سبطین خان ایک سلجھی ہوئی شخصیت اور پرانے پارلیمنٹیرین ہیں۔ گذشتہ دنوں ہونے والے انتخاب میں 185 ووٹ لے کر سپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان کے مدِ مقابل مسلم لیگ ن کے امیدوار ملک سیف الملوک کھوکھر نے 175 ووٹ حاصل کیے۔ اس طرح 4 ووٹ مسترد ہوئے۔ سپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوا تھا۔
سپیکر سبطین خان 1958ء میں ضلع میانوالی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1982ء میں پنجاب یونیورسٹی سے پولی ٹیکل سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اب تک چار مرتبہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں۔ 1990ء کے عام انتخابات میں حلقہ پی پی 39 (میانوالی-IV) سے 29,582 ووٹ حاصل کرکے آزاد امیدوار کے طور پررکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کے امیدوار کو شکست دی تھی۔ 1990ء سے 1993ء تک پنجاب میں صوبائی وزیرِ جیل خانہ جات کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 1997ء کے عام انتخابات میں اسی حلقہ سے آزاد امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب 15,390 ووٹ حاصل کرکے ناکام رہے۔ 2002ء کے عام انتخابات میں حلقہ پی پی-46 (میانوالی-IV) سے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے 36,815 ووٹ حاصل کرکے دوبارہ منتخب ہوئے۔ جنوری 2003ء میں انہیں وزیرِاعلا پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی صوبائی کابینہ میں شامل کرکے صوبائی وزیر برائے معدنیات مقرر کیا گیا، جہاں وہ 2007ء تک رہے۔ 2008 کے عام انتخابات میں حلقہ پی پی46 (میانوالی-IV) سے مسلم لیگ (ق) کے امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر حصہ لیا۔ 27,319 ووٹ حاصل کیے، لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں حلقہ پی پی 46 (میانوالی-IV) سے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لیے ایک بار پھر منتخب ہوئے۔ 2018ء کے انتخابات میں حلقہ پی پی 88 (میانوالی-IV) سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر پھر ایم پی اے بن گئے۔ 27 اگست 2018ء کو انہیں وزیرِاعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ 29 اگست 2018ء کو انہیں پنجاب کا صوبائی وزیر برائے جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی پروری مقرر کیا گیا۔ جون 2019ء میں انہیں قومی احتساب بیورو لاہور نے بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کیا، جس کی وجہ سے انہیں پنجاب کے صوبائی وزیر برائے جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی پروری کے عہدے سے ہٹا دیا گیا…… مگر جنوری 2020ء میں انہیں دوبارہ پنجاب کا صوبائی وزیر برائے جنگلات، جنگلی حیات اور ماہی پروری مقرر کیا گیا۔ 27 جولائی 2022 کو پی ٹی آئی نے انہیں پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے اسپیکر کے لیے نام زد کیا…… جو سابق اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی وزارتِ اعلا کے لیے منتخب ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی۔ اسپیکر کے عہدے کا انتخاب 29 جولائی 2022ء کو ہوا، جس میں وہ کامیاب ہوئے…… جب کہ حالیہ آئینی بحران کے دوران میں پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی رہے۔
قارئین! امید ہے کہ سبطین خان پنجاب اسمبلی کے تقدس اور وقار کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ یوں ان کا نام تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اپنے مُثبت کردار کی بدولت دیر تک یاد رکھے جائیں گے، ان شاء اللہ!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔