آج کل ایک بارپھر ہمارا میڈیا معاشرتی اقدار کے خلاف انتہائی منفی کردار ادا کر رہا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ پچھلے چند دن قبل دو نوجوان بچیاں سوشل میڈیا پررابطہ کے بعد گھر سے بھاگ کر اپنے دوستوں کے پاس چلی گئیں اور باقاعدہ شادیاں رچا لیں۔ ان میں سے ایک کا مسئلہ تو بہرحال عدالت نے حل کردیا کہ لڑکی نے کَہ دیا کہ وہ بالغ ہے اور مرضی سے شادی کی ہے…… جب کہ دوسری بچی کا مسئلہ بہت گھمبیر ہوگیا۔ کیوں کہ مذکورہ دعا زہرہ نامی بچی کے والدین نے یہ دعوا کیا ہے کہ ان کی بیٹی ہر لحاظ سے چودہ سال کی ہے۔ اس لیے اس کی شادی جو لاہور کے ظہیر نامی نوجوان سے ہوئی، کو کالعدم قرار دے کر بچی کو ان کے حوالے کیا جائے۔
چوں کہ لڑکی گھر سے بھاگ کر آئی تھی اور گھر والوں کو معلوم نہ تھا، سو انہوں نے بہرحال قانون سے رابطہ کرنا تھا۔ بس پھر کیا تھا، اِدھر پولیس میں رپورٹ ہوئی، اُدھر میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا نے ایک بچی کی کم عقلی، ایک معزز شخص کے وقار اور ایک خاندان کی عزت پر سرکس لگا دی۔ اس کو لچھے دار انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا…… جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قانون کے لیے مزید مشکلات بڑھ گئیں…… اور بچی اور اس کے مبینہ شوہر کی تلاش مشکل ہوگئی۔ جوں جوں بچی کی تلاش میں تاخیر ہوتی گئی، توں توں میڈیا کا تماشا بڑھتا گیا۔ آخرِ کار یہ ہوا کہ یہ کیس مزید الجھ گیا۔ اب بچی مل گئی ہے اور قانون کے مطابق معاملہ عدالت میں ہے، لیکن میڈیا والے چھوڑ ہی نہیں رہے۔ کبھی اس کے والدین کا موقف، کبھی مذکورہ نوجوان لڑکی اور لڑکے کے تعلق داروں سے رابطہ، کبھی پولیس والوں کی کھنچائی، حتی کہ سندھ حکومت تک کو ملوث کر دیا گیا۔ مطلب اس واقعہ کو زندہ رکھنا اور لچھے دار خبروں سے ریٹنگ لینا اور چسکا لگانا تھا…… لیکن ان کو یہ احساس نہیں کہ اس طرح وہ معاشرے پر بحیثیتِ مجموعی کتنا منفی اثر ڈال رہے ہیں۔ میڈیا کو یہ احساس کرنا چاہیے کہ انسانی عمر خاص کر ’’ٹین ایج‘‘ میں انسان کے ساتھ کچھ خاص قسم کے نفسیاتی اور جذباتی مسایل ہوتے ہیں۔ اس عمر میں عشق و محبت کے حوالے سے عموماً اکثر لوگ کسی نہ کسی حد تک اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ نہ کوئی اچنبھے کی بات ہے اور نہ ہی کوئی نئی خبر۔ یہ ازل سے ہوتا چلا آ رہا ہے…… لیکن جس طرح آپ تماشا بنا لیتے ہیں، اس سے ایک تو نقصان یہ ہوتا ہے کہ متاثرہ خاندان کی عزت کا جنازہ روزانہ کی بنیاد پر نکلتا ہے…… پھر ہمارے ایک خاص قسم کے کلچر کہ جہاں پدر سری نظام ہے اور غیرت و حرمت کے معاملات کو براہِ راست خاتون سے ہی وابستہ کیا جاتا ہے، وہاں آپ متاثرہ خاندان کو مزید خراب کرتے جاتے ہیں۔ آئے دن ان مظلومین کے لیے ہر لمحہ دردناک بنتا جاتا ہے…… لیکن یہ تمام حالات شاید پختہ عمر کے لوگوں کے ہیں، جب کہ معصوم نوجوان دماغ اس کو بہت حد تک اور طرح سے لیتا ہے۔
آپ سروے کرلیں اس عمر میں اس قسم کے معاملات میں نوجوان خون بہت حد تک فخر محسوس کرتا ہے۔ اس عمر میں ویسے بھی ایک لڑکے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو کسی لڑکی سے وابستہ کر کے خبر بنائی جائے اور لڑکی کے دل میں یہ ارمان ہوتا ہے کہ اس کو کوئی ایسا ملے کہ دنیا کو معلوم ہو کہ میں اس پر نچھاور ہوں۔ اب جب میڈیا کے دور میں آپ ان بچوں کو فلمی ہیرو اور ہیروئین بنا کر پیش کر رہے ہیں، تو اس کا اثر تو ہوگا۔ کتنے ہی نوجوان ان خبروں کو دیکھ کر اس خواہش کا شکار ہوسکتے ہیں کہ کاش! وہ بھی کوئی ایسا ہی کارنامہ انجام دیں، اور ان کو بھی دنیا ہیر رانجھا بنا کر ان کی شہرت کاسامان کرے۔
دوسرا میڈیا کے علاوہ ہماری سول سوسائٹی کا کردار بھی بہت حد تک مایوس کن ہے۔ اس میں ایک فکر جو مادر پدر آزاد ہے، وہ اس تماشا کا حصہ ہے اور دعا زہرہ کو بطورِ مثال پیش کر رہا ہے کہ اس نے دلیری دکھلائی اور ہماری بچیوں کو اس راہ پر چلنا چاہیے۔ دوسرا مکتبۂ فکر اس میں کسی سازش کا متلاشی ہے اور دعا کی عمر کو لے کر معاذﷲ دین پر معترض ہے۔ وہ بھی کسی نہ کسی حد تک اس تماشا کو طویل کرنا چاہتا ہے، تاکہ وہ بھی میڈیا کی زینت بنتا رہے۔ جب کہ ہمارا جو مذہبی قدامت پسند بلکہ رجعت پسند طبقہ ہے، وہ اس واقعے کے نفسیاتی و جذباتی پہلوؤں کو نظر انداز کرکے مکمل طور پر ایک پندرہ سالہ بچی کا دشمن بن گیا ہے۔ ان کے خیال میں دعا نے والدین کی عزت کا پاس نہ رکھا اور اس وجہ سے اول تو اس کی سزا موت ہے، نہیں تو کم از کم اس کے والدین کو اس سے نجات دلا کر حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا چاہیے۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بیانیہ ہی غیر سنجیدہ ہے۔ اس واقعے کا خالصتاً نفسیاتی اور معاشرتی مسایل کے تناظر میں جایزہ لیا جائے۔ مذہب کی تعلیمات سے استفادہ کیا جائے، لیکن اس کو مذہبی تناظر سے مکمل مکس نہ کیا جائے۔ خالی اس کو مذہب سے دوری قرار دینا بھی نا مناسب ہے۔ آخر دنیا کا پہلا قاتل ایک نبیؑ کا بیٹا تھا۔ نوحؑ کا بیٹا گم راہ تھا۔ تو کہاں گئی مذہبی تعلیمات اور تربیت کا اثر…… حالاں کہ وہ بہت مقدس ہستیوں کے گھروں کی بات تھی اور شاید اس میں کوئی خدا کا راز تھا…… لیکن اب تو یہ بات بھی نہیں۔ سو ہمیں اس کو نفسیاتی اور معاشرتی حالات کے تناظر میں لینا ہوگا۔ ہمیں اپنے سوشل فیبرک اور اقدار کے پس منظر میں ان معاملات کی وجوہات کو تلاش کرنا ہوگا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس پر سول سوسائٹی کے درمیان ایک سنجیدہ بحث ہو کہ جہاں اس کے ایک ایک پہلو کو دیکھا جائے۔ خاص کر نفسیاتی و جذباتی پہلو پر غور و فکر کیا جائے۔ اس پر سفارشات مرتب کی جائیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کس طرح کی قانون سازی کی جائے اور کس طریقۂ کار پر اخلاقی و سماجی تربیت کی جائے۔
یہاں پر ہم والدین کے کردار کوبھی مکمل طور پر مسترد نہیں کرتے۔ بے شک اکثر والدین کی یہ شعوری کوشش ہوتی ہے کہ اولاد غلط روش پر نہ چلے لیکن اس کے باجود والدین کو بھی کچھ باتیں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ بابِ علم امام علیؓ کا قولِ مبارک ہے کہ اپنے بچوں کی تربیت نئے حالات کے مطابق کرو۔ کیوں کہ نئے دور کے تقاضے بہرحال مختلف ہوتے ہیں۔
والدین اور اولاد کے درمیان جنریشن گیپ یا نسلی فاصلہ بہت سے معاملات بگاڑ دیتا ہے۔ نوجوان بچے چوں کہ ذہنی بلوغت تک نہیں پہنچے ہوتے، سو ان کو بہت سے معاملات اور امکانات کا پتا نہیں ہوتا۔ وہ آنے والی ممکنہ مشکلات کا ادراک نہیں کر پاتے۔ اس وجہ سے والدین پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے۔ کیوں کہ والدین تجربہ کار ہوتے ہیں۔ زندگی کے اتار چڑھاؤ سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ معاملات کا بہتر ادراک کرسکتے ہیں۔ والدین کو جہاں بچوں کے معاملات پر کڑی نظر رکھنی چاہیے، وہاں بچوں کے جذباتی مسایل کو بھی حقیقت پسندی سے دیکھنا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمارے سکول اور مساجد اس میں سب سے اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ نفسیاتی طور پر ایک بچہ کہ جس کی عمر 5 سے 13, 14 سال کے درمیان ہوتی ہے، وہ فطری طور پر والدین سے ڈرتا ہے نہ ان کی بات کو سنجیدہ لیتا ہے اور نہ اس کو جواب دہی کا خوف ہی ہوتا ہے۔ لیکن وہ بہرحال اساتذہ اور مولوی صاحب کا ایک حد تک خوف بھی رکھتا ہے اور ان کی جواب دہی کا احساس بھی رکھتا ہے۔ اس لیے حکومت اور ریاست کا یہ فرض ہے کہ وہ سکول کے سلیبس اور مسجد کے نظام میں تبدیلی لائے اور اس میں اخلاقی رویوں اور معاشرتی اقدار سے آگاہی دے۔ دعا زہرہ جیسے واقعات کے منفی پہلوؤں پر بچوں کی ذہن سازی کرے۔ یقینا اس بات کا امکان تو نہیں کہ تب یہ واقعات یکسر کلی طور پر ختم ہو جائیں گے، لیکن اس بات کا بہرحال امکان قوی ہے کہ اس طرح ایسے واقعات میں واضح کمی ضرور ہو جائے گی۔
آخر میں میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ اس میں بہت ہی مثبت کردار ادا کرسکتا ہے، خاص کر ’’پرفامنگ آرٹ‘‘ کا شعبہ…… ہمارے معاشرے میں ایسی سیکڑوں سچی کہانیاں ہیں کہ جہاں دعا زہرہ جیسی بچیاں وقتی جذبات میں جو غلط قدم اٹھا کر چلی، وہ آگے جا کر بہت پچھتائی اور تباہ و برباد ہوگئیں۔ سو ایسی سچی کہانیوں پر ہمارا یہ شعبہ کام کیوں نہیں کرتا؟ ان پر فلمیں اور ڈرامے بنائے جائیں۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل اس کو دیکھ کر کچھ نہ کچھ سبق حاصل کرے۔ یقینا پھر ایسے واقعات میں کمی ہو گی، لیکن اب کیا کیا جائے کہ ہمارے ہر شعبہ کے لوگ کسی سنجیدہ پہلو پر غور بالکل نہیں کرتے، بس وقت گزاری کرتے ہیں۔ ہمارا میڈیا تو معذرت کے ساتھ مجھے پھر کہنا پڑ رہا ہے کہ بجائے ان معاملات کی روک تھام کے لیے کام کرے، اس کو لچھے دار بنا کر بس ریٹنگ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کاش، ہمارے پیمرا جیسے ادارے بھی اس بات کا نوٹس لیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔