ہمارے پڑوس میں ایک سبک دوش پولیس اہل کار رہتا ہے۔ ضعیف العمر ہے، مگر یار باشی کے سبب پورے محلے میں ’’لالا‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ لالا پنج وقتہ نمازی ہے۔ مسجد کی خدمت میں بے مثال ہے۔ کھانے کا شوقین اور محفلوں کی جان ہے۔ بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ’’دو ٹوک‘‘ بات کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ اس لیے محلے کے بچے اسے چھیڑتے ہیں…… اور جواب میں مغلظات کے ساتھ ساتھ پند و نصیحت سے بھری باتیں سنتے ہیں…… جب کہ ہم عمر ’’لالا‘‘ سے بحث نہیں کرتے۔ کیوں کہ وہ کسی اور کی بات کو مانتا نہیں۔
ویسے تو ڈھیر سارے واقعات اس حوالے سے مشہور ہیں…… مگر چند ایک تو بالکل بے مثال ہیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی موقع پر محلے کے ایک تعلیم یافتہ بندے نے لالا سے پوچھا کہ ’’لالا! کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا گول ہے اور یہ گھومتی بھی ہے؟‘‘ یہ سنتے ہی پہلے تو لالا چند لمحوں کے لیے حیران ہوا پھر جلد ہی خود کو سنبھالتے ہوئے اپنی خوب صورت سفید داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا: ’’تم کیا بکواس کرتے ہو، دنیا کیسے گھومتی ہے؟‘‘
پڑھے لکھے محلے دار نے لالا کو کئی طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کی……مگر لالا کا منطق ایک ہی تھا کہ ’’اگر دنیا گھومتی ہے، تو ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ کسی صبح میں بیدار ہوا اور گھر سے نکلا، تو ہمارا گھر کراچی یا لاہور پہنچا ہوا تھا۔ مَیں تو سالوں سے اسی گاؤں، اسی گھر میں رہتا ہوں۔ کبھی میری آنکھ کہیں اور نہیں کھلی!‘‘
اس جواب پر باقی سننے والے ہنستے، تو لالا سب کو گالیوں سے نوازتے ہوئے کہتا: ’’آپ سب لوگ پاگل ہیں، اگر میرا گھر کراچی یا لاہور نہیں پہنچتا، تو پھر یہ دنیا کیسے گھومتی ہے؟ جواب دیں!‘‘ لوگ پھر ہنس لیتے۔ کیوں کہ لالا کا جواب لالا کے مطابق تو درست تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ اگر دنیا گھومتی ہے، تو کسی رات میرا گھر بھی کراچی یا لاہور وغیرہ پہنچ جانا چاہیے، تاکہ کم از کم گاؤں کی غربت سے نجات تو حاصل ہو۔ مگر از روئے سائنس یہ بات غلط تھی اور سننے والے اس لیے ہنس رہے تھے کہ انھیں پتا تھا کہ دنیا گھومتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی خاص بندے کا گھر یہاں سے وہاں پہنچ جائے…… بلکہ دنیا بحیثیتِ مجموعی گردش میں ہے۔ اس لیے یہ نہیں ہوتا کہ کسی ملک کاپہاڑ یا کسی کا گھر گھومتے گھومتے کسی اور شہر یا ملک منتقل ہوجائے۔
لالا کی اس کہانی کا ہماری ملکی سیاست سے کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں، اس کا اندازہ آپ خود لگا لیجیے۔ کچھ دنوں سے جو صورتِ حال بنی ہے، اس میں کم ازکم یہ واضح ہے کہ تقریباً ہر فریق نے نہ سمجھنے کی ٹھانی ہوئی ہے۔ حقیقت کچھ بھی ہو، لیکن سچ ہر کسی کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ ایک فریق کا ہیرو دوسرے فریق کا ویلن ہے۔ ایک کا سپہ سالار دوسرے کا ’’میر جعفر ومیر صادق‘‘۔ اس طرح ایک کے لیے ’’سائفر کہانی‘‘ جھوٹ کا پلندہ ہے، تو دوسرے کے لیے حقیقت اور ملک مخالف سازش۔
اب تک بظاہر سیاسی حریفوں کے مابین مخالفت ہی ہوا کرتی تھی…… لیکن اب حالات اتنے بدل گئے ہیں کہ جو ’’نیوٹرل‘‘ ہونے کے دعوے دار ہیں، وہ اب تک تو پسِ پردہ تھے، لیکن کیا وہ نیوٹرل تھے، ہیں اور رہیں گے؟ یہ سوالات اپنی جگہ مگر کم از کم وہ پسِ پردہ تو تھے۔ اب مگر ایسا کیا ہوا کہ وہ بھی سامنے آگئے ہیں؟ یوں لگتا ہے جیسے پردے گر گئے ہوں، سٹیج تیار ہو اور کھیل کا اختتام ہونے والا ہو؟
ایسا ہے یا نہیں……؟ یہ تو ہر گزرتے لمحے کے ساتھ واضح ہوتا چلا جائے گا…… مگر یہ سب کیوں ہے؟ ہر فریق کا صرف اپنے بیانیے کو درست کہنا اور مخالفین کو جھوٹ ثابت کرنا…… کیا اہلِ پاکستان میں ہمارے محلے دار ’’لالا‘‘ کی روح حلول کرگئی ہے؟ اس لیے انھوں نے بھی نہ سمجھنے کی ٹھان لی ہے؟
اب تو بچہ بچہ سمجھ رہا ہے کہ ملک اور ریاست میں یہ افراتفری بے سبب نہیں اور نہ یہ عوام کی وجہ ہی سے ہے…… بلکہ جن کے سبب حالات نے یہ صورتِ حال اختیار کی ہوئی ہے، وہ تمام فریق اب بدحواس بھی ہیں۔
اب حل یہ ہے کہ سب ’’لالا‘‘ کی طرح بہ ضد نہ ہوں، بلکہ صورتِ حال کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ دنیا گھومتی ہے، تو کیا ہوتا ہے؟ حالات بدلتے ہیں، تو سیاست بھی بدلتی ہے اور ریاستی اُمور اور ذمے داریاں بھی۔ 75 سال ہوگئے، اب تو ہمیں بالغ نظر ہونا چاہیے۔ حالات کا ادراک وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دینے سے بہتر ہے کہ ضد چھوڑ دیا جائے اور ملک و قوم کی خاطر اپنی اپنی انا کا گلہ گھونٹ دیا جائے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔