ہمارے ملک میں دو اور مجوزہ آڈیوز کہ جن میں اُس وقت کے وزیرِ اعظم، کچھ وزرا اور ان کے سیکریٹری گفتگو کر رہے تھے۔ یہ آنے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے، عوام میں عموماً اور خواص یعنی سیاسی و صحافتی حلقوں میں خصوصاً۔ ایک طرف حکومت اور خاص کر مسلم لیگ ن اس آڈیو کے بعد ’’سائفر تھیوری‘‘ (Cypher Theory) کو سو فی صد ڈراما کا ثبوت قرار دے رہی ہے، جب کہ تحریکِ انصاف اس آڈیو کو اس بات کے ثبوت کے طور پر لے کر بیان کر رہی ہے کہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ’’سائفر‘‘ ایک حقیقت ہے…… اور عمران حکومت کو ایک بیرونی سازش سے تبدیل کیا گیا۔ چوں کہ الیکٹرانک میڈیا پر بار بار لفظ ’’سائفر‘‘ استعمال ہو رہا ہے، اس وجہ سے ہمارے اکثر لوگ اس کو کچھ خاص سمجھ کر رائے بنا رہے ہیں…… بلکہ تحریکِ انصاف کے تو بہت سے نوجوان یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ ’’سائفر‘‘ کا مطلب سازش و مداخلت ہی ہے۔
عمران خان کے سائفر بیانیہ کی حقیقت جاننے سے پہلے یہ بات جان لیں کہ ’’سائفر‘‘ ہوتا کیا ہے؟
کسی بھی ملک میں موجود سفارت خانے کی اولین ذمے داری یہ ہوتی ہے کہ وہ مذکورہ ملک اور اپنے ملک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے اور تمام معلومات خصوصاً جن کا تعلق دونوں ممالک کے درمیان مفادات پر مبنی ہو، ایسی معلومات کا تبادلہ کرتا ہے۔
سائفر (Cypher) ایسے مراسلے کو کہتے ہیں جو مخصوص اشارتی زبان میں ہوتا ہے۔ ہر سفارت خانے میں ایک کیبل روم ہوتا ہے کہ جہاں سے الیکٹرانک کیبل یعنی برقی تار کے ذریعے پیغام بھیجا جاتا ہے۔ اس کمرے تک رسائی بہت ہی مخصوص اور اہم لوگوں کی ہوتی ہے، شاید صرف سفیر اور چند اعلا ترین افسران کی۔ سو ایسی تمام معلومات جو کہ ہائی کلاسیفائڈ یعنی حساس ترین ہوتی ہیں، وہ سفیر صاحب مخصوص زبان میں اپنی وزارتِ خارجہ میں بھیجتے ہیں…… اور یہاں موجود سائفر کے ماہرین اس کو ’’ڈی کوڈ‘‘ کرکے وزیرِ خارجہ کو دیتے ہیں۔
سائفر کی زبان ہر ملک کی اپنی ایجاد کردہ ہوتی ہے۔ اس کو باقاعدہ خارجہ و سفارتی امور کے افسران کو پڑھایا جاتا ہے اور وقتاً فوقتاً اس کو تبدیل بھی کیا جاتا ہے۔
اب یہ جو معاملہ ہوا، اس میں موصولہ اطلاعات کے مطابق بات صرف اتنی تھی کہ ہماری حکومت خاص کر وزراتِ خارجہ اور وزیرِ اعظم کی یہ شدید خواہش تھی کہ امریکی صدر ایک بار ہمارے وزیرِ اعظم سے فون پر بات کرلیں، تاکہ ان کو اس غلط فہمی بارے مطمئن کیا جاسکے کہ جو انڈین لابی کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ میں تھی۔ کیوں کہ ہمارے ’’عظیم دانش ور وزیرِ اعظم‘‘ بائیڈن کے مخالف ٹرمپ کی انتخابات کے دوران میں واضح حمایت کرچکے تھے۔ سو ہمارے سفارت کار اسد مجید نے اسی سلسلے میں امریکی خارجہ کے ذمے دار ’’ڈونلڈ لو‘‘ سے ملاقات کی اور اس کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ بائیڈن کو عمران خان کو فون کرنا چاہیے…… اور آپ اس میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس پر ڈونلڈ لو نے کہا کہ جب انتخابی مہم میں آپ کے وزیرِ اعظم نے ٹرمپ کی واضح حمایت کی۔ پھر آپ آئے دن امریکہ کے خلاف ٹویٹ کرتے ہیں۔ سو ان حالات میں، مَیں کیسے اپنے صدر کی بات کروانے کی کوشش کرسکتا ہوں؟ البتہ آپ کے ہاں عدم اعتماد آچکا ہے اور اگر وزیرِ اعظم بدلتا ہے، تو پھر مَیں کوشش کرسکتا ہوں۔
اور یہی بات چیت سفارت کار نے ’’سائفر‘‘ کی شکل میں بھیج دی۔ یہاں پر اعلا عسکری و انتظامی قیادت نے وزیرِ اعظم کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ جناب! آپ امریکہ سے تعلقات بحال کریں…… اور ایسے اقدامات یا بیانات سے گریز کریں کہ جو پاک امریکہ تعلقات کو خراب کرتے ہوں یا جن سے پاکستان کے مفادات کو نقصان ہو۔ تب خان صاحب اس پر بہت ’’ڈی فینسیو‘‘ تھے…… لیکن پھر عین عدم اعتماد کے وقت ان کے سیکریٹری جناب اعظم خان کا دماغ متحرک ہوا اور اس کو اور رنگ دے دیا گیا۔ ویسے بھی تب اعظم خان کو ’’ایوب کا قدرت ﷲ شہاب‘‘، ’’ضیا کا صدیق سالک‘‘ اور ’’مشرف کا طارق عزیز‘‘ کہا جاتا تھا۔ بس پھر سیاسی حکمت عملی کے طور پر خان صاحب نے چائے کی پیالی میں طوفان بلکہ سونامی برپا کر دیا…… اور جس طرح خان صاحب نے اپنے سیاسی کارکنان کو فین کلب کی شکل دی ہے، تو اُسی فین کلب نے اس کو من و عن تسلیم بھی کرلیا۔
کیا عظیم شعور پایا ہے اس فین کلب نے کہ اعظم خان و عمران خان کی آڈیو آگئی…… اور خان نے بہت چالاکی سے کَہ دیا: ’’دیکھ لو، سائفر کی حقیقت مان لی گئی!‘‘ اور فین کلب نے باقاعدہ واہ واہ کرنا بھی شروع کردیا۔
مَیں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ غداری، کرپشن وغیرہ تو محض سیاست دانوں کو پھانسنے اور بلیک میل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ وگرنہ ان میں کوئی خاص حقیقت نہیں ہوتی، لیکن ہمارے سیاست دانوں کا اصل قصور یہ ہے کہ وہ وقتی مفادات کے لیے ہماری قوم، خاص کر نوجوان نسل کو احمق تو بناتے ہیں، لیکن ساتھ میں ان کو گم راہ بھی کر دیتے ہیں، انھیں جاہل بنا دیتے ہیں اور قوم کی یہی جاہلیت اور گم راہی ملک کی بحیثیتِ مجموعی تباہی کا پیش خیمہ بن جاتی ہے۔ اس دور میں یہ کام عمران خان صاحب بہت ہوشیاری سے کر رہے ہیں۔ حالاں کہ وہ اس سائفر کی حقیقت سے خود بخوبی آگاہ ہیں، اور بہت کمال سے اس پر کھیل بھی رہے ہیں۔
یہاں ہم صحافتی اداروں کو بھی الزام دیں گے کہ وہ غیر جانب داری کا خیال نہیں رکھ پاتے، بلکہ کسی کی مخالفت یا حمایت میں ایک بیانیہ لے کر چلتے ہیں۔ ان کا مقصد قوم کو تعلیم اور معلومات دینا نہیں ہوتا، بلکہ وہ اپنے معاشی مفادات کے اسیر بن کر باقاعدہ ایک فریق بن جاتے ہیں۔ مجھے تو اب تک کسی معروف میڈیا ہاؤس کی غیر جانب داری نظر نہیں آرہی۔ بس ایک لائن کو لے کر چل رہے ہیں، بشمول سائفر کے معاملہ کے۔
میری یہ بات لکھ لیں کہ تاریخ غیر جانب دار اور بے رحم ہوتی ہے۔ زیادہ دور نہیں بس دس پندرہ سال بعد حقایق سامنے آجاتے ہیں۔ اسد، مجید اور اعظم خان نے ایک دن ریٹائر ہونا ہے اور پھر انھوں نے کتابیں لکھنی ہیں۔ شاہ محمود نے ایک دن جماعت تبدیل کرنی ہے اور پھر بیانات دینے ہیں…… لیکن تب تک شاید ہماری جہالت اور گم راہی ہمیں مزید ماضی کی طرف دھکیل دے۔
سو آج قوم کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ ہم کب تک ان جہالتوں، جذباتی سیاست اور سیاسی لیڈران کی محبت میں اپنا اور ملک کا نقصان کرتے رہیں گے؟ ہم کب تک شاہ دولہ کے چوہے بن کر دوسروں کے سیاسی مفادات کے لیے استعمال ہوتے رہیں گے۔
سائفر مسئلے پر ہم نے تحریکِ انصاف پر تنقید کی۔ کیوں کہ یہ اس وقت کا نیا موضوع ہے، وگرنہ اس میدان میں ہمارے تمام نہیں تو اکثر سیاست دان ایسے ہی ہیں۔ ہر ایک بوقتِ ضرورت اس گم راہی کو پھیلانے میں جتا ہوا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ قوم جلد از جلد اس حقیقت کو سمجھ کر مناسب رویے کا مظاہرہ کرے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔