آج آپ کو بچپن میں سنا گیا ایک حقیقی واقعہ سناتے ہیں۔ اس واقعے سے جڑے کرداروں کے خاندان کے افراد اب بھی زندہ ہوں گے۔ شاید یہ واقعہ وہ پڑھیں بھی۔ دل آزاری مقصد نہیں…… لیکن یہ امر بھی اہم ہے کہ ان کرداروں کے خاندان کے افراد مسکرا کر اس کو یاد کرتے ہیں۔
گئے وقتوں میں ایک مسجد کی تعمیر مقصود تھی۔ پورا گاؤں اکٹھا ہوگیا کہ پیسے جمع کیے جائیں۔ چوکٹھا لگ گیا۔ نمبردار صاحب سب سے پہلے اُٹھے۔ عہدہ ان کا بڑا تھا۔ گاؤں میں مقام بھی بہت تھا۔ اس لیے سب کی نظریں ان پر تھیں۔ میری طرف سے مسجد کی تعمیر کے لیے 20 ہزار روپے شمار کیے جائیں۔ ہزاروں کا ذکر توموجودہ دور میں بھی آئے، توایک لمحہ کے لیے کان کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کجا گزرے وقتوں میں تواُن کی اہمیت زیادہ ہوگی۔ سب اَش اَش کر اُٹھے۔ خوشامدیوں نے واہ واہ کا شور بلند کیا اور نمبردار صاحب کروفر سے نشست پر براجمان ہوگئے۔ نمبردار صاحب نے بنیاد ایسی ڈالی تھی کہ باقیوں کو یقینی طور پر اپنی استطاعت کے مطابق کچھ نہ کچھ اعلان بہتر ہی کرنا تھا۔اگلا نمبر چوہدری صاحب کا تھا۔ چوہدری صاحب کی بظاہر تو نمبردار صاحب سے بڑی دوستی تھی لیکن حقیقت میں نمبردار صاحب سے بنتی نہ تھی۔ وہ گومگو کی سی کیفیت میں تھے۔ بات عزت کی تھی۔ کھڑے ہوئے اور پچاس ہزار کا اعلان کر ڈالا۔ نمبردار صاحب تو ایک طرف، پورے مجمعے کی توجہ چوہدری صاحب کی طرف ہوگئی ۔ انھوں نے چھکا ہی کچھ ایسا مارا تھا۔ نمبردار صاحب نے جیسے چپ کا روزہ رکھ لیا اور مجمع اپنی ایڑھیوں پہ کھڑا ہوکے چوہدری صاحب پہ داد و تحسین کے ڈونگرے برسانے لگا۔ شاہ صاحب لیکن کچھ اور سوچ رہے تھے۔ اور سو چنا مجبوری بھی تھا۔ کیوں کہ اب باری اُن کی تھی اعلان کرنے کی۔ وہ اُٹھے، اپنا شملہ درست کیا، کرتے کی شکنیں جھاڑیں اور مسجد کی تعمیر کے لیے ایک لاکھ روپے کا اعلان کر دیا۔ اُس دور میں لاکھ کا تو کسی نے نام بھی کم سنا ہوگا۔ سب حیران و پریشان…… اور مکمل مجمعے کو سانپ سونگھ گیا کہ لاکھ تو دیکھا نہ سنا…… اور شاہ صاحب نے اتنے چندے کااعلان کر دیا۔
سب اِسی اُدھیڑ بن میں تھے کہ دور کونے سے دین محمد عرف دینا اُٹھا اور بلند آواز سے صدا دی، ’’میرے ولوں دو لکھ!‘‘ (میری طرف سے دو لاکھ شمار کرلیں) ساکت مجمعے میں بھونچال آ گیا۔ سب لعن طعن کرنے لگے کہ تو اِتنی بڑی رقم لائے گا کہاں سے؟ تو نے تو پوری زندگی اتنی رقم نہیں دیکھی ہوگی۔ اُس دور میں چوہدری اور نمبردار سطح کے لوگوں پہ بھی لوگ اصلاحی فقرے کستے تھے اور برداشت کا معیار بھی آج سے بہت بہتر تھا۔ لوگوں نے لعن طعن کی، تو چاچا دینا ایک دم مجمع چیرتا ہوا آگے بڑھا اور منمناتی آواز میں بولا: ’’انہاں دتے تے میں وی دے دیساں!‘‘ (اگر نمبردار، چوہدری اور شاہ صاحب نے جو اعلانات کیے ہیں وہ انھوں نے ادا کیے، تو میں بھی دے ہی دوں گا)
چاچا دینا جانتا تھا کہ مجمع میں وقتی طور پر عزت بچانے کے لیے کیے گئے اعلانات کبھی عملی طور پر پورے نہیں کیے جائیں گے…… اور دوسرا یہ کہ کس نے پوچھنا ہے کہ چوہدری جی آپ نے جو اعلان کیا تھا، وہ پیسے دیے یا نہیں! اور چاچا دینا اس لیے بھی یقین سے کَہ سکتا تھا کہ وہ اندر کی باتیں جانتا تھا۔ پرانا بھیدی جو تھا۔
سابق وزیرِ اعظم پاکستان محترم عمران احمد خان نیازی صاحب نے سیلاب زدگان کی مدد کے لیے ٹیلی تھون نشریات ترتیب دلوائیں۔ خوب واہ واہ ہوئی…… اور خبریں سامنے آئیں کہ پانچ ارب روپے جمع کرلیے گئے۔ بہت خوب ، ماشاء اللہ……! ربِ کریم آپ کی توفیق میں اور اضافہ فرمائیں…… لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ یہ رقم کیا واقعی آئی……؟ اگر تو یہ نمبرداری کے شوق میں ایک فریب ہی تھا، تو پھر اس پہ بحث کیسی؟ لیکن اگر آپ راقم الحروف کی طرف الفاظ کی توپوں کا رُخ ابھی نہ کریں تو عرض ہے کہ واقعی اگر اتنی رقم آئی ہے، تو یہ ایک خطیر رقم ہے…… اور آپ یہ رقم اپنے رضاکاروں کی بجائے ایسے اداروں میں تقسیم کر دیجیے، جو فلاحی کاموں میں عرصۂ دراز سے سرگرمِ عمل ہیں۔ سیلانی ٹرسٹ، انصار برنی ٹرسٹ، الخدمت فاؤنڈیشن اور جے ڈی سی جیسے ادارے اس مقصد کے لیے بہترین انتخاب ہو سکتے ہیں…… اور اس سے آپ کی نہ صرف قدر بڑھے گی…… بلکہ عوام تک بھی یہ پیغام پہنچایا جا سکتا ہے کہ یہ فنڈنگ نہ صرف حقیقی ہے بلکہ یہ دیکھیں کہ ہم نے نچلی سطح پر سیلاب زدگان پہ خرچ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کرلی۔
اس طرح اگر یہ رقم صوبائی حکومت یا پارٹی ورکرز کے ذریعے ہی تقسیم ہونی ہے، تو پھر یقینی طور پر سوالیہ نشان ہے کہ آیا یہ وہی فنڈنگ ہے جو اکٹھی کی گئی یا صوبائی حکومت کا خزانہ کھنگالا گیا؟
جیالے کہاں پیچھے رہنے والے تھے، اعلان ہو گیا کہ بلاول کی ایک پکار پہ دنیا نے ایک کھرب سے زاید کی امداد کا وعدہ کر لیا ہے۔ مجبوری بھی تھی کہ نمبردار صاحب نے اعلان پانچ ارب کا کیا، تو ہمیں کھرب تک ہو جانا تھا۔ اب اس بات میں بھی دو رائے ہیں۔ اگراگلے چند دنوں میں واقعی امداد آنا شروع ہو جاتی ہے، تو پھر بلاول صاحب کی خوب واہ واہ ہے اور قابلِ تحسین بھی ہے…… لیکن اگر یہ وعدے، وعدے ہی رہتے ہیں…… تو پھر یہ اعلان بھی شاہ جی کے اعلان جیسا ہی ہے کہ جس کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ یہ بس اعلان ہی ہے۔ مزید یہ کہ وزیرِ اعظم پاکستان کا فنڈ بھی قایم ہے۔ صوبائی حکومتیں بھی مصروف عمل ہیں فنڈنگ میں۔ ٹیلی تھون نشریات بھی جاری ہیں۔ پاکستان کے تمام سیاست دانوں کو شمار کیجیے، تو ان کی جانب سے اب تک کتنی فنڈنگ آئی؟ چاروں وزرائے اعلا نے ہیلی کاپٹروں میں علاقوں کے دورے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ منظور وسان صاحب تو کشتی میں ہی نکل کھڑے ہوئے…… لیکن ان ہستیوں کی اپنی جانب سے کتنا فنڈ دیا گیا، کتنے خاندانوں کی ذمے داری لی گئی، کتنے سکولوں کی تعمیر اپنے ذمے لی گئی، کتنے افراد کے کھانے کا بندوبست کیا گیا……؟ اس حوالے سے ابھی راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔
حقیقی معنوں میں عملی سطح پر خرچ نظر آئے، تو عمران خان اور بلاول بھٹو صاحب کے اعلانات کی ہم قدر بھی کرتے ہیں اور ان کی کوششوں کا اعتراف بھی…… لیکن اگر دونوں ہستیوں کے اعلانات نمبردار، چوہدری جی اور شاہ جی جیسے ہی ثابت ہوتے ہیں، تو پھر چاچا دینا بھی کوئی نا کوئی اعلان تو کر ہی دے گا۔ یہ زُبانِ اہلِ زمیں ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔