منعقد ہوا کرتا ہے جس میں بہت سی عارضی دکانیں، پنگھوڑے، کھسرے، کتوں کی لڑائی، کشتیاں اور کبڈی کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے کھیل تماشے بھی لگتے ہیں۔ ایک کھیل تماشا ایسا ہوتا تھا جس میں ایک میز پر بہت سے چھوٹے بڑے سکے چسپاں کیے جاتے تھے۔ ساتھ ایک چھوٹی سی ٹوکری میں لوہے کے کڑے پڑے ہوتے تھے۔ اس کھیل میں حصہ لینے والا کھلاڑی ایک کڑا اُٹھا کر ایک مخصوص دوری سے اس میز پر پھینکتا تھا۔ اگر وہ سکہ میز پر جڑے سکوں میں سے کسی ایک سکے پر اَٹک کر رُک جاتا، تو کڑا پھینکنے والے کھلاڑی کو اس سکے کے برابر دوگنا پیسے بطورِ انعام ملتے۔ اگر وہ سکہ میز پر سے سلِپ ہو کر نیچے گر جاتا، تو معمولی رقم میں خریدے گئے کڑے کی رقم ضایع ہو جاتی۔ جو اس گیم پلانر کے منافع کا حصہ بن جاتی۔ ساتھ میں یہ گیم پلانر اُونچی اُونچی آوازیں لگاتا کہ ’’لگانے والے کو ملے گا، دیکھنے والے کو کچھ نہیں ملے گا۔‘‘ یعنی آئیں پیسا لگا کر کڑا خریدیں، اسے میز پر پھینکیں، تو کچھ ملنے کا چانس بنے گا۔ ورنہ خالی خولی دیکھنے سے کچھ نہیں ملے گا۔
قارئین! ملتا اُسے ہے جو کوشش کرتا ہے، جو ’’آؤٹ آف دی وے‘‘ جا کر الگ سے کچھ نیا کرنے کی جستجو کرتا ہے، جو چانس لیتا ہے، جو اپنا گھر گرہستی، کاروبار، بیوی بچے چھوڑ چھاڑ کر روٹین سے ہٹ کر کچھ نیا کرتا ہے، جو اپنی مرضی سے کٹھن کٹھور راہوں کا انتخاب کر کے ان پر قدم رنجہ فرماتا ہے، جن پر کوئی عام شخص چلنے کا حوصلہ و جسارت ہی نہیں کرتا، جہاں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اونچی نیچی ناہم وار راہوں سے پالا پڑتا ہے، موسموں کی شدت سے پنجہ آزمائی کرنا پڑتی ہے، بڑے بڑے بولڈرز ڈراتے ہیں، بھوک، پیاس، تنگی، ترشی اور رت جگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، پلے سے خرچہ کرنا پڑتا ہے:
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
(یہ ’’نرگس‘‘ ڈراموں میں ناچنے والی ’’حاجن نرگس‘‘ نہیں)
نرم و گداز گرم بستر کو چھوڑ کر پتھروں پہ سر رکھ کے کانٹوں کی سیج پر راتیں بسر کرنا پڑتی ہیں۔
جس تن لاگے سو تن جانے
اور نہ جانیں لوگ
جو ایسے تند و تلخ حالات کے جبر کا سامنا کرکے کچھ نیا کرتا ہے، دنیا اسی کے ہی گن گاتی ہے، اسے ہی پذیرائی ملتی ہے، ملنی بھی چاہیے، کیوں کہ پھر یہ اس کا حق بنتا ہے، مگر اس کے لیے اولین شرط سر پھرا ہونا ہے۔ کچھ الگ سے، تھوڑا عام روٹین سے ہٹ کر کچھ نیا کر گزرنا ہی اس شخص کی نشانی ہوتی ہے، جسے دنیا سرپھرا، پاگل، جنونی اور بے وقوف کے نام سے پکارتی ہے ۔
’’بورے والا ٹریکرز اینڈ بائیکرز گروپ‘‘ کے دو عدد جنونی، سرپھرے اور پاگل جنہیں ہم ’’میاں عتیق‘‘ اور ’’محمد امجد خاں تجوانہ‘‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اپنی جنونی فطرت سے تنگ ہو کر اونچے اونچے پہاڑوں کی کٹھن برفیلی راہوں کے راہی بن جاتے ہیں۔




دو سر پھرے میاں عتیق جن کے ہاتھ میں ٹریکنگ سٹک ہے اور محمد امجد خاں تجوانہ جنہوں نے چترالی ٹوپی پہنی ہے۔

اس بار بھی ابھی چند دن پہلے یہ پاگل، آوارہ، پریمی وادیِ کاغان کی برفیلی سلطنت میں ہم جیسے دنیا داروں کی دزدیدہ نگاہوں سے چھپ کر بیٹھی آنسو جھیل کہلانے والی دیوی کے درشن کرنے جا پہنچے تھے۔ آنسو دیوی نے اپنے دیدار کا پرساد دے کر ان کا دامن بھر دیا تھا۔ ہم بھی تھوڑے تھوڑے اس دیوی کے عاشق ہیں۔ ہم بھی اس کے پرساد سے اپنے تن من کی بھوک پیاس مٹانا چاہتے تھے۔ ہم نے نہ صرف ان سے اس دیوی کے قصے سنے، اس ماہ جبیں کی مدہوش کر دینے والی داستانیں سنیں، اس کی پُرلطف فضاؤں اور مخمور ہواؤں کی چاشنی کا پرساد کھایا، بلکہ اس بہشتی سفر میں ان کے ساتھ پیش آمدہ حالات و واقعات کا امرت بھی چکھا۔ جب ہمیں یہاں بورے والا میں بیٹھے بٹھائے اس حسنِ جاں فزا کا اتنا لذیذ و پُرسرور طعام مل سکتا ہے، تو ہم اس کے قاصد، اس کے زایر کے واری واری کیوں نہ جائیں، اور پھر امجد تجوانہ تو اس آنسو دیوی کے درشن کے بعد سواتی شہزادے گودر پاس کی البیلی راہوں کا راہی بن کر ، اس کے سینے پر بیٹھ کر، بیڈ منٹن کھیل کر اس کے دامن کو ایک بہت طول و عرض کے حامل ریکارڈ پاکستانی پرچم سے سجا کر واپس لوٹا تھا۔ ان کی پذیرائی قرض تھی ہم پر۔ سو ہم نے یہ فرض ادا کرنے کی کوشش کی۔
ہمارے سی ای اُو ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب نے ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک پیغام بھی ریکارڈ کروایا۔ بورے والا ٹریکرز گروپ کی تالیوں کی گونج میں کیک کاٹا اور پھر سب نے مل کر کھایا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔