2009ء کے حالات سوات کے لوگوں کے لیے بڑا سبق ہیں۔ اُن حالات کے بعد ذہنی امراض میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور اس کی تصدیق آپ سوات کے کسی بھی اچھے ’’سائیکاٹرسٹ‘‘ سے کرسکتے ہیں۔
اُن حالات نے ہمارے ذہن پر جو نقوش چھوڑے ہیں…… وہ کبھی نہیں مٹ سکتے، تاہم ہم اپنی اولاد کو کسی بھی صورت وہ حالات دوبارہ دکھانے کے حق میں نہیں۔
قارئین! مَیں کبھی یہ نہیں چاہوں گا کہ میری بچی کسی مہاجر کیمپ میں ہو۔ مَیں کبھی یہ نہیں چاہوں گا کہ میری بچی بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کی نذر ہوجائے۔ ہم اہلِ سوات اپنی اولاد کے لیے بہتر مستقبل چاہتے ہیں۔ میری طرح تمام والدین یہی چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد اعلا تعلیم حاصل کرے اور ملک و قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔
بخدا! پچھلے دنوں انتہائی دل برداشتہ ہوکر ایک اعلا آفیسر کو پیغام بھیجا اور ان کو اپنی چھے سالہ معصوم بچی کی تصویر بھیجتے ہوئے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میری یہ بچی کسی مہاجر کیمپ میں بیٹھ جائے؟
مجھے یقین ہے کہ وہ کبھی ایسا نہیں چاہتے ہوں گے۔
قارئین! ان باتوں کو لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے سوات میں ایک غیر یقینی صورتِ حال پیدا کردی گئی ہے۔ پریشان کن خبریں آرہی ہیں۔ برہ بانڈئی میں دھماکا اور تحصیلِ مٹہ سے سات لوگوں کا اِغوا اور ایم پی اے سردار خان سے بھتا مانگے جانے کی خبریں ایک ہی دن سامنے آئیں۔ ان حالات میں ہماری نظریں ’’سرکار‘‘ کی طرف ہیں۔ سوات کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وزیرِ اعلا بھی سوات سے تعلق رکھتے ہیں…… جن کو اہلِ سوات کی طرف سے ’’خپل وزیرِ اعلا‘‘ کا خطاب دیا گیا ہے۔ ہم اس بات پر مطمئن تھے کہ کم از کم وزیرِ اعلا صاحب کو ہماری تشویش کا احساس ہوگا…… مگر یہ میری خوش فہمی ثابت ہوئی۔ کیوں کہ جس دن برہ بانڈی میں دھماکا ہوا، وزیرِ اعلا کی طرف سے کوئی ’’مذمتی‘‘ بیان جاری نہیں ہوا۔ البتہ دھماکے کے کچھ دیر بعد وزیرِ اعلا صاحب نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ’’سیف اللہ نیازی‘‘ نامی شخص کی گرفتاری پر مذمت کا پیغام ضرور جاری کیا۔
دوسری طرف میرے کئی دوست کَہ رہے ہیں کہ ان حالات سے ہمارا کیا لینا دینا……؟ ہم بڑے لوگ ہیں، نہ کسی کا ٹارگٹ ہیں، اپنی زندگی گزارتے ہیں اور آگے بھی خاموشی کے ساتھ گزارلیں گے۔ ان کو میرا جواب ہوتا ہے کہ سارا نزلہ تو عام لوگوں پر گرنا ہے۔ 2009ء میں عام لوگ ہی کیمپوں میں پڑے سڑتے رہے۔ راشن کے نام پر قِطاروں میں عام لوگ ذلیل ہوتے رہے۔ چھوٹے کاروبار ہمارے تباہ ہوئے۔ بچے ہمارے خوف کے سائے میں بڑے ہوئے۔ ان تمام حالات میں ذلالت بھری زندگی ہم گزارتے رہے، تو اس لیے اس سوال کا کوئی جواز نہیں بنتا کہ ’’حالات سے ہم عام عوام کا کیا لینا دینا؟‘‘
مراد سعید صاحب جن کو سوات کے لوگوں نے دوبار اتنا ووٹ دیا کہ موصوف ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہوئے۔ وہ عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ اسمبلی میں ان کی صورت بگاڑ بگاڑ کر سماعت خراش تقریں سوشل میڈیا پر اب بھی ہمارا منھ چڑانے کے لیے موجود ہیں۔ موصوف اپنی ہر تقریر میں ’’غداروں‘‘ کی نشان دہی بھی فرمایا کرتے تھے…… اب وہ بھی سوات کے حالات پر اتنے ’’افسردہ‘‘ ہیں کہ نرم و نازک صوفے پہ بیٹھ کر ’’ویڈیو‘‘ ریکارڈ کرکے سوشل میڈیا پر ’’سوالات‘‘ اُٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالاں کہ دو دن پہلے ان کے گھر کے قریب سوات کے سیکڑوں لوگوں نے امن کے لیے مظاہرہ کیا…… موصوف کو اتنی توفیق بھی نہیں ہوئی کہ اپنے نرم و نازک صوفے سے اُٹھ کر اُن لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے، جنھوں نے موصوف کے حق میں ریکارڈ ووٹ ڈالا ہے۔
اس طرح لوگ امن کے لیے خوار ہو رہے ہیں…… مگر وزیرِ اعلا صاحب نے بھی قسم کھا رکھی ہے کہ ان حالات پر آنکھیں بند رکھیں گے۔ کیا وہ اہلِ سوات کو چھوڑ کر مستقبل کی سیاست اور الیکشن کا سوچ رہے ہیں؟ نیز سوات کے دیگر ’’نمایندے‘‘ بھی خاموش ہیں۔
قارئین! اب جب ہمارے نمایندے خاموش ہیں، تو ہماری ذمے داری بنتی ہے کہ ہم خود اپنی آواز اُٹھائیں۔ ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ وزیرِ اعلا صاحب کے آبائی حلقے میں زیادہ تر واقعات رونما ہورہے ہیں۔ کیا وہ اپنے علاقے کی سیکورٹی کے لیے بھی کچھ راست قدم اٹھانے سے عاجز ہیں؟
مراد سعید صاحب، ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوالات کررہے ہیں…… مگر یہ بھول رہے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں حکومت ان کی اپنی پارٹی کی ہے۔
مراد سعید صاحب! یہ آپ کا حق ہے کہ اپنی سیاسی دکان چمکائیں، مگر آپ کو یہ حق بالکل حاصل نہیں کہ سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنائیں۔
جنابِ والا! کیا صوبائی حکومت سوات میں حالات کو کنڑول نہیں کرسکتی؟ اگر آپ ایک چھوٹے سے ضلع کی ننھی سی تحصیل کو کنڑول نہیں کرسکتے، تو پورے ملک کو کیسے کنٹرول کریں گے؟
جنابِ والا! آپ کی اپنی صوبائی حکومت کا ترجمان کہتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی کی ذمے داری صوبائی حکومت کی ہے، تو میرا آپ سے سوال ہے کہ کیا صوبائی حکومت سیکورٹی کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کر رہی ہے؟ 2009ء کے بعد سوات میں امن کا قیام ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ ہزاروں قربانیوں کے بعد سوات میں امن قایم ہوا۔ کاروبار بحال ہوا۔ خصوصاً سیاحتی شعبہ چمکا، جو منافع بخش ثابت ہو رہا تھا…… مگر آج ایک بارپھر ایسے حالات پیدا کر دیے گئے ہیں کہ عام لوگوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
جنابِ والا! اب اس وقت سوات میں ہمیں وزیرِ اعلا اور آپ سمیت جن لوگوں کی ضرورت ہے، وہ سب خاموش ہیں اور کچھ تو (ماشاء اللہ) رنگا رنگ شرٹس میں ’’توندیں‘‘ نکال کر بیرونی دوروں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ کیا یہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے برابر نہیں!
میری درخواست ہے کہ سوات کے حالات کو سیاسی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ اگر واقعی آگ لگی، تو گھر کسی کا نہیں بچے گا۔ بقولِ راحت اندوری
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے
کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
سوات کے سبھی صاحبِ مسند…… بڑے لوگ ہیں۔ وہ اسلام آباد کے کسی پوش علاقہ میں زندگی گزارنے کی طاقت رکھتے ہیں، مگر ہمیں دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور نقلِ مکانی والی زندگی دوبارہ نہیں چاہیے۔
یہ نوٹنکی نہیں تو اور کیا ہے کہ مراد سعید صاحب سوالات اُٹھا رہے ہیں کہ صوبائی حکومت مذاکرات سے بے خبر ہے…… مگر اُن کی اپنی حکومت کا ترجمان مذاکرات کا حصہ ہے…… اور کَہ رہا ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں پروپیگنڈے کررہی ہیں۔
یہ وقت بالکل سیاست کا نہیں۔ وزیرِ اعلا صاحب کو چاہیے کہ وہ مراد سعید صاحب کو بلائیں۔ ان کو اپنے صوبائی ترجمان کے ساتھ بٹھائیں، تاکہ مراد سعید صاحب کو مکمل معلومات ملیں۔ آپ صاحبان کی لاعلمی اور خاموشی اہلِ سوات کے لیے زہرِ قاتل سے کم نہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔