(خصوصی رپورٹ) سوات میں تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب نے جہاں تباہی مچائی وہاں مدین کے علاقہ درب کا پورا گاؤں ریلے کی نذر ہوگیا۔
درب گاؤں کالام روڈ پر قندیل کے قریب دریائے سوات کے کنارے آباد تھا۔ گاؤں کے رہائشیبخت جہان کے بقولگذشتہ روز جب دریا میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا، تو ہم خواتین اور بچوں کو نکال کر قریبی گاؤں منتقل ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں پانی میں بہہ گیا۔ گاؤں میں پچیس کے قریب گھر تھے جس میں تمام سامان، پیسے اور زیورات موجود تھے۔
سیلابی ریلے نے بخت جہان کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ بہا دیا۔ گھروں کے ساتھ ان کے کھیت اور باغات بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔
درب گاؤں کے مردوں نے گاؤں کے باہر جامع مسجد درب میں پناہ لی ہے۔ مسجد میں موجود لوگوں نے بتایا کہ گاؤں کے سارے مرد اس مسجد میں جمع ہیں۔ قریبی گاؤں کے لوگوں نے ان کو بسترے فراہم کیے ہیں۔مسجد میں بیٹھے ہر شخص کے غم کی الگ کہانی ہے ۔ کھانے کے بارے میں متاثرہ گاؤں والوں نے کہا کہ قریبی گاؤں کے لوگ ان کے لیے ناشتے اور دو وقت کے کھانے کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن جن کا گھر بار ان کے سامنے بہہ گیا ہو اور وہ اس سوچ میں ہوں کہ کہاں رہیں گے اور کہاں سے گھر کا سامان خریدیں گے، تو ایسے میں کون ہوگا جو پیٹ بھر کے کھانا کھا سکے گا؟




درب گاؤں کے رہایشی مسجد میں بے سر و سامانی کے عالم میں پناہ لیے ہوئے بیٹھے ہیں۔ (فوٹو: سعید اقبال)

درب گاؤں کی خواتین اور بچوں کو رشتہ داروں اور قریبی گاؤں کے لوگوں نے اپنے گھروں میں پناہ دے رکھی ہے۔ مسجد میں موجود سیلا ب زدگان سے جب ان کی عورتوں اور بچوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو سب لوگ آب دیدہ ہوگئے اور بعد میں بتایا کہ کچھ لوگوں نے اپنے خواتین اور بچوں کو رشتہ داروں کے ہاں بھیجا ہے۔
بعض نے کہا کہ ان کی خواتین اور بچوں کو قریبی گاؤں کے لوگوں نے اپنے گھروں میں پناہ دے رکھی ہے۔