جیسا کہ ہم سب کو معلوم ہے کہ اس وقت سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں…… اور الحمدﷲ اب قوم کچھ معمولی سا بیدار بھی ہوئی ہے۔ حکومت نے بھی ادھر توجہ دی ہے۔ وزیرِ اعظم میاں محمد شہباز شریف سندھ اور بلوچستان خود گئے اوراب تک خیبر پختون خواہ بھی جاچکے ہیں۔ مریم شریف صاحبہ بھی جنوبی پنجاب گئی ہیں۔ وزیرِ خارجہ اور پی پی راہنما بلاول بھٹو مع سندھ کابینہ سندھ کے اکثر علاقوں میں جا رہے ہیں۔
اس طرح سابقہ وزیراعظم عمران خان نے بھی سوات کا دورہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ اور عوامی راہنما یا شخصیات بھی متحرک ہیں۔ جے یو آئی کے راہنما، عوامی نیشنل پارٹی، جمہوری وطن پارٹی، ایم کیو ایم اور پاک سر زمین پارٹی کے علاوہ کچھ نئی جماعتیں جیسے پاک سر زمین اور نہایت ہی متاثر کن کرنل مجتبیٰ کی ’’فرسٹ ڈیمو کریٹک فرنٹ‘‘ (ایف ڈی ایف) بھی متحرک ہے۔ محترم علامہ سراج الحق حسبِ معمول مع پوری جماعت مکمل میدان میں ہیں…… جب کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سابق وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر بھی متاثرین کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
اس کے علاوہ کچھ فن کار، گلوکار اور میڈیا ہاؤسز نے بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ این جی اُوز تھوڑا بہت متحرک ہوئیں۔ پھر سرکاری ادارے جن میں حسبِ سابق پاک فوج اول اور اس کے ساتھ پولیس فلڈ مینجمنٹ وغیرہ بھی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ اب عوام میں بھی کچھ امدادی کمیپ نظر آنا شروع ہوگئے ہیں…… لیکن جیسا کہ ہم نے گذشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ قوم بہرحال تقسیم ہے۔ پہلے کی طرح نہیں کہ تمام توجہ مسایل کے حل پر ہو۔ اس حد تک تو بات قابلِ برداشت ہے کہ اگر کوئی سیاسی یا عوامی گروہ کام کرتا ہے، تو اس کا حق ہے کہ وہ خود کو نمایاں کرے…… اور عوام میں اپنی کارکردگی پیش کرے۔ ایسا شروع سے ہوتا چلا آ رہا ہے…… لیکن اس دفعہ ایک مکروہ عنصر شامل ہوگیا ہے اور وہ یہ کہ ’’فُلاں کو نہ دینا وہ چور ہے۔‘‘
کچھ بیرونِ ملک موجود عناصر اس آڑ میں پاک فوج کو بھی متنازعہ بنا رہے ہیں…… بلکہ بدنام کر رہے ہیں۔ اسی طرح مختلف سیاسی دھڑے خصوصاً دو بڑی جماعتیں یعنی تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ ن سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو خوب معتوب و ملعون کر رہی ہیں۔ ایک کَہ رہا ہے ’’یہ چور ہیں، عوام ان کو مت دیں!‘‘ جب کہ دوسرا کَہ رہا ہے کہ ان کو صدقہ اور زکات کھانے کی عادت ہے۔ ہم یہ بات بہت دکھ سے کہتے ہیں کہ اس تقسیم کی براہِ راست ذمے دار ’’تحریکِ انصاف‘‘ ہے اور اسی نے اس حرکت کی ابتدا کی ہے۔
اگر یہ کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا کہ یہ لفاظی محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ ہے۔ اس عظیم انسانی المیہ کو سیاست واسطے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان نام نہاد بڑی جماعتوں سے تو کئی درجہ بہتر اور قابلِ ستایش چھوٹی جماعتیں ہیں۔
پیپلز پارٹی تھوڑا بہت خود لگی ہوئی ہے اور کوئی بھی کرے، مدد کی اپیل کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک قابلِ فخر تصویر جو کالام (سوات) کی ہے کہ جہاں آپس کے شدید ترین نظریاتی مخالف میری مراد عوامی نیشنل پارٹی اور جماعتِ اسلامی سے ہے کہ کارکن مل کر کام کر رہے ہیں…… مگر بڑی جماعتیں بچوں کی طرح لڑ رہی ہیں، یہ قابلِ افسوس ہے۔ ان خدا کے بندوں کو احساس کرنا چاہیے کہ یہ وقت سیاست کا نہیں۔ کم از کم حیوانات سے ہی سیکھو کہ جب جنگل میں آفت آتی ہے، تو سب اکٹھے ہوجاتے ہیں۔
ان حرکات سے آپ لوگ خود کو تو شاید کوئی فایدہ نہ دے سکیں…… لیکن ملک اور عوام کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ یہاں ہم کو یہ کہنے میں بھی کوئی دقت نہیں کہ اس تقسیم اور نفرت کے بانی و مربی سابق وزیراعظم عمران خان ہیں۔ ان کو یہ احساس ہوگیا ہے یا احساس دلایا گیا ہے کہ آپ کی سیاست کی بقا صرف اس بات میں ہے کہ اپنے تمام مخالفین خصوصاً مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو ہر وقت، ہر فورم اور ہر جگہ بس چور، ڈاکو، بدمعاش اور ملک و قوم کے دشمن بولتے رہیں۔ ان سے مذکرات نہ کریں، ان کے ساتھ نہ بیٹھیں۔ سو خان صاحب یہ کام بہت خلوص سے کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک اسی دایرے میں ہیں۔
بطورِ وزیراعظم خان صاحب نے قایدِ حزبِ اختلاف جو حال کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف تھے، سے ایک بار بھی ملنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ حتی کہ نیب چیئرمین چیف الیکشن کمیشن جیسے آئینی عہدوں پر تعیناتی ہو یا کرونا کی وبا…… انھوں نے کبھی اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ نہیں ملایا۔
اے کاش! سابق وزیرِاعظم اب ان حالات میں رویہ بدل دیں…… جب کہ ہم حکومت سے بھی یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ماضی بھول کر اگر عمران خان سے ممکن نہیں، تو کم از کم خیبر پختون خوا، پنجاب، کشمیر اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلا کو اعتماد میں لیں۔ ان سے مذکرات کریں اور ان سے مل کر سیلاب کی تباہ کاریوں پر کام کریں۔ مزید تمام سیاسی قیادت اور صحافتی حلقے اس بات پر بھی توجہ دیں کہ آپ کی کسی سے سیاسی مخالفت یا ذاتی پسند و نا پسند آپ کو اس حد تک نہ لے جائے کہ آپ ملک و قوم کا نقصان کرلیں۔ مثلاً اس بات میں احتیاط کریں کہ ’’فُلاں کو مت دو وہ چور ہے۔‘‘، ’’فُلاں کو مت دو کہ زکات کھا گیا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ آپ بس یہ بولیں کہ جس پر آپ کا اطمینان و تسلی ہو اس کو دے دیں۔ اگر کسی کو سیاسی قیادت پر یقین نہیں، تو وہ کسی این جی اُو یا بے شک ذاتی طور پر کسی متاثرہ خاندان کی مدد کر دے۔ اﷲ ہدایت دے، ہماری سیاسی قیادت خاص کر تحریکِ انصاف کو ان کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے منھ سے نکلنے والی آگ کس طرح نقصان کرسکتی ہے۔ مثلاً جب آپ سوشل میڈیا پر کسی موجودہ وزیرِ اعظم، وزیرِ خارجہ یا سابقہ وزیرِ اعظم اور سابقہ صدر کو چور چور کَہ کر ان کو امداد دینے سے لوگوں کو منع کرتے ہیں، تو پھر عالمی برادری تو سب انتظامیہ کو چور مان کر ہاتھ روک سکتی ہے۔
اگر کسی کو میریٹ کا اتنا ہی غبار ہے، تو وہ آنے والی امداد کو صحیح استعمال کرنے پر زور دے اور اس کے طریقۂ کار کو شفاف بنانے پر دباو ڈالے…… نہ کہ بنا سوچے سمجھے بس چور چور کا شور کرتا رہے۔
اے کاش……! قوم بھی یہ سمجھے کہ بقولِ تحریکِ انصاف ہم نے پانچ ارب جمع کرلیے۔ بقولِ پی پی وزیرِ خارجہ بلاول بھٹو نے بین الاقوامی برادری سے قریب ڈیڑھ کھرب اکٹھے کرلیے۔ بقولِ ن لیگ وزیر اعظم نے مقامی طور پر چیمبرز وغیرہ سے چالیس ارب جمع کرلیے۔ پھر کچھ اور این جی اُوز اور جماعتیں ملا کر یہ رقم دو کھرب بنتی ہے۔ اب عوام اس پر نہ شور کرے کہ فُلاں جھوٹ بول رہا ہے، یا فُلاں غلط ہے…… صرف یہ مطالبہ کرے کہ ان دو کھرب کا استعمال کہاں ہو رہا ہے؟ سب کچھ واضح ہوجائے گا۔
ہماری عوام اور خاص کر سیاسی کارکنان سے اپیل ہے کہ وہ جتنی طاقت اپنی جماعت کو صحیح اور دوسروں کو غلط ثابت کرنے میں ضایع کر رہے ہیں…… اگر اس سے آدھی طاقت بھی وہ انصاف اور حق داروں تک حق پہنچانے میں خرچ کریں، تو یقیناً اس کا بہت فایدہ متاثرینِ سیلاب کو براہِ راست ہو سکتا ہے۔
سو ہم قوم سے دوبارہ گزارش کرتے ہیں کہ اُٹھیں اور مظلوں کے حقوق کی خاطر جنگ لڑیں۔ بول سکتے ہیں، تو بولیں۔ عوام میں جا سکتے ہیں، تو جائیں۔ احتجاج کرسکتے ہیں، تو کریں۔ لکھ سکتے ہیں، تو لکھیں۔ سوشل میڈیا کو استعمال کریں۔ہر فورم اور پلیٹ فارم پر آواز بلند کریں۔ بنا کسی سیاسی تعصب اور وفاداری کے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔