پاکستان میں ایک طویل عرصے سے سنگین سیاسی بحران جاری ہے…… جو کہ ملکی معیشت کو کم زور کرکے معاشی بحران کو جنم دے رہا ہے۔ پنجاب میں حکومت سازی اور وزیرِ اعلا پنجاب کے معاملے پر ڈپٹی سپیکر کی رولنگ سپریم کورٹ میں چیلنج ہو چکی ہے۔ ایک تین رکنی بنچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں اس کیس کی سماعت کر رہا ہے…… لیکن مدعا علیہان کیس کی سماعت کرنے والے بنچ پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ حالاں کہ جن تین جج صاحبان پر ان کا اعتراض ہے، یہ وہی جج صاحبان ہیں جو اس پنج رکنی بنچ کا بھی حصہ تھے، جس نے وفاق میں اس وقت کے وزیرِ اعظم عمران خان، سپیکر اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے خلاف فیصلہ دیا تھا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی کی حکومت برخاست ہوئی اور عمران خان وزیرِ اعظم نہ رہے تھے۔ اس فیصلے پر جیتنے والوں نے بھنگڑے ڈالے، مٹھائیاں بانٹیں اور عدلیہ کو ایک آزاد عدلیہ تسلیم کیا۔ اب اسی بنچ کے وہی تین جج پنجاب کا مقدمہ سننے بیٹھے ہیں، تو جج صاحبان کو متنازعہ بنانے کے لیے مہم جاری ہے۔
معاملہ یوں نہیں کہ عدالتِ عظما کی کارروائی کس فریق کے حق میں جاتی اور کون مایوسی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے؟
سوال یہ ہے کہ ملکی سیاست میں محاذ آرائی اور تصادم کا نتیجہ آخرِکار کیا نکلنے جا رہا ہے؟ دوسری طرف ہمارے ملک کا معاشی بحران ہر لمحے شدت اختیار کرتا جا رہا ہے، باہر کی دنیا ہمیں خبردار کر رہی ہے کہ پاکستان کا معاشی ڈھانچا منہدم ہونے کے قریب ہے۔ اس کے باوجود پاکستان میں ہر تھوڑے وقفے کے بعد نیا سیاسی بحران پیدا ہوجاتا ہے، یا پیدا کر دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے معاشی انہدام کی جتنی فکر باہر کے لوگوں کو ہے، اتنی ہمارے اپنے ان لوگوں کو نہیں…… جو اپنی سیاسی قیادت سے پاکستان کو دنیا کی عظیم طاقت بنا دینے کا دعوا کرتے ہیں…… یا پس پردہ بیٹھ کر پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے نت نئی حکمت عملیاں بنا رہے ہوتے ہیں۔
بیرونی ممالک خصوصا ًہمارے خطے کے ممالک ہمارے معاشی بحران سے زیادہ خوف زدہ ہیں۔ باہر کے لوگوں کو یہ فکر لاحق ہے کہ پاکستان کے معاشی انہدام کے اثرات سے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے، لیکن ہمارے اپنے لوگوں کو کسی بات کی پروا نہیں۔ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر مسلسل گرتی جا رہی ہے۔ملک کا بڑھتا تجارتی خسارہ اور کئی اسباب کی بنا پر بڑھتے ہوئے قرضے، معیشت کی نمو کی قدرتی صلاحیت کو کم زور کر رہے ہیں۔ لوگوں میں اتنی سکت نہیں کہ وہ اب مہنگی بجلی کے بل ادا کرسکیں۔ مہنگائی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی بے روزگاری کا عفریت، انتشار اور بدامنی کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے…… جب کہ حکومت اپنا بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں سے ریلیف پیکیج مانگ رہی ہے اور اس کے لیے اپنے عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کی ہر شرط قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔
معاشی بحران سے قطعِ نظر ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی حکم ران ملک پر سیاسی جنگ مسلط کیے ہوئے ہیں۔ سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی سے معاشی بحران کی شدت میں تیز تر اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہماری غیر سیاسی اشرافیہ، عدلیہ اور سیاسی جماعتیں غیر دانستہ طور پر ایک بڑے کھیل میں استعمال ہو رہی ہیں؟ اس صورتِ حال میں ہنگامی بنیادوں پر ملک میں سیاسی استحکام کے لیے کوششیں کرنا چاہئیں…… اور معیشت کی بحالی کے لیے ایک ’’نیشنل چارٹر ‘‘ (قومی میثاق) وضع کرنا چاہیے۔
بلاشبہ سیاست میں کسی کے بھی اقتدارکو دوام حاصل نہیں۔ مثلاً آج کی اپوزیشن جماعت کل کی حکم ران پارٹی ہے اور کل حکومت میں رہنے والی پارٹی آج حزبِ اختلاف کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ دراصل جمہوریت کی یہی خوبی عملاً سیاست دانوں کو اس بات کی ترغیب دیتی ہے کہ وہ سیاسی کھیل کے قواعد و ضوابط پختہ سوچ کے ساتھ طے کریں۔ مثلاً مسایل حل کرنے میں ناکامی کا ذمے دار ایک دوسرے کو قرار دینے کی بجائے ایسی طویل المیعاد پالیسیاں ترتیب دی جائیں، جن پر عمل کرکے ملک کو حقیقی معنوں میں جمہوری اور فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیرہو۔
اس میں دو رائے نہیں کہ موجودہ اتحادی حکومت خلوصِ نیت کے ساتھ پاکستانِ تحریک انصاف سے تعمیری بات چیت کی خواہش مند ہے۔ مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کئی دہائیوں سے قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ جب عمران خان حکومت میں شامل رہنماؤں کو چور اور ڈاکو کے لقب سے نوازیں گے، تو پھر کون ان سے ڈائیلاگ کرنے پر آمادہ ہوگا؟ پاکستان کا ہر باشعور پاکستانی اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ قومی منظر نامے میں نمایاں سیاسی قوتوں میں پاکستان تحریکِ انصاف ایسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرنے میں ناکام ہے جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔ بلاشبہ اب وقت آگیا ہے کہ تحریکِ انصاف آگے بڑھے اور قومی منظر نامے میں اپنا ایسا کردار ادا کر کے تاریخ میں سرخ رُو ہونے کی کوشش کرے جو وہ اب تک ادا کرنے سے قاصر رہی ہے۔ سمجھ لینا چاہیے کہ الزام تراشی کی سیاست نہ ماضی میں سودمند ثابت ہوئی اور نہ مستقبل میں اس کی اِفادیت سامنے آنے کا روشن امکان ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔