آج کے دور میں سوشل میڈیا کی شکل میں بہرحال معلومات وغیرہ بارے بہت آسانی ہو چکی ہے…… اور آپ اپنی ذاتی و اجتماعی معلومات و حالات کا باآسانی دوستوں یا عام عوام کے ساتھ تبادلہ کرسکتے ہیں…… لیکن سچ یہ ہے کہ یہ سوشل میڈیا تیسری دنیا کے ممالک اور خاص کر پاکستان جیسے ملک میں ایسے ہی ہے جیسے ’’’بندر کے ہاتھ میں استرا۔‘‘
ہماری اکثریتی آبادی اس میڈیم کو سمجھنے سے محروم ہے اور ایک بڑی اکثریت تو اپنے سیاسی، مسلکی، علاقائی یا خاندانی تعصب کی وجہ اس کا بہت غلط استعمال کرتی ہے…… اور پھر بہت سے لوگ اپنے نظریات یا وابستگی کی وجہ سے اس طرح کی پوسٹوں کی حمایت یا مخالفت بنا سوچے سمجھے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب تو خیر سے جب سے کپتان صاحب سیاست کے شہزادے بنے ہیں، تب سے تو حد ہی ختم ہوگئی ہے۔
ہمارے ہاں تحقیق کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے اور دوسرا لوگوں کی اکثریت پڑھنے سے زیادہ پڑھانے، سمجھنے سے زیادہ سمجھانے اور سننے سے زیادہ بتانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ آپ کسی خاص سیاسی، مذہبی یا خاندانی تعصب میں سو فی صد بالکل غلط اور کذب پر مبنی پوسٹ فیس بک یا ٹوئٹر پر شیئر کر دیں۔ اُس سیاسی، مذہبی یا خاندانی نظریہ سے وابستہ لوگ بغیر سوچے سمجھے، بنا جانے شیئرنگ کا ریکارڈ بناتے جائیں گے۔
یہاں ایک دلچسپ واقعہ اپنے قارئین کے لیے بیان کرتا چلوں، ہمارے دو عزیز دوست تھے جن میں سے ایک اب اﷲ کو پیارے ہوچکے ہیں۔ ایک کیانی خاندان کا راجپوت تھا…… اور دوسرا چوہدری خاندان کا جاٹ۔ خاندان کی فضیلت پر بحث کے دوران میں کیانی صاحب نے چوہدری صاحب پر طنز کیا کہ تم کہاں سے آئے ہو…… جب کہ اصل تاریخ یہ ہے کہ جب قوموں کا فیصلہ ہو رہا تھا تب صوفے تو نہ تھے…… سو لوگ دریوں پر بیٹھتے تھے۔ سو سب معززین نے قوموں کی تقسیم کرلی…… تب تمھارے بزرگ داخل ہوئے، جب مجلس ختم ہو رہی تھی اور جوں ہی تمھارے بزرگ داخل ہوئے، تو کمرے میں یہ اعلان ہو رہا تھا کہ بس ختم اب چاؤ دری! یعنی دری اُٹھا لو محفل ختم ہوگئی ہے۔ (’’چاؤ‘‘ پنجابی زبان میں اُٹھانے کو کہتے ہیں) سو تمھارے بزرگوں نے سمجھا کہ ہمیں چوہدری خاندان مل گیا ہے۔ حالاں کہ تم اصل میں چوہدری نہیں بلکہ ’’چاؤ دری‘‘ ہو۔
اس پر ایک قہقہہ گونجا اور میرا دوست چوہدری ایوب مسکین صورت بنا کر بولا، کیانی صاحب! اب آپ کو کیا کہوں…… تاخیر ہمارے بزرگوں نے کی۔ اس پر ایک اور قہقہہ گونجا۔
اگلے روز ہمارے ساتھ کام کرنے والا ایک شریر نوجوان کیانی صاحب کے پاس گیا اور ان سے بہت سنجیدگی سے کہا کہ کیانی صاحب! مَیں آپ کی معلومات سے بہت متاثر ہوا ہوں۔ آپ کل چاؤ دری والی بات دوبارہ بتائیں۔ مَیں ویڈیو ریکارڈ کروں گا۔ یوں اس نے کیانی صاحب کی سادگی سے ان کی ویڈیو بنا لی اور فیس بک پر ازراہِ تفنن اَپ لوڈ کر دی۔
حیرت انگیز طور پر اس کی شیئرنگ ہزاروں میں ہوئی اور نیچے کمنٹس لاکھوں میں ہوئے۔
سو یہ حالت ہے ہمارے سوشل میڈیائی سقراطوں بقراطوں کی۔ بنا جانے، بنا سوچے سمجھے بس شیئرنگ ہوتی جاتی ہے۔
قارئین! اتنی لمبی چوڑی تمہید اس وجہ سے باندھنے کی ضرورت پیش آئی کہ آج کل پورا سوشل میڈیا ’’ٹرانس جینڈر بِل‘‘ کو لے کر سوشل میڈیا پر ’’مفتی‘‘ بنا ہوا ہے۔ مَیں نے کم از کم دو درجن ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ پڑھا ہے…… یا سمجھنے کی کوشش کی ہے؟ تو جواب نفی میں ملا…… بلکہ فلاں نے یہ کہا فلاں نے وہ کہا…… وغیرہ وغیرہ ۔ اب اس بِل کا مطالعہ تو کیا جائے۔ یہ بِل بنیادی طور پر تیسری جنس یعنی ’’خواجہ سراؤں‘‘ بارے ہے۔ کیوں کہ ہمارے مروجہ قوانین میں اس طبقے کا تو ذکر ہی نہیں۔
مثال کے طور پر وراثت کی تقسیم کا ایک طریقۂ کار ہے کہ جس کی تقسیم رشتوں میں جنس کی بنیاد پر ہے۔ مثلاً بھائی کے دو حصے اور بہن کا ایک حصہ…… لیکن اگر اولاد میں کوئی خواجہ سرا ہے، تو اس کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟ سو اس بِل کے ذریعے یہ مسایل حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
میڈیکلی خواجہ سرا بھی دونوں جنسوں سے وابستہ ہوتے ہیں۔ کچھ مردانہ کیفیت اور کچھ زنانہ کیفیت کے ساتھ۔ سو یہ بل کہتا ہے کہ جس خواجہ سرا پر مردانہ کیفیت حاوی ہو…… اس کو بطورِ مرد اور جس پر زنانہ کیفیت حاوی ہو، اس کو بطورِ عورت درج کیا جائے…… لیکن اس کے باجود بھی اگر کوئی کسی خاص جنس پر بضد ہو…… یعنی ایک خواجہ سرا بظاہر زنانہ کیفیت میں ہے، لیکن وہ مردانہ کیفیت پر بضد ہے، تو اس کے لیے باقاعدہ ایک میڈیکل بورڈ بنایا جائے گا اور اس کی جنس کا اندراج میڈیکل رپورٹ کی روشنی میں کیا جائے گا۔
اچھا، میڈیکل رپورٹ کے باجود (اس میں نارمل مرد یا عورت بھی آسکتے ہیں) اگر کوئی پاکستان کا شہری خود کو نفسیاتی یا جذباتی طور پر دوسری جنس کا حصہ سمجھتا ہے، تو پھر اس کو حق دیا جائے کہ وہ اگر ممکن ہو، تو باقاعدہ آپریشن کے ذریعے اپنی جنس تبدیل کر دے۔
باقی اس بِل میں ہم جنس پرستی، مرد کی مرد سے اور عورت کی عورت سے شادی کا نہ ذکر ہے نہ تصور…… کہ جس کو سوشل میڈیا کے کچھ سقراط بقراط بڑھا چڑھا کے بیان کرتے ہیں۔ البتہ اس بِل کے الفاظ میں ہلکی سی غلط فہمی کا اندیشہ ہے…… یعنی جب لفظ پاکستان کا شہری استعمال ہوا، تو پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا کہ اس طرح جو مرد چاہے خود کو عورت کے طور پر اور جو عورت چاہے، تو خود کو مرد کے طور پر درج کروا کر معاذﷲ آپس کی شادیاں کرنا شروع کردیں گے۔ یہ الزام انتہائی لغو اور مضحکہ خیز ہے۔
دوسری بات، ایک منٹ کے لیے اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ کل آبادی میں سے اعشاریہ پوائنٹ صفر صفر صفر ایک فی صد یعنی کروڑوں میں سے کوئی ایک اپنی کسی نفسیاتی یا جذباتی بیماری کی وجہ سے مرد ہو کر عورت یا عورت ہو کر مرد بننے کی خواہش رکھتا ہے، تو اس کا ہم جنس پرستی سے کیا تعلق ہے؟ اس کی یہ خواہش ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی جسمانی کیمسٹری میں میڈیکلی کوئی مسئلہ ہے۔ یعنی وہ اگر مرد ہے، تو اس میں زنانہ ہارمونز اور اگر عورت ہے، تو اس میں مردانہ ہارمونز کی زیادتی ہے۔ سو اس کیفیت والے بندے یا بندی کو یہ حق ہونا چاہیے کہ آپریشن کروا کر خود کو اس جنس میں ڈھال لے کہ جو اس کے اندر لاشعوری خواہش میں باقی ہے۔ یہ کہاں سے غیر شرعی یا غیر اخلاقی بات ہے!
البتہ آپ یہ تجاویز دے سکتے ہیں کہ بِل میں شہری کے بجائے خواجہ سرا کا لفظ لکھا جائے۔ دوسری طرف امکانی طور پر یہ درج کر دیا جائے کہ اگر کوئی نارمل شخص جنس کی تبدیلی کا متمنی ہے، تو اول اس کا نفسیاتی و روحانی علاج کیا جائے اور اگر علاج سے اِفاقہ نہ ہو، تو اس کا آپریشن کرکے اس کی جنس تبدیل کر دی جائے۔ بجائے اس کے کہ ساری زندگی وہ کنفیوز رہے…… یعنی مرد ہو کر عورت اور عورت ہوکر مرد کے محسوسات کے ساتھ جیے، معاشرے میں بے عزت ہو، مذاق بنتا رہے، اس کو اگر ممکن ہو، تو مکمل جنسی طور تبدیل کر دیا جائے…… ایک بیماری کا علاج سمجھ کر۔ اس میں نہ مذہب رکاوٹ ہے، نہ اخلاق۔
قارئین! یہ ہے کل جمع تفریق اس بل کی…… لیکن جہلا خود کو شریعت، قانون اور اخلاق کا داعی سمجھ کر خواہ مخواہ سوشل میڈیا کے ذریعے معاشرے میں غلط فہمیاں پیدا کرکے معاشرتی تناو اور سیاسی انارکی پیدا کر رہے ہیں۔
حکومت کو چاہیے کہ ایسے عناصر کے خلاف مناسب کارروائی کرے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔