پچھلے چند ہفتوں سے پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات کی وجہ سے سیاست میں بہت گرما گرمی تھی۔ چوں کہ ان انتخابات کے نتائج آیندہ پنجاب میں بننے والی حکومت کے حوالے سے بہت زیادہ اہمیت کے حامل تھے، اس وجہ سے اس کا ماحول بہت پُرجوش تھا اور پورے ملک کے عوام اس میں اس طرح دلچسپی لے رہے تھے…… جیسے یہ چند صوبائی حلقوں میں نہیں بلکہ پورے ملک میں جنرل الیکشن ہو رہے ہوں۔ ہماری دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت براہِ راست اس میں ملوث تھی۔ ایک طرف کا مورچہ عمران خان نے خود سنبھال رکھا تھا…… جب کہ دوسری طرف ن لیگ کی نایب صدر اور سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم شریف خود میدان عمل میں تھی۔ جلسے جلوس ریلیاں روزانہ کی بنیاد پر ہو رہے تھے…… گو کہ ان انتخابات میں جماعتِ اسلامی اور تحریک لبیک بھی شامل تھی…… لیکن اصل مقابلہ ن لیگ اور تحریکِ انصاف ہی کے درمیان تھا۔
اب تک کے موصولہ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتایج کے مطابق تحریکِ انصاف نے بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے اور بیس میں سے پندرہ نشستیں جیت لی ہیں…… جب کہ ن لیگ کو صرف چار اور لودھراں سے ایک آزاد امیدوار جیت گیا ہے۔
تحریکِ انصاف کی یہ کامیابی بہرحال سیاسی تجزیہ نگاروں اور اعلا صحافتی حلقوں کے لیے بہت غیر متوقع اور سرپرائزنگ تھی…… کیوں کہ تمام تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ ان ضمنی انتخابات میں میدانی حقیقتوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ گو کہ زمین پر مریم شریف نے کافی محنت بھی کی تھی۔ ایسے تمام لوگوں (بشمول میرے) کا خیال تھا کہ ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ن لیگ کبھی اصل عوامی طاقت سے نہیں آئی…… بلکہ یہ لوگ صورتِ حال کو مینج (Manage) کرنے کی مکمل صلاحیت بھی رکھتے ہیں اور تجربہ بھی۔ میدان میں عمران خان جتنے مرضی بڑے جلسے کرلے، عوام کو متحرک کرلیں…… لیکن وہ الیکشن کو ان کی طرح مینج نہیں کرسکتے۔ ن لیگ والے سرکاری ملازمین کو استعمال کرنا بھی جانتے ہیں…… بااثر لوگوں کو خریدنا بھی جانتے ہیں اور پھر خاص طور پر انتخابات والے دن اپنے ووٹروں کو گھروں سے نکال کر پولنگ بوتھ تک لانے میں مکمل مہارت رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمارا خیال تھا کہ ن لیگ ان ضمنی انتخابات میں پندرہ سولہ نشستیں آرام سے حاصل کرلے گی…… لیکن بہرحال ایسا نہ ہوسکا۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ مثلاً
٭ عمران خان کا یہ بیانیہ کہ کیا ہم غلام ہیں؟ گوکہ مَیں اور ملک کے تقریباً تمام باشعور عوام یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیانیہ ’’بوگس‘‘ اور ’’جھوٹ‘‘ ہے…… لیکن بہرحال عوام کی ایک بڑی تعداد خصوصا تحریکِ انصاف کے لوگ اس پر یقین کرتے گئے۔ پھر ن لیگ نے اس کو شاید توقع سے زیادہ آسان ہدف سمجھ لیا تھا۔
٭ ایک اور بڑی وجہ ’’مہنگائی‘‘ بنی۔ کیوں کہ آتے ہی ان کو آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لیے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا…… جس کی ایک سیاسی قیمت ان کو دینا پڑی۔
٭ تیسرا سب سے بڑا سیاسی فیکٹر جو ’’ن لیگ‘‘ کے لیے بوجھ ثابت ہوا، وہ ان انصافین کو ٹکٹ دینا تھا کہ جو لوٹے بنے تھے۔ اس کی وجہ سے جہاں تحریکِ انصاف کو عوام میں ان امیدواروں کی اخلاقی قوت کو چیلنج کرنے کا موقع ملا، وہاں پر ن لیگ کے مقامی عہدیداران کے لیے ان لوگوں کی حمایت کرنا عملاً ممکن نہ تھا۔ کیوں کہ یہ لوگ وہاں سے ن لیگ کے لوگوں کو شکست دے کر آئے تھے اور جب کہ ایک حلقہ میں دو لوگ مقابلہ میں آتے ہیں، تو پھر ہمارے مروجہ سیاسی کلچر کے مطابق اکثر مواقع پر ان کے درمیان ذاتی رنجش پیدا ہو جاتی ہے اور جیتنے والا بہرحال ہارنے والے کے لیے مسایل پیدا کرتا ہے جب کہ ہارنے والا مدِمقابل سے نفرت میں آگے بڑھ جاتا ہے۔ پھر یہ لوگ تحریک انصاف سے جیت کر یا شامل ہو کر براہِ راست حکومت میں تھے، سو انہوں نے ن لیگ کے مقامی امیدواروں کے خلاف یقینا انتقامی کارروائیاں کی ہوئی تھیں۔ اب مریم شریف ہو یا حمزہ شریف یہ جتنی مرضی کوششیں کرتے…… ان کے درمیان ذاتی رنجشوں کو ختم کرنا ممکن ہی نہ تھا اور اس کا منطقی نتیجہ یہی نکلنا تھا۔
٭ دوسرا بدلتے حالات، آزاد میڈیا…… خصوصاً سوشل میڈیا کی طاقت کی وجہ سے شاید ن لیگ کے لیے اب مینجمنٹ مشکل تر ہو گئی تھی۔
٭ ایک اور دلچسپ حقیقت کہ نتایج کے بعد ن لیگ کے اتحادی پی پی پی کے جیالوں کے چہروں پر بہت واضح اور معنی خیز مسکراہٹ نظر آئی…… یعنی میرا اندازہ ہے کہ جیالوں نے اگر تحریکِ انصاف کو ووٹ نہیں بھی ڈالا، تب بھی وہ ن لیگ کی شکست کے متمنی تھے اور اس کی وجہ بہت تفصیل طلب ہے، جو کسی اور کالم میں بیان کی جا سکتی ہے۔ المختصر، انتخابات ہوگئے اور بات ختم ہوگئی۔
لیکن ان انتخابات کی وجہ سے پاکستانی سیاست میں بہت مُثبت تبدیلیاں بھی واضح نظر آئیں۔ یہ شاید پہلے انتخابات تھے کہ جس کو ہارنے والوں نے بہت جرات اور مہذب انداز میں قبول کر لیا۔ کہیں دھاندلی کا شور مچا اور نہ ہارنے والوں نے بین ہی ڈالا۔ الیکشن کمیشن اور ہمارے قومی سلامتی کے اداروں پر جانب داری اور تعصب کا الزام لگانے والے خود جیت گئے۔ مطلب کہ انتخابات مکمل غیر جانب دار اور صاف شفاف ہوئے۔
پھر ہمارے مخصوص سیاسی کلچر میں جہاں ہارنے والا تقریباً نیم پاگل ہو جاتا ہے، وہاں یہ منظر بھی نظر آیا…… خاص کر ملتان جیسے بہت ہی روایتی حلقہ میں کہ ہارنے والے نے جیتنے والے کو خود جا کر مبارک باد دی اور مسکراہٹوں کے تبادلہ سے رخصت لی۔ یعنی اب ہم یہ کَہ سکتے ہیں کہ ہماری جمہوریت اور سیاست آگے بڑھی ہے۔ ہمارا جمہوری نظام مضبوط ہوا ہے…… اور عوام خاص کر شمالی پنجاب کے عوام کہ جن کے سیاسی شعور کا مَیں بہت بڑا ناقد رہا ہو،ں کا سیاسی شعور کافی مستحکم ہوا ہے۔ کیوں کہ ملک بھر میں اس سے پہلے لوٹوں کی جنت یہی شمالی پنجاب تھا…… لیکن اس دفعہ وہ ن لیگ کی حکومت اور مضبوط سیاسی ساکھ کے باجود شیر کے نشان پر ہار گئے۔ گویا عوام نے واضح پیغام دیا کہ اب سیاسی یتیموں اور لوٹوں کی کوئی گنجایش نہیں۔ یہ بہت ہی مُثبت پیش رفت ہے۔
آخر میں ہم تحریکِ انصاف اور خاص کر ان کی قیادت سابق وزیرِ اعظم محترم عمران خان سے یہ توقع بھی کرتے ہیں اور اپیل بھی کہ اب آپ مہربانی کریں اور خود کے اندر کچھ سیاسی شعور اور برداشت پیدا کریں۔ یہ جو آپ فرضی طور پر ’’مسٹر ایکس‘‘ اور ’’وائی‘‘ کَہ کر کچھ اعلا شخصیات کہ جن کا تعلق قومی سلامتی کے اداروں سے تھا…… کو بدنام کرتے رہے اور پھر خاص کر ایک نہایت ہی قابل اور مکمل پروفیشنل چیف الیکشن کمیشنر کا نام لے لے کر بے عزتی کرتے رہے…… ان سے مکمل احترام کے ساتھ عوامی سطح پر معافی مانگیں اور آیندہ احتیاط کریں۔ شاید یہ تاریخی فتح محترم عمران خان کے رویہ میں باعثِ مُثبت تبدیلی ثابت ہو۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔