یکم محرم الحرم جو کہ ہجری تقویم کا پہلا دن ہوتا ہے، اس دن اکثر لوگ سوشل میڈیا یا دوسرے ذرایع سے اسلامی سال کے آغاز کے طور پر مناتے ہیں اور باقاعدہ ایک دوسرے کو ’’نیا اسلامی سال مبارک‘‘ کے پیغامات بھیجتے ہیں۔ یہاں یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ دنیا بھر میں تو کئی ایک تقویم یا کیلنڈرز مروج ہیں، خود ہمارے اس برصغیر اور اس سے ملحقہ وسطی ایشیائی علاقوں میں مختلف کیلنڈ ر رایج ہیں۔
قارئین، تقویم یا کیلنڈر وہ نظام ہوتا ہے جس کے ذریعے وقت کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ تقویم کے ذریعے دن، ہفتہ، ماہ اور سال وغیرہ کا حساب لگایا جاتا ہے۔ ان میں شمسی تقویم، قمری تقویم اور بکرمی تقویم زیادہ مشہور و مروج ہیں۔
شمسی کلینڈر کا تعلق براہِ راست سورج کے گرد زمین کی گردش سے ہے۔ ہماری زمین سورج کے گرد 365 دنوں اور تقریباً 6 گھنٹوں میں ایک چکر مکمل کرتی ہے، جسے ایک سال کہا جاتا ہے۔ اس کا پہلا مہینا جنوری کہلاتا ہے۔ آج کل دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ تقویم رایج ہے۔ جدید دنیا میں اس تقویم کا آغاز حضرتِ عیسٰی علیہ السلام کی پیدایش سے ہوا ہے۔ آج کل 2022ء چل رہا ہے۔
اس طرح قمری تقویم بھی کئی ایک ممالک میں بطورِ سرکاری تقویم (کیلنڈر) رایج ہے۔ قمری سال کا تعلق براہِ راست چاند سے ہوتا ہے۔ چاند اپنے مخصوص مدار میں زمین کے گرد 29 یا 30 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتاہے۔ قمری سال شمسی سال کے مقابلے میں تقریباً 11 دن کم ہوتا ہے اور اس کے کچھ مہینے 29 اور کچھ 30 دنوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ قمری سال کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ قمری سال کا اجرا حضورِ اکرمؐ کی ہجرتِ مدینہ سے ہوا ہے۔
بکرمی کلینڈر بھی بہت سارے علاقوں میں مروج ہے۔ بکرمی کیلنڈر کا آغازقدیم ہندوستان کے ایک راجہ بکرم اجیت کے دور سے ہوا ہے۔ اس کو دیسی کیلنڈر اور جنتری بھی کہا جاتا ہے۔ بکرمی کیلنڈر میں بھی 365 دن ہوتے ہیں۔ اس کا تعلق موسم اور فصلوں سے ہے۔ سال کا پہلا مہینا ’’بیساکھ‘‘ کہلاتا ہے جو اپریل کے وسط میں فصل کی کٹائی سے شروع ہوتا ہے۔
اتنی طویل تمہید باندھنے اور تفصیل بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حضرتِ انسان نے حساب کتاب کی غرض سے مختلف علاقوں اور مختلف ادوار میں مختلف کیلنڈروں کا سہارا لیا ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ان مختلف تقویموں کو کسی خاص مذہب سے منسوب کرنا ٹھیک نہیں اور نہ کسی مذہب کو کسی خاص تقویم تک محدود کرنا ہی ٹھیک ہے۔
یہی مسئلہ لباس کا بھی ہے۔ بعض لوگ ایک خاص قسم کے لباس کو ’’انگریزی‘‘یا ’’اسلامی لباس‘‘ کہتے ہیں جو کہ غلط ہے۔لباس کا تعلق علاقے کے رسم ورواج، طرزِ زندگی اور موسم سے ہوتا ہے۔ ہمارے مذہبِ اسلام میں لباس لے لیے کچھ اصول وضع کیے گئے ہیں، جو بھی لباس ان اصولوں پر پورا اترے وہ ٹھیک ہے۔ ایک مخصوص علاقے کی ثقافت اور طرزِ زندگی کو مذہب کا نام دینا مذہب کو اس علاقے تک محدود کرنے کے مترادف ہے ۔
اس طرح اکثر سننے میں آتا ہے کہ بچے کے لیے اسلامی نام رکھا ہے، وغیرہ۔بھئی! نام کا تعلق علاقے اور زبان سے ہوتا ہے، مذہب سے نہیں۔ ہمارے مذہب میں بچے کے لیے نام تجویز کرنے کے کچھ اصول ہیں، ان کا خیال رکھ کر ہر نام اسلامی نام ہے۔ یہ کسی خاص زبان تک محدود نہیں ہونا چاہیے، ورنہ یہ بھی مذہب کو ایک خاص زبان یا طرزِ معاشرت تک محدود کرنے کے مترادف ہوگا۔
ضروری نہیں کہ ساری دنیا کے لوگ ایک ہی زبان میں بچوں کے نام رکھیں۔ بے شک اپنی مادری زبان میں نام تجویز کیا کریں، بس یہ ملحوظِ خاطر رہے کہ نام اور اس کے معنی اچھے ہوں۔ ایسا کرکے ہم اپنے مذہب کو کسی خاص زبان، کسی خاص لباس، کسی خاص تہذیب و ثقافت تک محدود کرنے کی بجائے وسعت و عالمگیریت بخش سکتے ہیں اور اس کا دامن وسیع کر کے دنیا کی تمام اقوام کے لیے قابلِ قبول بنا سکتے ہیں۔
بقولِ شاعر
ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے، رقم کرتے رہیں گے
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔