خیبر پختون خوا کی حکومت نے تقریباً ایک ماہ قبل صوبہ میں کل 8 ’’بورڈز آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن‘‘ میں موجود خامیوں مثلاً نقل مافیا، پیپر آؤٹ کرنا، پیپر سمگلنگ، امتحانی حال خریدنا، پیپر چیکنگ میں اقربا پروری اور ہر قسم کرپشن کو ختم کرنے اور بہتر اصلاحات لانے کے لیے ایک مرکزی بورڈ کے قیام کو عمل میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ صوبائی حکومت کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ صوبائی مرکزی تعلیمی بورڈ کے قیام سے کوئی بھی موجودہ بورڈ بند ہوگا، نہ ملازمین کی تعداد میں کمی واقع ہوگی اور نہ کسی کو نوکری سے نکالا جائے گا۔ نہ ملازمین کے سروس سٹرکچر، ترقی، تنخواہوں اور پہلے سے حاصل شدہ مراعات میں کوئی کمی واقع ہوگی۔ اس طرح کوئی ملازم سر پلس پول میں بھی نہیں جائے گا۔ تمام موجودہ بورڈ، مرکزی بورڈ کے ریجنل دفاتر قرار پائیں گے اور انھیں حاصل انتظامی اور مالی اختیارات میں کوئی کمی نہ ہوگی۔
قارئین! اصلاحات کا مقصد موجودہ امتحانی نظام کو شفاف اور موثر بنانا اور نمبروں کی دوڑ کا خاتمہ ہے…… تاکہ بہتر امتحانی نظام کی بدولت بہتر تعلیمی نظام کو رایج کیا جاسکے…… لیکن دوسری طرف بورڈ کے ملازمین اور ان کے یونین کے نمایندوں نے اس پر شدید خدشات کا اظہار کیا ہے اور حکومت کا یہ فیصلہ مسترد کرتے ہوئے احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کرکے تمام بورڈوں کو تالے لگائے ہیں۔
ان کا مؤقف ہے کہ اگر پختون خوا کی حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ پورے صوبے کے لیے ایک تعلیمی بورڈ بننے سے امتحانی نظام بہتر ہوجائے گا…… اور صوبہ کے لاکھوں طلبہ و طالبات کو ایک یونیفارمڈ امتحان کے عمل سے گزارا جائے گا، تو موجودہ نظام کے اندر رہتے ہوئے بھی یہ کام بخوبی سر انجام دیا جاسکتا ہے۔
نیز ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے پاس اس کا بہترین حل موجود ہے۔ اگر حکومت واقعی بورڈز کے معاملات کو بہتر بنانا چاہتی ہے، تو اس پر موجودہ سیٹ اَپ کو متاثر کیے بغیر کلینڈر پر عمل کرواکر بہتری لائی جاسکتی ہے۔ اور بورڈ شیڈول میں وقت کے تقاضوں کی روشنی میں ترامیم کی ضرورت ہو، تو ترامیم کی جانی چاہئیں…… لیکن موجودہ نظام کو چلنے دیا جائے۔
بورڈ ملازمین کے خیال میں مرکزی بورڈ کے قیام سے مسایل میں اضافہ ہوگا نہ کہ کمی آئے گی…… اور تمام بورڈوں کے سیکڑوں ملازمین کے بھی سرپلس پول میں جانے کے خدشات ہیں۔
بورڈ ملازمین یہ بھی کہتے ہیں کہ مرکزی یا سنگل بورڈ کے قیام کے حوالے سے جو 10 رکنی کمیٹی بنائی گئی ہے، اس میں بورڈ ایمپلایز، ایجوکیشن نیٹ ورک، سکول آفیسرز اور اساتذہ سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو نمایندگی دی جائے…… اور موجودہ نظام کی بہتری کی مشترکہ اور متفقہ کوشش کی جائے۔ حکومت آکر ہمارے پاس بیٹھے، مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرے، لیکن وہ ایسا نہیں کرے گی…… کیوں کہ حکومت کی نظر اصلاحات کے بہانے ہمارے اکھٹے کیے گئے اربوں روپوں کو ہڑپ کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ جب تک حکومت اپنا فیصلہ واپس نہیں لیتی، تب تک ہڑتال جاری رہے گی۔
دوسری طرف صوبائی وزیرِ تعلیم شہرام خان ترکئی نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ تعلیمی بورڈ کو ختم نہیں کیا جا رہا، صرف امتحانی نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں…… تاکہ پورے صوبے میں ایک ہی سٹینڈرڈ پیپر ہو اور مارکنگ کا یکساں نظام ہو……!
لیکن بورڈ کے نمایندے ان کی بات پر یقین نہیں کرتے۔
اب اس تمام تر صورتِ حال میں طلبہ و طالبات اور ان کے والدین کا کیا گناہ ہے کہ ان بے چاروں کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ہے۔
خدارا! ہمارے بچوں کے مستقبل سے نہ کھیلیں۔ کیوں اپنے مقاصد کے لیے اندھے بنتے جا رہے ہیں؟
قارئین! مَیں بالکل اس جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتا کہ حکومت کا فیصلہ درست ہے یا بورڈ والوں کی ہڑتال……؟ پر ہمارے بچوں کا مسئلہ فوراً حل کیا جائے۔ جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی لکھا کہ پختون خوا میں تمام بورڈز آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کا احتجاج جاری ہے اور انھوں نے تقریباً ایک ماہ سے اپنے اپنے بورڈ کے دفتروں کو تالے لگائے ہوئے ہیں، کسی قسم کا کوئی بھی کام نہیں کیا جا رہا۔ بچوں کے تمام کام رُکے ہوئے ہیں، جن میں سپلیمنٹری امتحان کے داخلے، امپروومنٹ، ری چیکنگ اور ایف اے، ایف ایس سی کا رزلٹ شامل ہے۔ کام رُکنے کی وجہ سے بچوں کا قیمتی وقت ضایع ہورہا ہے۔ انٹر کے بہت سے طالب علموں نے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور پشاور کے مختلف تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے کے لیے ان کے ٹیسٹ پاس کیے ہیں، اب وہ ان پاس طالب علموں سے انٹر کی ڈی ایم سیز اور سرٹیفکیٹ مانگ رہے ہیں…… جو کہ ان کے پاس نہیں ۔
ملک کے دیگر شہروں میں تعلیمی اداروں کے داخلے کی آخری تاریخیں بھی گزرتی جا رہی ہیں۔
دوسری طرف بورڈ والے بطورِ ہتھیار طلبہ کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ پانچ ستمبر کو رزلٹ کا اعلان ہونا چاہیے تھا، مگر انھوں نے رزلٹ زبردستی لیٹ کیا ہوا ہے۔ اب طلبہ اور والدین دونوں پریشانی کے عالم میں پختون خوا کی حکومت اور بورڈ کی لڑائی میں گویا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں۔
میرے ایک سینئر صحافی اور اینکر پرسن دوست جناب احسان حقانی نے اس حوالے سے کیا خوب صورت تجویز دی ہے۔ لکھا ہے کہ ’’یہ صورتِ حال اگر کسی مہذب ملک میں ہوتی، تو حکومت اور سیاست دان سارے کام چھوڑ کر پہلے اس کا حل نکالتے، لیکن یہاں صرف وہ پریشان ہیں جن کے بچوں کی تعلیم میں حرج ہو رہا ہے۔ کم ازکم اتنا تو ہوسکتا ہے کہ سیلاب کی وجہ سے فی الحال یہ فیصلہ ایک سال کے لیے ملتوی کیا جائے۔ اس دوران میں پبلک ڈیبیٹ اور رائے شماری (Opinion Poll) کی جائے۔‘‘
میرے خیال میں یا تو حکومت فوراً اپنا فیصلہ واپس لے لے یا زبردستی بورڈ کے ملازمین سے بورڈ کھلوائیں اور یا بورڈ والے اپنا دفتری کام شروع کرکے اپنا احتجاج بھی جاری رکھیں۔ اگر دونوں اپنے اپنے ضد پر اڑے رہے، تو تیسرا آپشن یہی بچتا ہے کہ تمام والدین، سکول اور کالج کے طلبہ و طالبات سڑکوں پر نکل کر دونوں کے خلاف بھرپور احتجاج کریں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔