سوات کو باقاعدہ ریاست بنانے کی پہلی کوشش 1849ء کو ہوئی جب پنجاب پر انگریزوں نے قبضہ کیا۔ سوات کے یوسف زئیوں نے، جنہوں نے سوات کو 16ویں صدی میں زیر کیا تھا، ایسی حکومت سید اکبر شاہ ستھانہ کی قیادت میں بنائی جو 1849ء تا 1857ء تک قایم رہی۔ اس سے پہلے سوات پر یوسف زئیوں نے اپنے قبضے کے بعد خان کجو اور ملک احمد جیسے سرداروں کی قیادت میں منظم ہونے کی کوشش کی، تاہم ان کے دور کو ریاستی دور نہیں کہا جاسکتا اور یہ کوئی منظم طرز کی حکومت نہیں تھی۔ میاں گل عبدالغفور المعروف سیدو بابا نے اپنے صاحب زادوں کے ذریعے سوات پر حکم رانی کی کوشش کی، تاہم کوئی خاص کامیابی نہ ہوئی اور سوات مسلسل اندرونی خلف شار اور بیرونی حملوں کا شکار رہا۔ 1915ء میں میاں گل عبدالودود کے ایما پر عبدالجبار شاہ ستھانہ کو سوات کا حکم ران بنایا گیا، لیکن وہ مقامی طور پر سرگرم سنڈاکے بابا اور سوات کے خوانین کے عبدالجبار شاہ کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کی وجہ سے قای، نہ رہ سکی…… اور نتیجتاً سوات میں بڑے جرگے نے میاں گل عبدالودود کو 1917ء میں سوات کا بادشاہ مقرر کیا۔
16ویں صدی میں لکھی گئی کتاب ’’تواریخِ حافظ رحمت خانی‘‘ کی رو سے سوات پر خان کجو کی حکومت سوات میں توروال اور تیرات تک تھی۔ مطلب موجودہ سوات کوہستان یا تحصیل بحرین میں خان کجو کی حکومت نہیں تھی اور یہ بدستور یاغستان رہا جب یہاں کے موجودہ توروالی پٹی میں ریاست سوات نے 1921ء اور 1922ء میں باقاعدہ حکومت قایم کی۔
بالائی سوات میں وسعت کے بعد چیل کو مارچ 1921ء میں شامل کیا گیا جب کہ ’’شاہ گرام‘‘ تا ’’قاروندوکے‘‘ تک بحرین وادی کو نومبر 1922ء میں سوات میں شامل کیا گیا۔
کالام کی طرف پیش قدمی کرتے وقت ریاستِ دیر اور چترال کی ریاست نے اعتراض کیا اور اس وجہ سے ملاکنڈ میں موجود برطانوی حکومت کے پولی ٹیکل ایجنٹ نے سوات کے باچا کو ’’قاروندوکے‘‘ سے آگے بڑھنے سے روک دیا۔
ریاستِ سوات میں پہلا بندوبست میاں گل عبدالودود نے شیخ ملی والی ویش نظام کو ختم کرکے کیا تھا اور اس کے لیے ان کے مطابق انہوں نے دن رات محنت کی تھی۔ تاہم کئی لحاظ سے اس بندوبست میں بڑے نقایص تھے۔ کیوں کہ انہوں نے اپنے سیاسی ساتھیوں کو بڑی بڑی زمینوں سے نوازا تھا اور کئی حوالوں کے مطابق اپنے مخالفین کو اکثر ایسے حقوق سے محروم رکھا تھا۔ ویش نظام کا خاتمہ اور پہلا بندوبست 1925ء تا 1930ء کے دوران میں مکمل ہوا تھا۔
ڈاکٹر سلطان روم کے نزدیک سوات کوہستان اور ریاستِ سوات کے ماتحت انڈس کوہستان میں ویش سسٹم مختلف تھا۔ انڈس کوہستان میں ویش خاص سوات کی طرح مقررہ وقت کے مطابق گردش کرتا یعنی ایک قبیلے سے دوسرے میں چلا جاتا، تاہم سوات کوہستان میں اس کے برعکس ویش سسٹم پہلے سے مستقل طور پر قبایل میں تقسیم شدہ اور تسلیم شدہ تھا…… یعنی یہاں کوئی گردشی ویش نظام نہیں تھا۔ البتہ دیگر سوات کی طرح یہاں توروال میں بھی زمین اور جنگلات سے متعلق ’’دوتر‘‘ اور ’’سیرئی‘‘ کا نظام تھا۔ دوتر مختلف مقامی قبایل میں مستقل طور پر تقسیم شدہ اور طے شدہ تھا…… جب کہ سیرئی غیر مقامی مگر مقامی طور پر مذہبی لحاظ سے مقدس خاندانوں کا حصہ ہوتا تھا۔
’’فریڈریک بارتھ‘‘ توروالیوں اور گاؤریوں میں زمین اور جنگلات کی تقسیم اور انصرام میں فرق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں یعنی توروالیوں اور گاؤریوں میں قابلِ کاشت زمین افراد کی ذاتی ہوتی تھی اوروہ اپنی مرضی سے اس کو بیچ سکتے تھے۔ تاہم وہ لکھتے ہیں کہ توروالی شخص اپنی زمین کو مقامی توروالیوں میں کسی کو بھی بیچ سکتا تھا، یعنی کسی دوسرے گاؤں یا قبیلے کے توروالی کو بھی بیچ سکتا تھا، تاہم غیر توروالیوں کو بیچنا معیوب سمجھا جاتا تھا، جب کہ گاؤری لوگوں میں کوئی فرد اپنی ذاتی زمین کو صرف اپنے نسبی یا رشتہ داروں کو بیچ سکتا تھا۔
جنگلات کی تقسیم بھی دوتر کی بنیاد پرتھی۔ تاہم پورے سوات مع توروالی و گاؤری پٹی میں جنگلات اور جنگلات کی پیداوار تک ہر مقامی فرد کو آزادانہ رسائی حاصل تھی۔ وہ اپنی ضروریات کے مطابق جنگلات کو استعمال کرسکتا تھا۔
اللہ یار خان جو انگریز دور میں اس پورے فرنٹیر کے خطے کے لیے جنگلات کے اعلا افسر تھے اور جنھوں نے موجودہ سوات کوہستان کا 1925ء اور 1928ء میں دورہ کیا تھا، لکھتے ہیں کہ توروالی اور گاؤری علاقوں میں تجارتی سطح پر جنگلات کی کٹائی آج سے کوئی 60، 70 سال پہلے یعنی 1850ء کے قریب شروع ہوئی اور یہاں سے مقامی لوگوں نے باہر خصوصاً پشاور اور نوشہرہ سے آئے ہوئے ٹمبر کے تاجروں کو دریا کنارے دیار کے درخت سستے داموں فروخت کیے جس کی وجہ سے اس علاقے میں دریائے سوات کے کنارے درخت کم دکھائی دیتے ہیں۔ 1925ء کو اللہ یار خان کی نگرانی میں توروالی بلٹ میں جنگلات کا پہلا ورکنگ پلان ہوا تھا اور اس کے بعد 1928ء کو گاؤری بلٹ میں ہوا تھا اور یہ سب انگریز حکومت نے ریاستِ سوات کے ساتھ مل کر کیا تھا۔ اللہ یار خان کے مطابق جب وہ 1925ء کو چودگرام (بالاکوٹ) آئے، تو انھوں نے سات آٹھ ٹھیکیداروں کو دیکھا جو مقامی لوگوں سے جنگلات خرید رہے تھے۔ یار خان کے مطابق یہاں جنگلات کاٹنے کا طریقہ نہایت سفاک اور دردناک ہے۔ یہ لوگ سب سے اچھے دیار کے درخت کاٹتے ہیں اور اور پھر ان سے گیلی بنا کر لڑھکاتے ہیں جس سے چھوٹے پودے بھی تباہ ہوجاتے ہیں…… جب کہ یہ تاجر جب ان سے درخت خریدتے ہیں، تو دریا کنارے سارے درخت بے دردی سے کاٹ کا دریا میں پھینکتے ہیں اور پانی کے ذریعے لے جاتے ہیں۔ ان تاجروں کے ساتھ مقامی طور پر بااثر افراد ملے ہوتے ہیں جو اس ٹمبر کے بیچنے کے بعد زیادہ رقم اپنی جیب میں ڈالتے ہیں بلکہ جنگلات کی یہ فروخت یہی لوگ کرتے ہیں۔
جنگلات کی اس طرح بے دردی سے کٹائی کا ذکر 1858ء میں اس قندھاری نے بھی کیا تھا جن کو میجر ریورٹی نے یہاں سوات میں شیخ ملی کی کتاب دفتر کا مسودہ حاصل کرنے بھیجا تھا۔ اس قندھاری کے مطابق دریائے سوات کے کنارے ہر طرف خصوصاً چودگرام (بالا کوٹ) اور چورڑئی (مدین) کے بیچ درختوں کے تنے (گیلیاں) پڑی ہوئی تھیں۔
اُس وقت کاکا خیل میاں گان نے یہاں سوات اور سوات کوہستان کے جنگلات کو بے دریغ کاٹا۔ ان جنگلات کا کوئی انتظام و انصرام نہ تھا۔ ریاستِ سوات کے ابتدائی دنوں اور اس سے پہلے یہاں کے جنگلات کی حالت بری تھی۔
اللہ یار خان لکھتے ہیں کہ مانکیال 1 اور مانکیال 2 میں کاکا خیل ٹھیکیدار میاں محترم شاہ نے یہاں کے توروالیوں سے جنگل خریدا۔ اسے کاٹا، مگر دریا کنارے جمع کرنے کے بعد یہ ٹھیکیدار غایب ہوگیا اور مقامی لوگوں نے غصّے میں آکر پورے گیلیوں کو آگ لگا دی۔ سارا ٹمبر جل گیا۔ ہمارے مقامی لوگ یہی کرتے آئے ہیں کہ اپنی بے بسی کا اظہار خود اپنے وسایل کو آگ لگا کر کرتے ہیں۔
ریاستِ سوات کے اس علاقے میں آنے سے پہلے یہاں جنگلات کی حالت بہت بری تھی۔ 1965ء کے ایک ورکنگ پلان میں قدیر خان نامی ایک فارسٹ آفیسر لکھتے ہیں کہ سوات، ریاست کے قیام سے پہلے یہاں سوات کے جنگلات سے ہر طرح کی زیادتی ہو رہی تھی۔ ان کو بے دریغ کاٹا جاتا تھا۔ ان کے اندر کھیت بنائے جاتے تھے اور ان کو بہت ہی کم قیمت پر بیچا جاتا تھا…… جہاں کوئی پلان نہ ہونے کی وجہ سے متعلقہ تاجر پورے کا پورا جنگل چھوٹے بڑے سب درختوں سمیت کاٹتا تھا۔ ریاست کے قیام سے پہلے بھی سب لوگوں کے پاس جنگلات کے مالکانہ حقوق نہیں تھے۔ ویش کے بارے میں اکثر رومانس پایا جاتا ہے اور کئی لوگ ریاست کے قیام سے پہلے ویش کو مساویانہ نظام قرار دیتے تھے…… لیکن وہاں بھی کہیں بھی جنگلات سب کے لیے یکساں طور پر مہیا نہیں تھے اور ان کے مالکانہ حقوق مخصوص لوگوں کے پاس ہوتے تھے۔
جنگلات کے مالکانہ حقوق ہمیشہ کے لیے ریاست اور مقامی لوگوں کے بیچ تنازع کا سبب رہے ہیں۔ ریاستِ سوات کے قیام کے بعد جب ریاست وسیع ہوکر توروالی علاقے پہنچی، تو اس وقت یہاں کے مقامی لوگوں نے باچا صیب کو اس بات پر علاقے میں سڑکیں اور تحصیل بنانے کی اجازت دی کہ باچا صیب مقامی لوگوں سے جنگلات کے مالکانہ حقوق نہیں چھینیں گے…… لیکن بعد میں روایات کے مطابق باچا صیب نے جنگلات کو ریاست کی ملکیت قرار دیا اور مقامی طورپر شدید مخالفت کو لوگوں کو تقسیم کرکے کچل دیا۔ مقامی لوگ بیگار کے لیے تیار تھے، تاہم جنگلات کی ملکیت دینے سے گریزاں تھے۔ اس کی وجہ شاید یہی تھی کہ اس وقت مقامی لوگوں کے لیے نقدی کا واحد ذریعہ ان ہی جنگلات کا بیچنا تھا۔
یہ واضح نہیں کہ باچا صیب نے یہاں کے جنگلات کو کس تاریخ اور سنہ کو ریاست کی ملکیت قرار دیا…… تاہم اللہ یار خان اور کچھ دفتری رپورٹیں ان جنگلات کو ریاست کی ملکیت قرار دیتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایسا 1925ء کے آس پاس کیا گیا۔ جب ریاست نے جنگلات اپنی ملکیت میں لیے، تو مقامی لوگوں کی دس فی صد رائلٹی مقرر کی۔
گاؤری علاقے کے جنگلات کے بارے میں 1929ء کو اس وقت کے انگریز پولی ٹیکل ایجنٹ تھامسن کے ایک خط کے مطابق سوات کے باچا اپنی رعایا یعنی ریاستِ سوات کے اندر کے علاقوں میں مقامی لوگوں کو فی درخت صرف 2 روپے دیتے تھے اور کالام اور اتروڑ میں کاکا خیل ٹمبر تاجر میاں مشرف کاکاخیل کی پشت پناہی کرتا تھا کہ وہ گاؤری علاقوں سے ٹمبر نکالے۔ کیوں کہ ان علاقوں پر سوات کے باچا صیب کی براہِ راست حکومت نہیں تھی۔ اسی طرح اسی خط کے مطابق باچا صیب چوکیل بانڈا کے آس پاس یعنی سیرئی جنگلات سے مقامی گوجر برادری کو ایک ٹکہ بھی نہیں دیتے تھے۔
ریاستِ سوات کے باچا صیب نے دس فی صد رائلٹی جس کو بعد میں 15 فی صد کیا گیا، کے عوض یہاں کے جنگلات کو ریاست کی ملکیت قرار دیا…… لیکن محققین کے مطابق ایسا شاید زبانی کلامی ہوا کہ کوئی ایسی قانونی دستاویز یا مقامی لوگوں اور باچا صیب کے درمیان کوئی معاہدہ موجود نہیں…… جس کی رو سے جنگلات ریاست کی ملکیت ہوں۔ ریاست کے زمانے میں اللہ یار خان کے مطابق باچا صیب نے صرف دیار کے جنگلات کو ریاستی ملکیت قرار دیا۔ کیوں کہ اس زمانے میں تجارتی مقاصد کے لیے دیار ہی استعمال ہوتا تھا…… اور یہی ریاست کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ بھی تھا۔
یہ کافی دلچسپ ہے کہ اس وقت کی برطانوی حکومت نے (جو صوبہ فرنٹیر پر حکم ران تھی) سوات کے جنگلات میں سب سے پہلے توروالی علاقے کے جنگلات کا سروے بذریعہ اللہ یار خان سنہ 1925ء کو کرایا جنھوں نے یہاں کا سروے کرکے اپنی رپورٹ دی۔ برطانوی حکومت نے ریاستِ سوات کے حکم ران کو براہِ راست ایسا کرنے نہ دیا۔ کیوں کہ ان کے سامنے دیر کے جنگلات کی مثال موجود تھی…… جو وہاں کے نواب نے ان جنگلات کے ساتھ کیا تھا۔
اللہ یار خان نے جو ورکنگ پلان توروالی بلٹ کے لیے 1925ء میں بنایا تھا، اس کی رو سے دیار کی کٹائی پر پابندی تھی…… تاہم اس کو گھروں کی تعمیر اور قبروں میں تابوتوں کے لیے کاٹنے کی اجازت دی گئی تھی۔ ریاستِ سوات نے سارے حقوق اور مراعات کو ختم نہیں کیا تھا۔ مویشیوں کے لیے درال، کیدام اور اسریت بالاکوٹ کے چراگاہوں پر لے جانے کے لیے وقت اور راستے مقرر کیے تھے ۔
کالام پر ریاستِ سوات کا قبضہ برطانوی حکومت نے مہتر آف چترال اور دیر کے نواب کی وجہ سے نہیں ہونے دیا۔ تاہم یہاں کے جنگلات پر ان کی بھی نظر رہی۔ کیوں کہ 1928ء کی ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق گاروی/ گاؤری علاقے میں دیار کے جنگلات دنیا میں اپنی نوعیت کے واحد جنگلات ہیں جو 60 ہزار ایکڑ کے رقبے پر محیط ہیں۔ ان جنگلات میں انوکھا جنگل کالام اور اوشو کے بیچ میدانی جنگل ہے جو دیار پر مشتمل ہے۔ برطانوی حکومت کی طرف سے کالام اور اتروڑ، اوشو بشمول آریانئی کے جنگلات کے انصرام کے لیے پہلا جرگہ 1926ء کوملاکنڈ میں بلایا گیا، تاکہ حکومت اور گاؤری لوگوں کے بیچ کوئی معاہدہ طے پائے جس کی رو سے ان جنگلات کا بہتر انتظام کیا جاسکے۔ جنوری 1927ء کو 120 افراد پر مشتمل جرگہ ملاکنڈ گیا اور اس وقت کے پولی ٹیکل ایجنٹ سے ملا۔ کالام کے جنگلات کے انتظام میں ایک رکاوٹ چترال کے مہتر بھی تھے۔ برطانوی حکومت سے معاہدے کے لیے ایک دوسرا جرگہ 1928ء کو ملاکنڈ میں منعقد ہوا جہاں 65 بڑوں نے اس معاہدے پر دستخط کیے جس کی رو سے وہ اپنے علاقے میں مہتر چترال، نوابِ دیر اور باچا سوات کو بغیر برطانوی حکومت کی اجازت کے آنے نہیں دیں گے۔ مزید برآں وہ جنگلات کے انصرام اور ان کے تصرف کا اختیار برطانوی حکومت کو دیں گے اور بدلے میں برطانوی حکومت قریبی علاقوں سے بڑوں کو ان کے جنگلات میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی (غالباً یہ ان توروالیوں کی طرف اشارہ ہے جو اس وقت کالام کے جنگلات سے ٹمبر لاتے تھے اور کئی ایک علاقوں سے قلنگ وصول کرتے تھے، جس پر گاؤریوں اور توروالیوں کے بیچ کئی جرگے بھی ہوئے تھے اور کئی جنگیں بھی۔)
برطانوی حکومت کے ساتھ اس معاہدے میں بھی مالکانہ حقوق کی بات نہیں کی گئی تھی۔
ریاستِ سوات کے دوران میں کئی بار یہاں کے جنگلات کو ریاست کی ملکیت قرار دیا گیا…… لیکن اس سلسلے میں کوئی قانونی دستاویز تحریری صورت میں دستیاب نہیں۔
اللہ یار خان نے 1925ء اور 1928ء کو جنگلات کے بارے میں اپنی سفارشات کو پیش کرتے ہوئے لکھا کہ جنگلات کو بندوبست میں لانے کے لیے پہلی ضرورت یہی ہے کہ لوگوں کے حقوق اور مراعات کا تعین کیا جانا چاہیے جو کہ نہیں ہوا۔ جنگلات کے مالکانہ حقوق اور مراعات کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اسی وجہ سے اس سلسلے میں ہمیشہ سے سرکاری طور پر ابہام رہا۔ والیِ سوات کے زمانے میں اگرچہ مراعات اور تصرفات کو وسیع کیا گیا اور ساتھ رائلٹی کو بھی 10 فی صد سے بڑھا کر 15 فی صد کیا گیا، تاہم مالکانہ حقوق کو اس زمانے میں بھی واضح قانونی شکل نہیں دی گئی۔
ریاستِ سوات کے پاکستان کے ساتھ ادغام کے بعد جنگلات اور زمین سے متعلق جو کچھ ہوا اس کا پتا لوگوں کو بخوبی ہے۔ توروالی بلٹ میں بندوبست/ پٹوار 1980ء کی دہائی میں جنرل ضیا کے ظالم دور میں کافی مزاحمت اور سرکاری تشدد کے بعد آیا…… جب کہ کالام اور کمراٹ دیر کے علاقوں میں ایسا نہیں کیا گیا۔ 2002ء کو فرنٹیر صوبے میں فارسٹ آرڈی نینس لایا گیا اور اس کے بعد کئی قوانین اور اصول لاگو کیے گئے۔ اس قانون کے تحت بھی مالکانہ حقوق کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنایا گیا اور وہ ابہام اب تک جاری ہے۔
ریاستِ سوات اور اس سے پہلے یہاں کی زمین اور جنگلات سے متعلق اس مضمون کے بڑے حصے کا مقصد یہ ہے کہ مقامی لوگ جنگلات کے بارے اپنی تاریخ سے آگاہ ہوں۔
آیا مقامی لوگوں کو کلی طور پر جنگلات کے مالکانہ حقوق دیے جائیں یا یہ حقوق صرف ریاست کے پاس ہوں…… ایک بہت ہی بڑا سوال ہے۔ کیوں کہ اس سے کئی مسایل جڑے ہیں۔
ہماری بدقسمتی ہمیشہ سے یہی رہی ہے کہ ریاست کے اداروں اور لوگوں کے بیچ عدمِ اعتماد کی ایک وسیع خلیج موجود ہے۔ یہ عدمِ اعتماد مقامی سطح پر تنازعات کو بھی فروغ دے رہا ہے…… اور وسایل کی تباہی کا باعث بھی بنتا ہے۔ ایسے میں چند سوالات پر ریاست اور مقامی لوگوں کو غور کرکے کوئی اشتراکی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
٭ آیا کلی طور پر مقامی لوگوں کو ملکیت دینے سے جنگلات کا بچاؤ بہتر طریقے سے ہوسکے گا؟ ماضی کی مثالیں جب ’’یاغستان‘‘ تھا اس کا جواب الٹ دیتی ہیں۔
٭ آیا مقامی لوگوں کو ملکیت کے حقوق دینے کے بعد یہ لوگ تقسیم کے طریقۂ کار کو بدل سکیں گے؟ کیا وہ ان لوگوں کو جنگلات میں حصہ دیں گے جن کو رواج نامے نے ایسے کسی حق سے محروم کرکے رکھا ہے؟ اس کے لیے پورا دوتری سسٹم کو ختم کرنا ہوگا…… جس کے لیے یہاں کے مقامی باشندوں کے کئی قبایل شاید کبھی تیار نہ ہوں۔
٭ اسی طرح کیا مقامی طور پر ایسی ملکیت دینے سے مقامی لوگ خواتین کو بھی جنگلات میں شریعت کے مطابق حصہ دے سکیں گے…… یا صرف قدیم نظام جو مرد (میل) فرد کے حساب سے طے ہے اور جس کی رو سے جس دوتری خاندان کے زیادہ مرد ہیں…… وہ زیادہ حصہ پائیں گے۔
٭ کیا اس موجودہ نظام میں ایسے لوگوں کو مناسب حق ملتا ہے جن کے ہاں مرد اولاد نہیں…… یا ایسے گھرانوں کے مردوں کے گزرجانے کے بعد یہ حصہ بھی ان کے ساتھ دفن ہوگا…… اور بیوہ کو کچھ نہیں ملے گا!
٭ ماضی اور روایات سے رومانیت اپنی جگہ…… لیکن کیا مقامی لوگوں میں جنگلات کی اہمیت اور ان کی قیمت کے بارے میں نقدی (ٹون پیس/ رائلٹی/ دھیمی) کے علاوہ کوئی آگاہی موجود ہے؟
٭ سرکار جنگلات کی ملکیت لے کر بدلے میں مقامی افراد کو کیا دے گی؟ کیا سرکار یعنی ریاست کے اندر شخصی اور ادارہ جاتی ریاستیں موجود نہیں کہ جن کو سرکار مختلف حیلے بہانوں سے نوازتی ہے؟ کیا سرکاری محکمے کلی طور پر جنگلات اور ماحولیات کے بارے میں چوکس ہیں؟
٭ کیا ہمارے ان ہی جنگلات سے سیاسی طور پر باثر افراد کو ٹمبر کی سمگلنگ سے روکا گیا ہے…… یا روکا جاسکتا ہے؟ کیا سرکار کے اندر کسی عہدے دار کا کوئی رشتہ دار ’’ڈی فیکٹو‘‘ یعنی اصل حکم ران نہیں بنتا؟
٭ کیا سرکار سیاحت کے بہانے جنگلات کے اندر نہیں گھستی اور وہاں مقامی ماحولیات کو تباہ نہیں کرتی؟
٭ کیا سرکار نے فارسٹ کی ترقیاتی فنڈ کو کبھی اسی جگہ کی ترقی کے لیے لگایا ہے جہاں سے یہ ٹمبر نکالا جاتا ہے؟
٭ کیا کالام اور بحرین کے جنگلات سے ضبط شدہ ٹمبر یہاں نیلام ہوتا ہے یا کہیں اور؟
٭ کیا ان جنگلات کی بدولت جو پانی کے ذخایر ہیں، ان سے جنگلات کے بچاو کے لیے کوئی کام لیا جاتا ہے…… یعنی اتنی بجلی فری پیدا کی جاتی ہے کہ مقامی لوگوں کو ایندھن کے لیے جنگلات نہ کاٹنے پڑیں؟
٭ کیا کوئی بندوبست بغیر کوئی سیاسی اثر کے ہوسکتا ہے؟ کیا ایسے کسی بندوبست میں مقامی طور پر بااثر افراد دخیل ہوکر اس کو اپنی طرف نہیں کرتے؟
جنگلات کے مالکانہ حقوق جدید ریاستی دور میں علامتی بن کے رہ جاتے ہیں۔ کیوں کہ جدید ریاست کی مداخلت ریاست کی حدود کے اندر ہر جگہ آئینی و قانونی حیثیت رکھتی ہے۔ ان حقوق کا مطالبہ بااختیار ہونے کا احساس ہے…… ورنہ کسی قوم یا گاؤں کو جنگلات کے مالک بنانے سے وہ کسی محکمے کو وہاں جانے سے نہیں روک سکتے۔ اگر ایسا ہوتا، تو کالام اور اتروڑ وغیرہ میں محکمۂ جنگلات کا وجودہی نہ ہوتا۔ وہ موجود ہے اور اپنا کام کرتے ہیں۔
لوگ اب بھی روایتی طور پر خود کو ان جنگلات اور بانڈہ جات کے مالک سمجھتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی قانونی شق کے ذریعے ان مقامی لوگوں کو مالک بنایا جائے، تو کون سا آسمان ٹوٹ جائے گا!
یہ بڑے اہم اور منظم جرگے ہمارے ہاں صرف جنگلات سے متعلق معاملات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ کیا ہم نے کبھی ایسا کوئی جرگہ اپنے ہاں تعلیمی اداروں، سڑکوں، صحت کی سہولیات، جنگلات اور ماحولیات کے بچاو، اپنی زبان و ثقافت کے تحفظ اور فروغ وغیرہ کے لیے کیے ہیں؟
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔