تحریر: شبیر احمد 
مقتد ر تعلیمی حلقوں کو اس بات کا علم ہوگا کہ حکومت نے صوبے کے تمام 8 تعلیمی بورڈوں کے ادغام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ضروری تیاری مکمل کی گئی ہے، جب کہ وزیرِ اعلا محترم کی منظوری باقی ہے۔
جہاں تک مجھے یاد ہے، شاید یہ 1990ء کی بات ہے جب پہلی دفعہ ایف ایس سی کا امتحان دیا تھا۔ اس سے پہلے ہم مڈل ، میٹرک اور ایف ایس سی کا امتحان پشاور بورڈ سے دیا کرتے تھے۔ اس وقت یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تھا کہ ’’پشاور بورڈ‘‘ پر کام بہت زیادہ تھا، اس لیے ہر ڈویژن کی سطح پر ایک بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اب 32سال بعد ہماری آبادی میں کتنی ’’کمی‘‘ ہوئی کہ مجبوراً ہمیں 8 تعلیمی بورڈوں کو ایک بورڈ میں مدغم کرنا پڑ رہا ہے۔
میرے علم کے مطابق اب تک اسمبلی میں اس مسئلے پر کوئی گفتگو ہوئی ہے اور نہ اس عمل میں شریک مقتدر اداروں (پرائیویٹ سکول، سرکاری سکول اور محکمۂ تعلیم) کو اعتماد ہی میں لیاگیا ہے۔ اس لیے اب تک لوگ اس سلسلے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
اس عمل کے پیچھے کون سے محرکات ہیں ؟ ابھی تک کسی کو اس کے بارے میں علم نہیں۔ اگر ایسا کرنے سے حکومت امتحانی نظام میں شفافیت لانا چاہتی ہے، تو یہ دنیا کے مروجہ اصولوں کے برعکس ہے۔ اس لیے کہ جدید دنیا اداروں میں استحکام اور بہتری لانے کے لیے مرکزیت کو خیر باد کَہ رہی ہے۔ شفافیت، ادارے ختم کرنے سے نہیں…… بلکہ ان کے کام کو بہترین انداز میں تقسیم کرکے ہی لائی جاسکتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے حکم رانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ اداروں میں شفافیت لانے کے لیے اداروں پر ادارے بناتے چلے جاتے ہیں…… جب کہ موجود اداروں کی خرابیوں کو دور کرنے پر توجہ نہیں دیتے۔
دستیاب معلوما ت کے مطابق امسال صرف سوات کے تعلیمی بورڈ سے میٹرک کے امتحان میں 92801 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا۔ یوں ان کے پرچوں کی تعداد 742,408 بنتی ہے…… جب کہ ایف ایس سی میں 59,684 طلبہ وطالبات شریک ہوئے۔ یوں ان کے پرچوں کی تعداد 358,104 بنتی ہے۔ سوات بورڈ میں گذشتہ دو سالوں سے شفافیت اور اصلاح کی جتنی کوششیں کی گئی ہیں، وہ قابلِ ستایش ہیں، لیکن اس کے باوجود اگر آپ دیکھیں، تو مسایل کے انبار ہیں۔ اس بات کا مَیں عینی شاہد ہوں کہ موجودہ چیئرمین بورڈ اور کنٹرولر امتحانات نے ’’ری ٹوٹلنگ‘‘ کرنے والے بچوں کو باقاعدہ ان کے پرچے دکھائے ہیں اور ممکن حد تک والدین اور بچوں کی شکایات کا اِزالہ کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس کے باوجود مسایل ہیں۔
آئیں، اب تصویر کا دوسرا رُخ دیکھتے ہیں۔ امسال صوبہ خیبر پختون خوا کے تمام تعلیمی بورڈوں سے میٹرک کے امتحان میں 742742 جب کہ ایف ایس سی میں 483940 طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ ان کے پرچوں کی تعداد بالترتیب 5,941,936 اور 2,903,640 ہے۔ کل ملا کر ان پرچوں کی تعداد 8,845,576 بنتی ہے۔ چیکنگ او ر ری چیکنگ تو چھوڑیں، اس واحد بورڈ کے لیے ان پرچوں کی ٹرانسپورٹیشن سروس ایک بہت بڑا مسئلہ ہوگی۔
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان سکرین مارکنگ کی کوشش کی گئی۔ پہلے تو میری معلومات کے مطابق یہ تجربہ ناکام ہوا اور بعد میں یہ پرچے بھی روایتی انداز میں چیک کیے گئے۔ چلو مان لیتے ہیں کہ یہ تجربہ کامیاب ہوتا ہے، تو اس کا فی پرچہ خرچ 160 روپے ہے۔ یوں میٹرک کے صرف پرچوں پر خرچ 1280 روپے ہوگا…… جب کہ امتحانی ڈیوٹی اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہوں گے۔
اب زمینی حقایق کیا ہیں؟ پرائیویٹ سکولوں میں عموماً والدین یہ اخراجات تو پوری کرلیتے ہیں…… لیکن آپ ذرا کسی سرکاری سکول کے ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل سے پوچھ لیں کہ ہر سال وہ کتنے بچوں کا داخلہ اپنی جیب سے کرتا ہے…… یا ان کے داخلے کے لیے سکول کے کتنے اساتذہ چندہ جمع کرتے ہیں؟ اس لیے میری تعلیم سے وابستہ تمام ذمے داران سے درخواست ہے کہ اس سلسلے میں عجلت سے کام نہ لیں۔ زمینی حقایق جانے بغیر ایسا فیصلہ کرنے سے ہمارے بچوں کا مستقبل تباہ ہوگا۔ اس سلسلے میں اگر بورڈ کے تمام حصے داروں کو اعتماد میں لیا جائے، اس بات پر کھلے دل کے ساتھ گفتگو ہو ، بچوں اور والدین کی سہولت کو مدِ نظر رکھا جائے، تو یقینا اس کے اچھے نتایج برآمد ہوں گے۔ ا س کے علاوہ صوبے کے تمام ممبر انِ اسمبلی سے میری گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے پر اسمبلی فلور پر بات کریں۔
پوری دنیا میں مسایل کے حل کے مسلم اصول ہیں۔ سب سے پہلے اس بات کی نشان دہی کی جاتی ہے کہ مسئلہ کیاہے؟ اس کے بعد مسئلے کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اس کے بعد مسئلے کی بنیاد کا جایزہ لیا جاتا ہے۔ پھرمسئلے کے حل کے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں۔ پھر لایحۂ عمل طے کیا جاتا ہے اور اس کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔اس کے بعد تجزیہ کیا جاتاہے اور بہتری کے لیے مسلسل کوشش کی جاتی ہے۔ بورڈ کے ادغام کے سلسلے میں انتہائی عجلت سے کام لیا جا رہا ہے۔ اس عجلت کے پیچھے کون سے محرکات ہیں؟ اس کا کسی کو علم نہیں۔
ابھی تک دستیاب معلومات کے مطابق انتہائی بے سرو پا وجوہات کو بنیادبنا کر یہ فیصلہ کیا جارہاہے، جن میں چند کا ذکر کرنا لازمی ہے۔
٭ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے تعلیمی بورڈوں میں اثر و رسوخ ہے۔ اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے یہ بات تسلیم بھی کرلیں کہ ایسا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک تعلیمی بورڈ کے لیے لوگ آسمان سے اتریں گے…… یا باہر سے منگوائے جائیں گے کہ وہ پرائیویٹ سکولوں کے ساتھ راہ و رسم نہیں رکھیں گے۔ اس کے بر عکس اگر دیکھا جائے، تو اس وقت ڈھیر سارے سرکاری تعلیمی ادارے ایسے ہیں جو بورڈمیں اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی مثال اسلامیہ کالج پشاور کی ہے۔ اگر سوات کی سطح پر بات کی جائے، تو گورنمنٹ ڈگری کالج مینگورہ، جہانزیب کالج سیدو شریف اور بہت سے دیگر ہائیر سیکنڈری سکول ایسے ہیں جو کہ تعلیمی کار کردگی میں اپنی مثال آپ ہیں۔
٭ دوسرا جواز جو پیش کیا جارہاہے، وہ امتحانی نظام میں شفافیت ہے۔ جیسا کہ مَیں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ بورڈ کلینڈر میں اس کے لیے کافی قوانین موجود ہیں۔ اس لیے بورڈ کلینڈر پر عمل درآمد ہی امتحانی نظام کی شفافیت کا ضامن ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہر بورڈ کی سطح پر بڑے امتحانی سینٹرز بنائے جائیں، جہاں بڑی تعداد میں بچوں کے بیٹھنے کی گنجایش موجود ہو، تو اقربا پروری کی بیخ کنی ہوسکتی ہے۔
٭ ایک بات جو بہت زیادہ کی جارہی ہے، وہ یہ ہے کہ پورے صوبے کے لیے ایک جیسا پیپر ہو۔ میرے خیال میں اس بنیاد پر سارے بورڈوں کی انفرادی حیثیت ختم کرنا زیادتی ہے۔ اب بھی بورڈ کے پیپر سیٹ کرنے کے لیے جو طریقۂ کار ہے، اس میں اگر تھوڑی سی ترمیم کی جائے، تو یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ جس طریقۂ کار پر ہر بورڈ کے لیے پرچے تیار ہوتے ہیں،اگر اسی طریقۂ کار پر انٹر بورڈ کمیٹی (KPBCC) میں تمام بورڈوں کے لیے ایک ہی پرچہ منتخب کیا جائے، تو بورڈ ختم کرنے تک معاملہ نہیں جائے گا۔
٭ بورڈوں کی کارکردگی پر اگر کہیں سوال اٹھتے ہیں، تو اس میں "Board Clandar” کا قصور نہیں، بلکہ اس میں عمل درآمد نہ کرنا یا بورڈ میں بے جا سیاسی مداخلت ہے۔ بورڈ کے معاملات کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے اس میں ا س کا مجلسِ منتظمہ (Borad of Governors) کا ہونا لازمی ہے، جس میں بورڈ کے معاملا ت کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے تمام حصہ داروں (Stack Holders) کی شرکت لازمی ہوتی ہے۔
اگر مسایل مذکورہ بالا ہیں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک بورڈ کے پاس وہ کون سی جادو کی چھڑی ہوگی جس سے مسایل کا قلع قمع ہوگا…… بلکہ میرا خیال ہے کہ اس سے مزید مسایل اور رشوت اور سفارش کے نئے ابواب کا آغاز ہوگا…… جن میں سرِ دست درجِ ذیل مسایل پیدا ہوں گے:
٭ جو اعداد و شمار میں نے حصۂ اول میں دیے تھے، انہیں سامنے رکھ کراندازہ لگائیں کہ اگر کسی کو ’’ری ٹوٹلنگ‘‘ کرنی ہو،تو اتنے سارے پرچوں میں کسی کی ’’ری ٹوٹلنگ‘‘ کے لیے ایک عرصہ درکار ہوگا۔
٭ چھوٹے چھوٹے مسایل کے لیے ہمیں پشاور کے چکر کاٹنے پڑیں گے۔
ان مسایل کے حل کے لیے بہتر یہی ہے کہ اس وقت تمام تعلیمی بورڈ وزیرِ اعلا کی نگرانی میں ہیں۔ اگر بورڈ کی کارکردگی کی چانچ کے لیے وہ ایک ٹیم تشکیل دے دیں، تو بورڈوں کے ادغام کی ضرورت نہیں ہوگی اور عوام کو جو سہولت دی گئی ہے، وہ اس مستفید بھی ہوسکیں گے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔