مدتوں بعد کالام جانا ہوا اور عید سے ایک روز قبل واپسی بھی ممکن ہوئی۔ تفریح مناسب تھی کہ موسم خوش گوار تھا۔ دوست ہم خیال تھے اور جہاں مسافر ٹھہرے تھے، وہاں دونوں جانب فلک بوس پہاڑ، بیچ میں تیز بہتا دریا اور دریاکنارے بنا ہوٹل، بقولِ فرازؔ
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
چوں کہ عید قریب تھی، اس لیے کالام بازار اور زیادہ تر ہوٹل خالی پڑے تھے۔ ہر طرف مقامی لوگ معمولاتِ زندگی میں مصروف دکھائی دیے۔ سیاحوں کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی، اس لیے بازار اور اطراف کا جایزہ لینے کے لیے ماحول سازگار تھا۔ یہ پُرسکون لمحے پا کر انجان راستوں پر نکلا۔ اندر کی صحافیانہ حس ہر چیز کا تنقیدی جایزہ لینے پر تُل گئی۔ شام ڈھلتے ہی دریا کنارے بیٹھے دماغ میں مختلف خیالات پیدا ہوئے۔ آئیں، چند ایک میں آپ بھی شریک ہوجائیں۔
کالام کے گھنے جنگل میں نکلا، وہاں کا منظر جنگل میں منگل ٹائپ تھا، لیکن ہر طرف بدنما و بدبودار ’’خیمہ ہوٹل‘‘ نظر آئے۔ ظاہری سی بات ہے، یہاں ڈھیر سارے درختوں کا قتلِ عام کرکے یہ جگہ بنائی گئی ہے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ عید کے دنوں یہاں کسی بھی خیمے میں سرچھپانے کو جگہ نہیں ملتی۔ منھ مانگے داموں اگرکسی سیاح کو ایک بدبودار کمبل میسر آجائے، تووہ خود کو سکندر اعظم سمجھ بیٹھتا ہے۔ بغور جایزہ لینے پر معلوم ہوا کہ بہت کم یا نہ ہونے کے برابر خیمہ ہوٹلوں کے ساتھ ’’واش روم‘‘ کی سہولت موجود ہے، وہ بھی زمین میں گڑھا کھود کے۔ سترپوشی کے لیے سیمنٹ کے خالی تھیلوں یا کسی پرانے ترپال سے برائے نام پردے کا انتظام کیا گیا ہے۔ ایسے میں میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ ان واش روموں کا نکاسی سسٹم کیا اور کہاں ہے، اور یہاں صفائی کاکیا انتظام ہے؟ کسی سے پوچھا، تو جواب ملا کہ ان خیمہ نما ہوٹلوں میں اکثر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے غریب سیاح ٹھہرتے ہیں، جن کے ہاں صفائی اتنی اہم نہیں ہوتی۔ بس گاؤں میں نام ہوجائے کہ فلاں کا لڑکا عید پر کالام گیا تھا۔ مَیں نے کہا یہ تو ٹھیک ہے، مگر صرف نام کے لیے کالام کے ساتھ جو ظلم ہورہا ہے، اس کا کیا انجام ہوگا؟ جواباً ’’چراغوں میں روشنی نہ رہی‘‘ والا معاملہ تھا۔
یہاں سے نکل کے مختلف ہوٹلوں سے ہوکر بازار اور وہاں سے پہاڑوں کے بیچ بہتے دریا کے ساتھ جاتے جاتے نہ نجانے میں کہاں نکل گیا، مگر ہر جگہ یہی حال دیکھا کہ کسی بھی مہنگے ترین ہوٹل کے ساتھ بھی نکاسی کا بہتر انتظام نہ تھا۔ زیادہ تر ہوٹل دریا کے قریب ہی بنے ہیں، اس لیے گندگی ٹوائلٹ کی ہو یا کچن کی…… اس کو دریا برد ہی کیا جاتا ہے…… جو کہ یہاں کے فطری حسن کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے۔
مہنگے ہوٹلوں میں اکثر مال دار لوگ ٹھہرتے ہیں، خاص کر پنجاب کے…… جن کو ’’ٹورازم مینرز‘‘کا کسی حد تک اندازہ ہے۔ اس لیے آٹے میں نمک برابر سہی مگر چند سیاح ایسے ضرور ملے جو ’’ٹریکنگ‘‘ سے واپسی پر چپس کے خالی ریپرز، جوس کے ڈبے اور پلاسٹک کی بوتلیں جمع کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے ٹریکنگ کے دوران میں ایسا کیا تھا، تاکہ کالام کی فطری خوب صورتی کو برقرار رکھنے میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔
قارئین! مجھے وہاں معلوم ہوا کہ ’’کالام ڈیولپمنٹ اتھارٹی‘‘ (کے ڈی اے) کو بھی قایم کیا گیا ہے۔ ایک ڈائریکٹر صاحب بھی متعین کیے گئے ہیں۔ چوں کہ عید قریب تھی، اس لیے موصوف کی عدم موجودگی کے باعث بات تو نہ ہوسکی۔ البتہ ذرایع سے یہ بات مجھ تک پہنچ گئی کہ ’’کے ڈی اے‘‘ نے ایک حکم نامے کے تحت کالام میں بہتے دریا کے دونوں کناروں پر دو سو فٹ کے احاطہ میں کسی بھی قسم کی تعمیرات پر پابندی لگا ئی ہے۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ضرور ہے، مگر مقامی لوگوں کو یقین نہیں کہ حکومت یہ فیصلہ عملی کرپائے گی۔ بقول ان کے، باہر سے بڑے بڑے لوگ یہاں اب ہوٹل انڈسٹری میں آرہے ہیں جو پیسا پانی کی طرح بہاتے ہیں۔ ان کے سامنے حکومتی عہدے داروں کا ٹکنا محال ہے۔ وہ مثال بھی دیتے ہیں کہ حال ہی میں سوات میں موجود انصاف کے ادارے کے ایک اعلا عہدے دار نے جب کالام میں گھیل روڈ پر گھر بنایا، تو غیرقانونی طریقے سے بجلی حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر قریبی ہوٹل والوں اور دیگرلوگوں کو بے حد تنگ کیا گیا۔ انصاف کے ادارے سے منسلک سرکاری اہل کارسے ان کو فون کراتے رہے۔
حاصلِ نشست یہ ہے کہ ’’کے ڈی اے‘‘ والے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور کالام کی خوب صورتی زایل ہو رہی ہے۔ خدارا! اس فطری خوب صورتی کو بچائیں، وگرنہ قدرت کا انتقام بہت سخت ہوتا ہے۔ کیا ہم 2010ء کا قدرتی انتقام بھول چکے ہیں؟
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔