ضلع سوات میں دہشت گردی کے نام پر جعلی مقابلے، بھتا خوری، جبری گم شدگی اور ریاستی اداروں کے ماورائے آئین اقدامات کے خلاف اسلام آباد میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے جمع ہونے والے مظاہرے میں اسلام آباد کے مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ، اساتذہ اور دیگر شہری شامل تھے۔
مظاہرین نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ مُٹھی بھر دہشت گردوں سے مذاکرات کے بارے میں قوم کو آگاہ کیا جائے ۔ دہشت گردی کے نام پر ہونے والے جعلی مقابلوں، بے گناہ افراد کو بلاتحقیق دہشت گرد قرار دینے اور قتل کرنے کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں۔ بائی پاس روڈ واقعہ میں ملوث سیکورٹی اہل کاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سوات پولیس اور دیگر سول اِداروں کو ترجیحی بنیادوں پر مستحکم کیا جائے۔ اگر فوج یا رینجرز کی ضرورت ہو، تو انھیں ں مقامی پولیس کی سرکردگی میں کارروائی کا پابند کیا جائے۔ سوات پولیس اور انتظامیہ کو بہترین افسروں اور اضافی بجٹ کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف سیسہ پلایی ہوئی دیوار بنایا جائے۔
مظاہرین نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے نام پر مزید کرفیو، چیک پوسٹوں اور مار دھاڑ کے لیے ہرگز تیار نہیں، نہ کسی صورت اپنا گھر بار ہی چھوڑیں گے۔
انھوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت اپنے سیاسی اختلافات سے جان چُھڑا کر سوات میں سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے اقدامات کریں۔ وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا، وزیرِ اعظم اور دیگر وفاقی وزرا سوات کے دورے کرکے عوامی مسایل کی طرف توجہ دیں۔ انصاف کے بغیر امن نہیں آسکتا۔ ریاستی اداروں کو سیاسی قیادت کی رہنمائی میں عوام کے اصل مسایل کی طرف توجہ دیں، تو مُٹھی بھر دہشت گرد، جن کا حقیقت میں کوئی وجود نہیں، اپنی موت آپ مرجائیں گے۔