ہم ہر سال چودہ اگست کو جشنِ آزادی کی یاد میں خوشیاں مناتے اور چراغاں کرتے ہیں، قومی ترانہ اور ملی نغمے گاتے ہیں…… لیکن ہمیں اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہمارے بزرگوں نے جس منزل کا خواب دیکھا تھا، کیا واقعی ہمیں وہ منزل مل چکی ہے؟ تحریکِ پاکستان کے دوران میں ہمارے بزرگوں نے جس مبنی بر انصاف معاشرے کا تصور پیش کیا تھا، تو کیا ہمارے ملک میں انصاف کی حکم رانی اور امن و سکون ہے؟ ہر شہری کو بلا تفریق انصاف اور جان و مال کا اور عزت کا تحفظ حاصل ہے؟ عقاید، برادری اور صنف کے بغیر ہر شہری کو حقوق حاصل ہیں؟ کیا مجرموں کو قرار واقعی سزا دینا اور مظلوموں کی داد رسی ہورہی ہے؟ کیا یہاں قانون کی حکم رانی ہے اور احتساب کا صحیح اور بلا تفریق نظام قایم ہے؟ کیا ہم تفرقہ بازی کے بغیر ایک خوش حال قوم کی سی زندگی بسر کررہے ہیں؟
سیدھی سی بات ہے کہ زمین کا ایک الگ ٹکڑا تو حصولِ آزادی کا پہلا مرحلہ تھا، اصل کام تو یہاں پر نظامِ عدل کے تحت زندگی کی عمارت تعمیر کرنے کا تھا کہ یہ مرحلہ ابھی تک طے نہیں ہوا۔ اللہ تعالا نے ہمارے اسلاف کے مخلص اور بے غرض جذبوں کی قدر کرتے ہوئے ہمیں مادی وسایل سے مالا مال ایک بہترین قطعۂ اراضی عطا کیا۔ اب اس پر بہترین نظام قایم کرنا ہماری ذمے داری ہے…… جس کا واضح ثبوت اس وقت کا مقدس نعرہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ ہے…… یعنی ’’پاکستان کا مطلب کیا……؟ لا الہ الا اللہ‘‘ جس کے لیے ضروری ہے کہ ہم جسمانی غلامی کے ساتھ ذہنی غلامی سے بھی آزادی حاصل کریں۔ ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر قومی مفادات کے لیے جد و جہد کریں۔ ہم عموماً ہر برائی کو حکم رانوں کے کھاتے میں ڈال کر اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ قرار دیتے ہیں، لیکن ہمیں چاہیے کہ ہر کام کو حکم رانوں پر چھوڑنے کی بجائے خود آگے بڑھیں۔ یہ نہ کہیں کہ میرے ٹھیک ہونے سے کیا ہوگا…… بلکہ یہ سمجھ لیں کہ میرے ٹھیک ہونے سے سب کچھ ٹھیک ہوگا۔ اس سلسلے میں مصورِ پاکستان علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
درحقیقت قوم افراد سے بنتی ہے اور فرد کے عزایم سوچ اور عمل، قوم کو جنم دیتے ہیں۔ بے ایمان، سست و کاہل، جھوٹی، خود غرض، خیانت گر اور آسایشوں کی طلب گار اقوام نے دنیا میں کبھی ترقی نہیں کی…… بلکہ اخلاقی صفات سے مالا مال اقوام ہی بامِ عروج پر پہنچیں۔ وہ اخلاقی صفات سچائی، امانت داری، وعدوں کی پاس داری اور قومی مفادات پر یکسوئی ہیں۔
آج اس اہم دن پر ہمیں غور کرکے اپنے اعمال و افکار کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم نے کہاں تک اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے یوم آزادی ہمیں یہ درس بھی دیتی ہے کہ
شکوۂ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔