آفاتِ سماوی، قانونِ فطرت اور منشائے خداوندی ہیں…… جن میں آندھی، طوفان باد و باراں اور سیلاب وغیرہ شامل ہیں۔ دنیا کے مختلف خطے مذکورہ آفاتِ سماوی سے متاثر رہے ہیں۔
خطۂ پاکستان میں بھی برسات کے موسم میں سیلاب آتے رہے ہیں، لیکن جولائی 2010ء میں سیلاب نے پاکستان میں کافی تباہی مچائی، لیکن 2022ء کے حالیہ سیلاب نے 2010ء کے سیلاب کی نسبت دو گنی تباہی مچائی۔ یہاں تک کہ پورے ملک کا انفراسٹرکچر تباہی سے دوچار ہوا۔ چالیس ہزار چھوٹے بڑے دیہات اُجڑ گئے۔ ان میں کئی دیہات صفحۂ ہستی سے مٹ گئے اور تین کروڑ تک آبادی سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئی۔
سائنٹفک شواہد بتاتے ہیں کہ عالمی حدت میں اضافہ، موسمیاتی تغیرات اور عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں جن میں زیادہ تر کردار صنعتی ممالک کا ہے…… کے پیدا کردہ مسایل سے پاکستان بری طرح متاثر ہوا ہے۔ حالاں کہ گلوبل وارمنگ میں پاکستان کا حصہ ایک فی صد ہے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونی گوترس نے بھی کہی۔ حالیہ سیلاب کی وجہ سے وطنِ عزیز کا 40 فی صد رقبہ غرق ہوا۔
حالات بتاتے ہیں کہ بڑے صنعتی ممالک اپنی ترقی اور حصولِ دولت کے لیے اپنی عادت کبھی نہیں چھوڑیں گے، آیندہ بھی اپنی بے اعتدالیوں کی بدولت ماحولیاتی تغیرات کا سبب بنیں گے اور ہمارے لیے مزید مسایل پیدا کریں گے…… لیکن آج ہمارے لیے یہ غور کا مقام ہے کہ کیا ہم آیندہ کے لیے حفظ ماتقدم کے طور پر کچھ کریں گے بھی یا اس مصرعے کے مصداق
وہ اپنی خونہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
ہاتھ پر ہاتھ دھرے تباہی و بربادی کو اپنا مقدر سمجھیں گے۔ آج کے حالات ہمارے حکم رانوں اور عوام کے لیے تازیانہ ہیں کہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوکر اس سلسلے میں عملی اقدامات کا آغاز کریں۔ سیلابی پانی کو محفوظ کرنے اور اس کے نقصانات سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ڈیم بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے فالتو پانی کو بجلی اور زراعت کی ترقی کے لیے استعمال میں لانا ہوگا۔ ایک ہمہ گیر منصوبہ بندی کے تحت ندیوں اور دریاؤں کے پانی کی گزرگاہوں کو تجاوزات سے خالی کرکے ہم مستقبل میں سیلاب کی تباہی سے بچ سکتے ہیں۔ ملک کے تمام علاقوں میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نئے شہر، دیہات اور تعمیرات ضروری ہیں۔ ان تدابیر پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہم ان شاء اللہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے ممکنہ حد تک بچ سکیں گے ا ور قدرتی آفات سے بہتر طور پر نبرد آزما ہوسکیں گے۔
زمانے کا اصول ہے کہ جو قومیں محنت کرکے اور منظم منصوبہ بندی کے تحت اپنی پالیسیاں وضع کرتی ہیں، وہ ہمیشہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہیں اور مصیبت کے وقت انھیں دوسروں کے آگے دستِ سوال دراز کرنا پڑتا ہے، نہ ان کی انا مجروح ہی مجروح ہوتی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔