سوات میں کیا پورے خیبر پختونخوا میں آٹا من مانی قیمتوں پر فروخت ہو رہا ہے۔ آج ایک دام کل اُس سے زیادہ دام، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پنجاب کا آٹا 2300 روپے میں 20 کلوگرام کا تھیلا غریب عوام لینے پر مجبور ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے، وہاں 1050 جب کہ یہاں ٹھیک 1300 روپے زیادہ گاہک سے وصول کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف تندور پر روٹی کا وزن روز بہ روز کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے کہ تندور والے بھی زیادہ قیمت ادا کرکے آٹا خرید رہے ہیں۔ وہ بے چارے بھی مجبور ہیں۔
قارئین! بھٹو کے دورِ حکومت سے پہلے انڈیا سے جنگ کی وجہ سے تازہ تازہ ملک دو نیم ہوا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے راشن کارڈ کا سسٹم رایج کیا تھا۔ پارٹی کے کارکنوں کو اس سے کاروبار بھی مل گیا تھا اور عوام کو سرکاری کم نرخ پر روزمرہ کی اشیائے خوردنی بغیر کسی تکلیف اور رُکاوٹ کے ملتی تھیں۔ یہاں تو یوٹیلیٹی اسٹور پر اکثر اشیائے ضروریہ ناپید ہوتی ہیں۔ اگر اتفاقاً کوئی چیز دست یاب بھی ہو، تو وہ بھی سٹور والوں کی بلیک مارکیٹنگ کی وجہ سے احسان جتا کر ملتی ہے۔ وہ بھی قِطار میں کھڑے ہوکر اور شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی طلب اور درج کرکے مذکورہ چیز ملتی ہے۔ ایسے میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔
سوات میں حالیہ سیلاب نے جو جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے، اس کی تلافی رواں مالی سال تو کیا آنے والے سال میں بھی نہیں کی جاسکتی۔ سیلاب سے جو لوگ براہِ راست متاثر ہوئے ہیں، ان کے ساتھ مالی معاونت کرنے پر ابھی تک صوبائی اور مرکزی حکومتیں خاموش ہیں۔ انھیں مختلف ادارے اور این جی اُوز صرف راشن مہیا کرتے ہیں اور اُس میں بھی وہ روایتی گرم جوشی دکھائی نہیں دیتی۔
سوات میں اربوں کا نقصان عوام کا بھی ہوا ہے اور ریاست کا بھی۔ سیلاب سے پورا سوات متاثر ہوا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ سوات آفت زدہ علاقہ قرار دیا جاتا اور ایمرجنسی بنیاد پر دوبارہ بحالی کے لیے وہ اقدامات کیے جاتے، جو ایسے موقعوں پر کیے جاتے ہیں، لیکن سوات میں بدقسمتی سے دہشت گردی کی وجہ سے ’’لا اینڈ آرڈر‘‘ کا مسئلہ بیچ میں در آیا…… جب کہ مرکزی وزیرِ داخلہ اور صوبائی فوکل پرسن اس اہم مسئلے کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔ دوسری طرف سوات کے اہم مقامات پر سیکورٹی فورسز تعینات ہوچکی ہیں۔ صبح و شام ہیلی کاپٹر کی سماعت خراش آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
وزیرِ اعلا محمود خان کے حلقۂ نیابت میں رات کو لوگ سو نہیں سکتے۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہونے کو ہے۔ گھروں کی چھتوں پر سیکورٹی والے اور گھروں کے دروازوں پر دہشت گردوں کی موجودگی میں کوئی کیسے سو سکتا ہے؟ اگر چہ اب امن کے رکھوالوں نے حالات قابو کرلیے ہیں، مگر وحشت پھر بھی باقی ہے۔
سیدو شریف اور مینگورہ کی سڑک پر رات کو پولیس والے شریف شہریوں کو جامہ تلاشی کے عمل سے گزارتے ہیں۔ شریف شہریوں اور دہشت گردوں میں فرق ہونا چاہیے۔ سارا نزلہ عوام پر نہیں گرانا چاہیے۔ اب اللہ تعالا کے فضل و کرم سے عوام بیدار ہیں۔ اس د فعہ عوام ہر حال میں امن کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوں گے اور ملک دشمنوں کو بھرپور جواب دیں گے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔