پچھلے کچھ دنوں سے یہ بات بہت دکھ سے محسوس کی جا رہی ہے کہ پورا ملک تقریباً اس وقت بارش کے پانی سے ڈوب چکا ہے۔
حکومت کے اپنے بیانات کے مطابق بلوچستان کا 80 فی صد، سندھ کا 90 فی صد، خیبر پختون خوا کا 60 فی صد، جنوبی پنجاب 50 فی صد جب کہ کشمیر اور گلگت بلستان کی بھی ایک بہت بڑی آبادی بارشوں اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے بہت بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ سیکڑوں لوگ جان بحق ہو چکے ہیں۔ ہزاروں زخمی ہیں۔
اس طرح بے شمار گھر ملیا میٹ ہوچکے ہیں…… جب کہ عوام کا مال اسباب بہہ گیا ہے۔ خاص کر غریب لوگوں کے مال مویشی پانی کے ریلے کی نذر ہوچکے ہیں۔ تمام کھڑی فصلیں، سبزیاں اور پھل تباہ ہوچکے ہیں۔
موصولہ اطلاع کے مطابق پی پی پی کے چیئرمین محترم بلاول بھٹو کو ماں مطلب ’’محترمہ بینظیر بھٹو (شہید)‘‘ کی طرف سے ملا ہوا وراثتی گھر بھی گر گیا ہے۔
ہر طرف افراتفری بے سکونی اور پریشانی کا ماحول ہے۔ لوگوں کی بڑی اکثریت اس وقت بارش کی شدت میں محض اوپر چھت پر دو وقت کی روٹی، صاف پانی اور ضروی دوا کی شدید محتاج ہے۔
لوگ کھلے آسمان تلے بچوں اور بزرگوں کے ساتھ بارش میں لاوارث پڑے ہیں…… لیکن انتظامیہ بے حسی کی مثال بنی تماشا دیکھ رہی ہے…… اور سیاست دان محض ’’مقدمہ مقدمہ‘‘ کھیل رہے ہیں۔
اس تمام تر صورتِ حال میں میڈیا کی تمام توجہ عمران خان کی ضمانت رانا ثناء اﷲ اور مریم شریف پر مقدمات اور شہبازگل کی جیل میں مصروفیات کی طرف مرکوز ہے۔ انسانیت کا درد…… نہ خوفِ خدا۔ شاید ہی تاریخ میں اس انسانی المیہ کی کوئی دوسری مثال ہو۔
معلوم نہیں فرعون، نمرود، یزید اور حجاج بن یوسف سے لے کر چنگیز خان اور ہلاکو خان نے بھی اتنی بے حسی کا مظاہرہ کیا ہو۔ یہ قابلِ شرم بھی ہے اور قابلِ غور بھی۔
قارئین! بنا کسی سیاسی تعصب کے یہ بات بھی عجیب ہے کہ اس المیہ میں تھوڑا کام کرتے ہوئے سندھ کی حکومت نظر آئی، لیکن اس کو سب سے زیادہ معتوب ٹھہرایا جا رہا ہے۔ باقی خیبر پختون خوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلا سیلاب کے دوران میں منظر سے بالکل غایب رہے…… جب کہ پنجاب کے وزیرِ اعلا عمران خان کے خلاف مقدمات کا جوابی حملہ تیار کرنے میں مصروف ہیں۔
اس سے بڑھ کر قیامت یہ ہے کہ ماضی میں جب بھی ملک میں بحیثیتِ مجموعی کوئی مصیبت یا آفت آتی تھی، تو قوم یکجا ہوجاتی تھی۔ مثلاً تاریخ میں یہ درج ہے کہ ایوب خان کے خلاف اس وقت کی اپوزیشن شدید دباو میں تھی کہ سنہ1965ء کی پاک بھارت جنگ میں سب متحد ہوگئے۔ اس کے بعد شملہ معاہدہ کے وقت گو کہ تب کی حزبِ اختلاف ذوالفقار علی بھٹو کے شدید مخالف تھی…… لیکن سب متحد ہوگئے۔ حتی کہ اپوزیشن کے کچھ راہنما بشمول چوہدری ظہور الٰہی تک بھٹو صاحب کو چھوڑنے عوامی اڈے تک آگئے تھے۔
اس کے بعد ضیاء الحق کے تمام جبر کے باجود جنیوا مذکرات اور سیلاب کے وقت قوم ایک ہوگئی تھی۔
مشرف دور میں آنے والے قیامت خیز زلزلہ اور زرداری دور میں آنے والے شدید سیلاب میں بھی قوم متحد ہوگئی تھی…… لیکن یہ پہلی بار دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اس شدید ترین آفت کے دوران میں قوم تقسیم ہے۔ آج بھی ایک قومی سطح کا راہنما جو سابق وزیرِ اعظم بھی ہے کمر کس کر سڑکوں پر چیخ رہا ہے۔ ’’چور ڈاکو‘‘ کی صدائیں دے رہا ہے اور حکومت کو مستعفی ہو کر نئے انتخابات پر مجبور کر رہا ہے۔
دوسری طرف وزیرِ داخلہ ہر چینل پر بیٹھ کر اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ وزیرِ اطلاعات کے پاس سیلاب کی تو معلوم نہیں کوئی اطلاع ہے یا نہیں…… لیکن سابقہ حکومت اور سابقہ خاتونِ اول کی کرپشن کی کہانیاں بہت ہیں۔
دوسری طرف سیاست کی اس گندگی میں میڈیا فطری طور پر متاثر ہوچکا ہے۔ میڈیا ان ذکر شدہ حالات کو لچھے دار خبروں کی شکل دے کر پیش کر رہا ہے۔ غریب مرتے ہیں، تو مرتے رہیں، ان کی بلا سے!
اب جب میڈیا اور سیاست دان خود جان بوجھ کر منقسم ہیں، تو عوام خود بخود تقسیم کا شکار ہیں۔ کارکنان سیلاب پر کیا توجہ دیں، بس اپنی اپنی قیادت کو فرشتہ بنانے کے لیے سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔
سب سے بڑی حیرت کی بات یہ ہے کہ ہماری بین الاقوامی شہرت رکھنے والی عوام کی فلاح وبہود کے لیے کام کرنے والی سماجی تنظیمیں اُس طرح متحرک نہیں۔ ’’ایدھی فاؤنڈیشن‘‘، ’’چیپا گروپ‘‘ وغیرہ نظر نہیں آرہے۔ ’’الخدمت‘‘ تنظیم بہر حال کچھ کام کر رہی ہے۔
اس طرح ہمارے تاجروں کی تنظیمیں اور ملک بھر کے چیمبر آف کامرس بالکل لا تعلق ہیں…… جب کہ جن علاقوں میں یہ سیلاب موثر نہیں…… جیسے شمالی پنجاب اور لوئر خیبر پختون خوا، پشاور، ہزارہ وغیرہ…… وہاں عوام میں بھی کوئی خاص فکر نہیں…… یا تو مہنگائی نے لوگوں کی کمر اتنی شدت سے توڑی ہے کہ وہ بے چارے خود دو وقت کی باعزت روٹی کے محتاج ہو چکے ہیں…… یا پھر حکم رانوں کی بے حسی ان کو بھی بے حس کر گئی ہے۔
قارئین! وجہ بہرحال کچھ بھی ہو…… لیکن زمینی حقایق یہی ہیں کہ بحیثیتِ قوم ہم نہ صرف نااہل و بدیانت ہیں…… بلکہ انتہائی بے حس بھی ہیں۔
سو اُن حالات میں ہماری اجتماعی دانش کو غور کرنا ہوگا، قوم کی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اِن عناصر کا قلع قمع کرنا ہوگا جو ہمیں ضمیر کے بغیر جینے کی ترغیب دیتے ہیں۔ کیا اب یہ پوری قوم کا فرض نہیں کہ وہ یہ سوال کرے کہ جب محکمۂ موسمیات نے یہ پہلے بتا دیا تھا کہ اس دفعہ معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی اور سندھ اور بلوچستان میں بہت زیادہ…… تو آخر ہم کہاں سوئے رہے……!
پی پی پی کی گذشتہ 14 سال سے سندھ حکومت نے کیا پیش بندی کی تھی۔
بلوچستان کے اربابِ اختیار کیا حکمت علمی بناتے رہے؟
پنجاب میں بزدار صاحب نے تونسہ واسطے ہی کیا کیا……؟
اور پھر خیبر پختون خوا میں ’’بلین ٹری نامی سونامی‘‘ کہاں گیا؟
آج ماہرین یہ کَہ رہے کہ دعوؤں سے 50 بلکہ 25 فی صد تک بھی اگر درخت لگا ئے ہوتے، تو کالام اور سوات کا بہت کم نقصان ہوتا۔
بلکہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’بلین ٹری‘‘ کیا انہوں نے تو بے شمار درخت کاٹ کر بیچ ڈالے…… لیکن ہمیں یقین ہے کہ جب یہ سلسلۂ تباہی ختم ہوجائے گا…… غریب روتے دھوتے اپنی جھونپڑیوں کی تعمیر میں مصروف ہو جائیں گے…… تب بھی قوم کی اکثریت ’’تبدیلی آنہیں رہی، آگئی ہے!‘‘، ’’شیر اِک واری فیئر!‘‘، ’’بھٹو دے نعرے وجنڑ گے!‘‘، ’’حل صرف جماعتِ اسلامی!‘‘ وغیرہ میں مشغول ہوجائیں گے…… اور پھر کسی نئے المیے کا انتظار شروع ہوجائے گا۔
چلو پہلے والے معاملات کو رکھ چھوڑیں…… موصولہ اطلاع کے مطابق ’’وزیرِ اعظم فنڈ‘‘ میں قریب پچاس کروڑ ڈالر (مطلب پاکستانی اربوں روپیہ) بین الاقوامی برادری کی جانب سے آئے ہیں۔ خدا کے بندو! یہ سوچو کہ اگر یہ سب پیسا صحیح امانت داری سے استعمال ہو، تو کتنے لوگوں کے نقصان کا مداوا ہوسکتا ہے۔
کم از کم اس پر تو حکومت پر دباو ڈالیں کہ ایک ایک پائی دیانت داری سے استعمال کی جائے……لیکن مجھے یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا…… اور اس وجہ سے بے شک یہ منافقانہ ماتم بے اثر ہے۔ بقولِ اقبالؔ:
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوا ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔