پاکستان میں کھیلوں کا یہ حال ہے کہ ہاکی ختم ہوگئی۔ فٹ بال ایسوسی ایشن کی لڑائی میں پاکستان کی گلی محلوں بالخصوص دیہات میں سب سے زیادہ کھیلا جانے والا کھیل فٹ بال بھی حالتِ نزع میں ہے۔ دیگر کھیل بھی ختم ہوگئے ہیں یا ختم ہونے کے قریب ہیں۔
تازہ ہوا کے جھونکے کے مصداق ’’کامن ویلتھ گیمز‘‘ میں اپنی مدد آپ کے تحت پاکستان کے ارشد ندیم نے ریکارڈ ساز انداز میں سونے کا تمغا جیت کر ٹریک اینڈ فیلڈ میں 56 سال سے میڈل نہ جیتنے کے سلسلے کو ختم کردیا۔ ہمارے ہاں کسی بھی کھیل میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ آپ ارشد ندیم کو دیکھ لیں، جس نے تمام تر مشکلات…… اپنے کوچ کے بغیر اور انجری کی وجہ سے کہنی پر ٹیپ لگا کر میدان میں اُترکر الیگزینڈر اسٹیڈیم میں جیولن تھرو کا فائنل 90.18 میٹر کی تھرو کرکے جیت لیا۔ اس فاصلے کو انھوں نے اپنی پانچویں تھرو میں حاصل کیا…… اور اس مقابلے میں سرِ فہرست آئے…… جس میں عالمی چمپئن ’’اینڈرسن پیٹرز‘‘، سابق اولمپک چمپئن ’’کیشورن والکوٹ‘‘ اور کامن ویلتھ گیمز کے سابق چمپئن ’’جولیس یگو‘‘ شامل تھے۔
قارئین! یہ 1966ء کے بعد کھیلوں میں پاکستان کا پہلا ایتھلیٹکس کا تمغا اور ملک کے لیے جیولن میں پہلا طلائی تمغا ہے۔ 1954ء میں ہر چار سال بعد ہونے والے ان کھیلوں کے افتتاحی ایڈیشن میں محمد نواز نے چاندی کا تمغا جیتا تھا۔ 1958ء میں جلال خان نے دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
اس طرح ویٹ لفٹنگ میں بھی گولڈ میڈل نوح دستگیر بٹ نے 105 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں فتح حاصل کرکے جیتا۔ پاکستان میں کھلاڑی غریب گھروں میں موجود ہیں…… لیکن ہم انھیں ڈھونڈتے ہیں۔ امیر خاندانوں میں جہاں سے ٹیلنٹ کی وجہ سے نہیں بلکہ سفارش کے زور پر آنے والے نہ صرف بری طرح ہارتے ہیں…… بلکہ بدنامی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ آپ ارشد کو دیکھیں کہ ایک مزدور کا بیٹا کس ہمت اور جرات سے آگے نکلا اور پاکستان کا نام روشن کرگیا۔
ارشد نے اپنے پہلی تھرو کے ساتھ ہی اپنے خطرناک عزایم ظاہر کر دیے تھے۔ اُس شام وہ اپنی ذاتی بہترین کارکردگی میں تین بار بہتری لائے اور پہلی کوشش میں 86.61 میٹر کی تھرو کی۔ ان کی دوسری کوشش میں فال سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ کیوں کہ ارشد نے ٹھیک 8 8 میٹر کی تھرو کے ساتھ اپنی بہترین کارکردگی کو ایک بار پھر بہتر کیا، تاہم ہر کوشش کے اختتام پر ارشد کو درد کی شدید ٹیسیں اٹھتیں۔ 25 سالہ نوجوان اپنی دائیں کہنی میں شدید درد محسوس کرتے جسے وہ گذشتہ سال کے ٹوکیو اولمپکس کے بعد سے جھیل رہے ہیں…… جہاں وہ پانچویں نمبر پر رہے تھے۔
ارشد کی چوتھی تھرو 85 میٹر کے نشان سے تھوڑی زیادہ تھی…… لیکن دو راؤنڈ اب بھی باقی تھے ……اور اس پاکستانی اسٹار کو برتری حاصل تھی۔ آخری راؤنڈ سے قبل ارشد کو پیٹرز نے 88.64 کی تھرو کر کے بالآخر پیچھے چھوڑ دیا اور وہ ایسے جشن منانے لگے کہ جیسے یہ تھرو ان کی فتح کے لیے کافی ہوگی…… لیکن ان کی یہ خوشی زیادہ دیر قایم نہ رہ سکی۔ سونے کا تمغا ارشد نے جیتنا تھا اور انہوں نے کھیل کے ہولی گریل نشان کو عبور کرتے ہوئے 90 میٹر کی تھرو کی۔ ایسا کرتے ہوئے وہ تائیوان کے ’’چاو سون چینگ‘‘ 91.36 میٹر کے بعد یہ نشان عبور کرنے والے دوسرے ایشیائی بن گئے۔ انھوں نے جنوبی افریقہ کے ’’مارئیس کاربیٹ‘‘ کا 88.75 میٹر کا گیمز ریکارڈ بھی توڑ دیا…… جو انھوں نے 1998ء میں قایم کیا تھا۔
ورلڈ چمپئن شپ میں 90 میٹر سے زیادہ کی تھرو کر کے طلائی تمغا جیتنے والے پیٹرز نے اپنے آخری تھرو سے ارشد کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی…… لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ انھوں نے چاندی کا تمغا جیتا اور 85.70 میٹر کی تھرو کے ساتھ کینیا کے یگو نے کانسی کا تمغا اپنے نام کیا۔
یہ برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کی 1970ء کے بعد سب سے بہترین پرفارمنس ہے۔ کامن ویلتھ گیمز 2022ء میں پاکستان کے 68 ایتھلیٹس نے 12 مختلف کھیلوں میں شرکت کی۔ پاکستان نے مجموعی طور پر 8 میڈلز جیتے جس میں نوح دستگیر بٹ نے ویٹ لفٹنگ اور ارشد ندیم نے ایتھلیٹکس میں گولڈ میڈل جیتا۔
ریسلرز شریف طاہر، انعام بٹ اور زمان انور نے سلور میڈلز حاصل کیے…… جب کہ جوڈو کا شاہ حسین شاہ کے علاوہ ریسلرز عنایت اللہ اور علی اسد نے برانز میڈل اپنے نام کیا۔
پاکستان نے 1970ء میں چار گولڈ میڈلز سمیت 10 میڈلز حاصل کیے تھے۔ مانچسٹر میں 2002ء میں پاکستانی ایتھلیٹس نے 8 میڈلز جیتے، مگر اس میں صرف ایک گولڈ میڈل شامل تھا…… جب کہ 2010ء میں دلی میں پاکستان نے دو گولڈ میڈل سمیت 5 کامن ویلتھ گیمز میڈل جیتے تھے۔ یوں 2022ء میں ہونے والے مقابلوں میں پاکستان کی کارکردگی 52 سال میں بہترین کارکردگی ہے۔
قارئین! ہم کھیلوں میں کیوں پیچھے ہیں؟ اس کے لیے صرف علی اکبر شاہ قادری اولمپک باکسنگ جج،سابق جیوری ممبر اور چیئرمین جیوری ایشیا سابق سیکریٹری سندھ باکسنگ ایسوسی ایشن اور سابق جوائنٹ سیکریٹری پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی یہ چند سطور پڑھ لیں:
’’27 اگست کو پاکستان میں انٹرنیشنل باکسنگ ڈے منایا گیا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں وہ لوگ یہ دن منارہے ہیں…… جنھوں نے پاکستان کی باکسنگ کو عروج سے زوال تک پہنچا کر دنیا میں تنہا کردیا ہے۔ 40 برس انٹرنیشنل اور 42 برس ایشین باکسنگ پر حکومت کرنے والا ملک اولمپک، ایشین گیمز، ایشین چمپئن شپ، کامن ویلتھ گیمز، سیف گیمز اور ڈھیر سارے انٹرنیشنل باکسنگ ٹورنامنٹس میں وکٹری اسٹینڈ پر راج کرنے والا بدقسمت پاکستان، جنوبی ایشیا میں پہلی سے چوتھی پوزیشن پر پہنچادیا گیا۔ 2004ء سے ہمارے باکسر اور ریفری جج اولمپک سے باہر ہیں۔ 2006ء ایشین گیمزکے بعد سے ٹیکنیکل میدان میں ہمارا کوئی بھی مقام نہیں۔ 2010ء سیف گیمزکے واحد گولڈ میڈل کے بعد 12 برسوں سے ہم گولڈ میڈل کو ترس کر رہ گئے ہیں۔ باکسنگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کو برائے فروخت بنا دیا گیا ہے۔ عہدوں کے لالچ، جوائے ٹرپ اور کرپشن نے پاکستان کی باکسنگ کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ پاکستان دنیا بالخصوص ایشیا کا واحد ملک ہے جس میں ایک بھی تھری اسٹار ریفری جج نہیں۔ 2010ء میں سابقہ دورمیں دو تھری اسٹار کوچز کے بعد 12برسوں سے نہ تیسرا تھری اسٹار کوچ پیدا ہوا اور نہ آج تک کوئی دو اسٹار کوچ بن سکا۔ اس حوالے سے کم از کم میرا سرتو شرم سے جھکا ہوا ہے۔‘‘
رہے نام اللہ کا!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔