سرِ دست عصمت علی اخون کی فیس بُک وال سے ایک پوسٹ کا ترجمہ ملاحظہ ہو، جو کہ پشتو میں لکھی اور شیئر کی گئی ہے:
’’آج ہمارے گاؤں بلوگرام ویٹرنری ریسرچ سٹیشن میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔ وہ یوں کہ سٹیشن کے ڈائریکٹر نے نایب قاصد (اہلیہ کے مطابق اُس روز وہ چھٹی پر تھے) کو فون کال کے ذریعے بلایا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد مذکورہ نایب قاصد (جن کا نام شیر افضل ہے) کے گھر فون کے ذریعے اطلاع دی گئی کہ وہ اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ آئیں، اور ان کی میت لے جائیں۔
گھر والے شیر افضل کی میت لانے کی غرض سے سٹیشن گئے، وہاں ڈائریکٹر سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن ڈائریکٹر صاحب نے خاطر گوارا نہ کی۔ چار و ناچار گھر والے میت اُٹھا کے پوسٹ مارٹم کی غرض سے ہسپتال گئے، تاکہ پتا چلے کہ شیر افضل کی موت کیوں واقع ہوئی؟ وہاں بھی اس سوختہ نصیب کی داد رسی نہ ہوسکی۔ یوں انھیں بغیر پوسٹ مارٹم کے سپردِ خاک کیا گیا۔
ریسرچ سٹیشن کے ملازمین میں سے ایک کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر صاحب نے شیر افضل کی وہ بے عزتی کی ہے کہ الامان و الحفیظ! شیر افضل بھی گوشت پوست کا بنا جیتا جاگتا انسان تھا، اپنی بے عزتی دِل پر لے بیٹھا۔ شاید اسے دِل کا دورہ پڑا مگر ہم نے جیسے ہی اُسے زمین سے اُٹھایا، تو وہ مر چکا تھا۔‘‘
قارئینِ کرام! آئیں، اب اس ’’پوسٹ‘‘ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں:
٭ پہلا نکتہ:۔ عصمت علی اخون ہمارے جیسے ایرے غیرے نتھو خیرے نہیں بلکہ ایک ذمے دار صحافی ہیں۔ یونیورسٹی آف سوات سے ان کا ’’ماس کمیونی کیشن‘‘ میں ایم فل پراسس میں ہے۔ اس کے علاوہ سوات سے شایع ہونے والے موقر روزناموں میں رپورٹنگ کرچکے ہیں۔ آج کل ’’روزنامہ شہباز‘‘ (پشاور) کے لیے رپورٹنگ کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پختونخوا ریڈیو میں ایک علاقائی رنگ میں رنگے پروگرام کے اینکر ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی ’’اَن کوالی فائڈ‘‘ رپورٹر کی طرح غیر ذمے داری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔
٭ دوسرا نکتہ:۔ پاکستان میں (ماشاء اللہ) افسر شاہی کا راج ہے۔ ایک معمولی سے ’’افسر‘‘ کے آگے پیچھے دوڑتی کالی شیشے والی گاڑیاں میرے اس دعوے کی غمازی کرتی ہیں۔ اور اخون صاحب کی پوسٹ میں جن افسر ’’صاب‘‘ کا ذکر ہے، وہ تو پھر بھی ایک سٹیشن کے ’’ڈائریکٹر‘‘ ہیں۔ انھیں تو ویسے بھی زمین سے دو تین فٹ اوپر ہونا چاہیے۔ اگر وہ ذکر شدہ اعلا ’’پوسٹ‘‘ کے ساتھ زمین پر قدم رکھ کر چلتے ہیں، تو یہ ان کا ایک طرح سے ہم عوام پر احسانِ عظیم ہے۔ ایسے افسر کے سامنے ایک ’’نایب قاصد‘‘ کی کیا حیثیت……!
٭ تیسرا نکتہ:۔ مرحوم شیر افضل کا پوسٹ مارٹم کیوں نہیں کیا گیا؟ کیا اس میں بھی ڈائریکٹر موصوف اثر انداز ہوئے؟
٭ چوتھا نکتہ:۔ سٹیشن کے اُن ملازمین سے بہرصورت تفتیش کی جانی چاہیے، جن کے سامنے نایب قاصد شیر افضل بے آبرو ہوکر زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔
نشست کے آخر میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زاہد نواز مروت صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس کیس میں خصوصی دلچسپی لیں۔ کیوں کہ شیر افضل اپنے کنبے کے واحد کفیل تھے، بے یار و مددگار……! ظاہر ہے ڈائریکٹر ’’صاب‘‘ کا بڑا خاندان ہوگا، ’’صاب‘‘ بااثر ہوں گے، عدالتی لڑائی لڑنا بھی جانتے ہوں گے اور متاثرہ خاندان پر ’’اثر انداز‘‘ ہونا بھی جانتے ہوں گے۔
جنابِ والا! ان تمام باتوں کے ہوتے ہوئے، عصمت علی اخون کی طرح مجھے اور آپ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا کہ ہم بھی ایک روز جاں، جانِ آفریں کے حوالے کریں گے۔ ’’صاب‘‘ کو بھی ایک نہ ایک دن سبک دوش ہوکر منوں مٹی تلے دبنا ہے۔
زاہد نواز مروت صاحب! مجھے اُمید ہے کہ آپ (مرحوم) شیر افضل کو انصاف دلانے میں کردار ادا کرکے اپنے منصب کا حق ادا کریں گے۔ دوسری طرف ’’خدا کی لاٹھی ہے‘‘ جو ویسے بھی بے آواز ہے…… کب کسے مار پڑے…… بس وہی جانتا ہے……!
رہے نام اللہ کا!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔