کیا سوات سے لے کر کوئٹہ تک پختون خطہ کچھ عرصہ توقف کے بعد پھر سے ’’شیطانی تذویراتی شکنجہ‘‘ میں کسنے جا رہا ہے؟
کیا ریاستی ادارے ماضی کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے طالبان کے لبادے میں مذہبی شدت پسندی اور عسکریت پسندی کا استعمال سیکورٹی اور سیاسی و معاشی پالیسی کے طور پر جاری رکھنا چاہتے ہیں؟
کیا جنت نظیر سوات اور عموماً پختون خطہ کو ایک بار پھر جہنم بنائے جانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جو آج کل اس علاقے کے باسیوں کے ذہنوں میں انگڑائیاں لے رہے ہیں۔ پچھلے مہینے (اگست 2022ء) کے دوسرے ہفتے میں سوات تحصیل مٹہ کے چپریال کے علاقے میں طالبان نے ایک پولیس ڈی ایس پی کو زخمی کرکے فوج کے میجر اور دیگر اہل کاروں سمیت یرغمال بنایا اور بعد میں مقامی عمایدین کے جرگہ کے توسط سے انھیں رہا کیا…… لیکن تقریباً ایک مہینے کی پُراسرار خاموشی کے بعد گذشتہ روز طالبان نے تحصیلِ کبل کے گاؤں برہ بانڈی میں بم دھماکے سے ڈیفنس کمیٹی کے سربراہ ادریس خان کی گاڑی کو نشانہ بناکر چار دیگر افراد کے ساتھ قتل کیا۔ یاد رہے کہ سوات میں 2009ء کے فوجی آپریشن کے بعد فوج نے اپنی اعانت کے لیے اس قسم کی ’’ویلج ڈیفنس کمیٹیاں‘‘ بنائی تھیں۔
اب تک تو ایسا لگ رہا ہے کہ طریقۂ وردات کے علاوہ بنیادی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ’’ریاستی بقا‘‘ کے نام پر اور عالمی طاقتوں کے مذموم مقاصد اور اسٹیبلشمنٹ کی تزویراتی گہرائی والی پالیسی کے نام پر گروہی مفادات کے لیے پختونوں کی خون ریزی کا سلسلہ جاری رکھنا مقصود ہے۔ ماضی میں امریکہ کی قیادت میں مغرب اور سوویت یونین کے درمیان مفادات کی جنگ میں پشتون اور افغان خون کو بے دریغ بہایا گیا…… اور اب شاید امریکہ اور مغرب بمقابلہ چین اور روس کے درمیان سیاسی و معاشی غلبہ حاصل کرنے کی جنگ میں پختون اور افغان نسل کشی مقصود ہے…… لیکن پچھلی چار پانچ دہائیوں میں عوامی سطح پر اتنا فرق ضرور آیا ہے کہ اب ایک عام آدمی کو بھی ان ریشہ دوانیوں کا پتا چل چکا ہے۔ ماضی میں اس زہریلی گولی کو ’’اسلام‘‘ اور ’’جہاد‘‘ کا زریں ملمع چڑھاکر عوام کو اسے نگلنے پر مجبور کیا گیا، لیکن اب اس میٹھے زہر کا ادراک سب کو ہوچکا ہے۔ لہٰذا اب اسے حلق سے نیچے اتارنے کے لیے صرف زور زبردستی کرنا پڑے گی اور یہ عمل کسی بڑی سیاسی و جغرافیائی بھونچال کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ کیوں کہ کسی انسان کو ایک سوراخ سے کتنی دفعہ ڈسا جاسکتا ہے؟
اگر ہم 80 کی دہائی کو چھوڑ کر نائن الیون کے بعد والے طالبانائزیشن اور عسکریت پسندی کے بیانیے اور اس کے نتیجے میں ان کے لیے پیدا کیے گئے سماجی نرم گوشے کا تجزیہ کریں، تو آج حالات یکسر مختلف ہیں۔ اس وقت ٹیلی وِژن پر کوئی ملا، نام نہاد مذہبی، سیاسی و عسکری دانش ور اور صحافی بیٹھ کر ان کے حق میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے نظر نہیں آتے۔ اُس وقت ریاستی سطح پرافغان طالبان کو دہشت گرد نہیں بلکہ ’’مجاہدین‘‘، ’’حریت پسند‘‘ اور پاکستانی طالبان کو بھٹکے ہوئے بھائی اور بچے قرار دیا جا رہا تھا۔
سوات میں طالبان کے ظہور کو ناقص نظامِ انصاف، غربت و ناخواندگی کے کھاتے میں ڈالا گیا۔ حتی کہ بعض لکھاری جو اَب پختون قوم پرستی کی دانش وری کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں، کا خیال تھا کہ سوات میں طالبان تحریک ’’خان ازم‘‘ یعنی ’’فیوڈل ازم‘‘ کی ضد ہے۔ اُس وقت طالبان کو میدان میں اُتارنے سے پہلے سیاسی، مذہبی و سماجی طور پر زمین ہم وار کی گئی تھی۔ علاقے کے سیاسی اعصاب کو منظم طریقے سے شل کیا گیا تھا۔ تمام سیاسی جماعتیں خوف یا لالچ اور سودے بازی کی چکر میں یا تو خاموش تھیں، یا صرف زبانی جمع خرچ پر اکتفا کر رہی تھیں۔ نتیجتاً اس آنے والی دہشت کے آگے کوئی منظم سیاسی بند یا تحریک سامنے نہیں آسکی…… لیکن اب کی بار صورتِ حال یکسر مختلف ہے جو کرانے والوں کو ’’مناسب انکار‘‘ (Plausible Denial) کا موقع نہیں دیتا۔
ایک نکتہ تو یہ کہ جہادی بیانیہ گھس پٹ چکا ہے اور دوسرا اب عوام روایتی سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی طرف نہیں دیکھتے…… بلکہ از خود سڑکوں پر نکلتے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’پشتون تحفظ موومنٹ‘‘ کی شکل میں عسکریت پسندی اور اس کو بطورِ پالیسی ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف تمام تر ریاستی جبر کے باوجود ایک ’’تحریک‘‘ موجود ہے۔
پی ٹی ایم کے خلاف ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال اور خوف کے ذریعے عوام کو اس سے دور رکھنے کے باوجود، اس قسم کی صورتِ حال میں عوام کی آخری اُمید پی ٹی ایم ہی ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہی ایک تحریک ہے جس نے عوام کو وہ قیادت دی جو روایتی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی بس کی بات نہیں تھی۔ اس نے عوام کو خوف سے نکال کر حوصلہ اور زبان دی۔ اب سوات سے لے کر وزیرستان اور کوئٹہ تک ہر کوئی آپ کو یہ بتائے گا کہ کون طالب، کب اور کہاں سے لایا گیا؟ یہ بھی بتائے گا کہ سوات میں آخری فوجی آپریشن کے بعد کتنے طالبان کو یہ کَہ کر افغانستان بھیجا گیا کہ افغانستان میں لڑنے کے لیے تیار رہیں یا یہاں مرنے کے لیے…… نیز یہ بھی کہ کون کون اپنے ساتھ بال بچے بھی لے کر گیا تھا اور ان میں سے عیدالفطر کے بعد کتنے اور کن شرایط پر واپس لائے گئے ہیں؟
مزید برآں، ماضی کی طرح جب سوویت یونین اور پاکستان کے درمیان افغانستان بطور ایک ’’بفر‘‘ کے موجود تھا، چین اور پاکستان کے درمیان ایسا کوئی ’’بفر‘‘ نہیں۔ اگر پاکستان سے چین کے مفادات کے خلاف حملے ہوتے ہیں، تو یہ امکان موجود ہے کہ وہ خود براہِ راست حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔ مثلاً پچھلے سال جب داسو کوہستان میں چینی انجینئرز پر دھماکا ہوا، تو چین کے ایک بڑے اخبار کے مدیر نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ’’اگر پاکستان کارروائی نہیں کرسکتا، تو چینی میزائل دہشت گردوں کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
اس پراکسی جنگ میں ہماری وہی حیثیت ہوسکتی ہے جو پہلے افغانستان کی تھی۔ لہٰذا ’’بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی‘‘ کے مصداق پالیسی سازوں خصوصاً اسٹیبلشمنٹ کو یہ سوچنا چاہیے کہ اس بار حالات پختون خطے تک محدود نہیں رہنے والے…… اس کھیل میں پورا جہاز ہی ڈوبنے کا خطرہ ہے۔
وما علینا الالبلاغ!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔