے اب تک روس جیسی بڑی فوجی طاقت کے ساتھ جنگ جاری رکھی ہوئی ہے۔ جنگی دنیا میں بڑے ہتھیاروں کی جگہ چھوٹے اور زیادہ مہلک ہتھیاروں کی تیاری کا رجحان بڑھ رہا ہے۔
تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدیؐ اور تحریکِ انصاف میں مماثلت:
https://lafzuna.com/blog/s-29960/
آن لائن دنیا میں تقریباً وہ تمام سہولیات میسر ہیں جو حقیقی دنیا میں دستیاب ہیں۔ معیار، مقدار اور احساسات کی تفریق پر بات ہوسکتی ہے…… مگر یہ مانے بغیر چارہ نہیں کہ دنیا وہ نہیں رہی جو آج سے ایک یا دو عشرے پہلے تھی…… اور مستقبلِ قریب میں دنیا ایسی نہیں ہوگی، جس شکل میں آج ہے۔
تغیر و تبدل کا یہ سفر مختلف ممالک میں مختلف رفتار سے سہی، لیکن جاری ہر جگہ ہے۔ انٹرنیٹ نے لیکن اس سفر کو مہمیز ضرور کردیا ہے…… اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان جیسے غریب ممالک جن کے پاس ریاستی ڈھانچا اور علم و تحقیق کے ادارے اتنے مظبوط نہیں، وہاں مذہبی طبقے کی اکثریت ابھی تک سوشل میڈیا کو فحاشی اور دجالی فتنہ سمجھتی ہے…… جب کہ ریاست اور حکومت کے لیے آسان ترین نسخہ سوشل میڈیا پر پابندی ہی ہے، جو گاہے بگاہے لگائی جاتی ہے۔ یہی صورتِ حال ایران، شمالی کوریا، افغانستان اور دیگر پس ماندہ ممالک کی بھی ہے۔ اس بدلتی دنیا میں وہی ممالک عوامی یا خونی انقلابات سے بچ سکتے ہیں، جو نوشتۂ دیوار پڑھ سکتے ہیں…… اور حقایق کا سامنا کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ کیوں کہ انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی نے طبعی سرحدات (فزیکل بارڈرز) کو غیر موثر کردیا ہے۔ اب ایران میں جاری عوامی احتجاج ہو یا افغانستان میں جامعات کی طالبات کے حصولِ علم کے لیے طالبان کے خلاف مظاہرے ہوں، سب کچھ دنیا بھر میں براہِ راست لوگ دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے طالبان ہوں، یا ایران کے سخت گیر مذہبی طبقے کا حکم ران…… ہر دو دنیا کو باور کرانے کی کوشش میں ہیں کہ ان کے ہاں ’’انسانی حقوق‘‘ کی پاس داری کی جاتی ہے۔
ریاستِ سوات کے خاتمے کا مروڑ:
https://lafzuna.com/history/s-29943/
یہ بات یاد رہے کہ دنیا جہاں میں جہاں بھی عصری ’’ٹیکنالوجیکل‘‘ تبدیلی کو مثبت انداز میں قبول نہیں کیا گیا، وہاں بھی یہ تبدیلی آئی ہے۔ نتایج بے شک نقصان دہ ہی سہی۔ پاکستان میں اس وقت مختلف علاقوں میں جو عوامی بیداری نظر آرہی ہے، یہ بھی تبدیلی ہی کا سفر ہے…… لیکن زمینی حقایق یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان کے مقتدر حلقے اب تک اس تبدیلی کو مثبت انداز میں قبول کرنے سے کترا رہے ہیں۔ اس لیے کبھی اس عوامی بیداری کا میڈیائی بلیک آوٹ کیا جاتا ہے اور کبھی غداری کی دفعات سے مخالف آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔ اگرچہ تاریخ کا سبق یہی ہے کہ نوشتۂ دیوار نہ پڑھنے والے قصۂ پارینہ بن جاتے ہیں۔
ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دنیا بدل چکی ہے۔ اب ہمیں بھی خود کو بدلنا ہوگا۔ عوامی بیداری کو مثبت رُخ دے کر ریاست اس کو خندہ پیشانی سے اپنائے۔ وگرنہ زور، دھونس، دھاندلی، لاٹھی اور گولی کی سرکار اب کہیں بھی دیرپا چلنے والی نہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔