ایک وقت تھا کہ سوات میں صاف پانی وافر مقدار میں موجود تھا۔ جگہ جگہ قدرتی چشمے تھے۔ ندیوں کا پانی بھی صاف تھا۔ دریائے سوات کا پانی لوگ ہاضمے کے لیے پیتے تھے اور باہر سے آئے ہوئے مہمان اسے بوتلوں میں بھر کر پینے کے لیے لے جاتے تھے…… لیکن اب صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔
سوات کی آبادی میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے اضلاع سے بڑے پیمانے پر لوگ سوات منتقل ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے رہی سہی کثر پوری ہونے کو ہے۔ مینگورہ شہر اور گرد و نواح میں پہاڑوں کی چوٹیوں تک آبادی پہنچ چکی ہے۔ یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ اب جہاں بھی آبادی ہو رہی ہے۔ وہاں پر لوگ پہلے پانی کے لیے ڈریلنگ (بور) کرتے ہیں جس کی وجہ سے پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے۔ ہمیں یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ’’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی سوات‘‘ (واسا) نے مینگورہ شہر میں پانی کی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا۔
’’واسا‘‘ سوات کے سی ای اُو شیدا محمد نے ایک اخباری بیان میں بتایا ہے کہ ’’عوام ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔ خشک سالی کے باعث پانی کی سطح گرگئی ہے۔ اس صورتِ حال میں عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق پانی مہیا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ تین ماہ میں 60 ملین روپے کی لاگت سے دریائے سوات سے ایکسپریس لائن بچھائی جائے گی۔ اس وقت 75 ٹیوب ویلوں میں سے زیادہ تر پانی کی کمی کی وجہ سے بند ہیں۔ مینگورہ شہر میں پانی کی کمی کے باعث ایمرجنسی نافذ کر رہے ہیں۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ پانی کے استعمال میں کافی احتیاط سے کام لیں اور ضرورت سے زیادہ پانی استعمال کرنے سے گریز کریں۔‘‘
قارئین! شیدا محمد نے یہ بھی کہا کہ 2018ء میں مینگورہ شہر میں پانی کی شدید کمی تھی، جسے پورا کرنے کے لیے ہم نے ٹیوب ویلوں کی تعداد 52 سے بڑھا کر 75 کردی، لیکن اب شدید خشک سالی کے سبب پانی کی سطح نیچے گرگئی ہے، جس کی وجہ سے پانی کی قلت آڑے آگئی ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق بروقت پانی میسر نہیں، جس سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔ واسا اپنے طور پر اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہا ہے۔ پانی کی خستہ حال لائنوں کی جگہ نئی لائنیں نصب کرنے کے ساتھ ساتھ نئے ٹیوب ویل بھی قایم کرنے کے لیے تمام تر دستیاب وسایل بروئے کار لارہے ہیں۔ چوں کہ اس وقت شہر بھر میں پانی کا بحران ہے، لہٰذا عوام کو بھی اپنی ذمے داری پوری کرنی چاہیے۔
سوات میں ’’واسا‘‘ کی جانب سے پانی کی سپلائی نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے لوگوں نے مزید گہری ڈریلنگ شروع کردی ہے جس کی وجہ سے پانی کی زیرِ زمین سطح مزید گر رہی ہے۔ ڈریلنگ کے لیے کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے بھی اس عمل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سو قانون سازی کی ضرورت ہے، تاکہ ڈریلنگ کی اجازت ضرورت کے مطابق دی جائے۔ بِلا ضرورت اس عمل حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔
قارئین! موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بھی پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے۔ دوسری طرف جنگلات کی کٹائی بھی جاری ہے۔ رواں ماہ سوات کے جتنے جنگلات کو آگ لگائی گئی، اُس سے لاکھوں کی تعداد میں درخت جل کر راکھ ہوئے۔ اس کا اثر آنے والے مہینوں میں دیکھنے کو ملے گا۔ لازمی امر ہے کہ جنگلات کی کٹائی سے بارشوں اور برف باری کا سلسلہ بڑی حد تک کم ہوگا، جس کی وجہ سے خشک سالی میں اضافہ ہوگا اور پانی کی شدید قلت سامنے آئے گی۔
ابھی کل کی بات ہے کہ سوات کے بالائی علاقوں میں موسمِ سرما میں پڑنے والی برف اگلے سال جون، جولائی کے مہینوں تک رہتی تھی۔ برف کے آہستہ آہستہ پگھلنے سے پانی دریائے سوات میں آتا تھا جس کی وجہ سے زیرِ زمین پانی کی سطح میں اضافہ ہوتا تھا، لیکن اس سال موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے وہ برف مارچ میں پگھلنا شروع ہوگیا۔ مئی تک پہاڑوں سے برف کا خاتمہ ہوگیا جس کی وجہ سے دریا میں پانی کی سطح میں بہت حد تک کمی آگئی۔
دوسری طرف دریائے سوات کا پانی جو کسی وقت لوگ پیتے تھے، اب وہ بھی زہریلا ہوچکا ہے۔ دریا کنارے ہوٹلوں اور عمارتوں کے نکاس کی تمام لائنیں براہِ راست دریا میں گر رہی ہیں، جس کی وجہ سے دریا کا پانی زہریلا ہوچکا ہے۔ اس کے لیے قانون موجود ہے، لیکن اسے نافذ کرنے والے ادارے اس حوالے سے مکمل طور پر ناکام ہیں ۔
’’یوہ ویم بلہ رایادیگی‘‘ کے مصداق دریا سے غیر قانونی طور پر بجری نکالنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے پانی نے اپنا رُخ موڑ لیا ہے۔
سوات میں ہزاروں کی تعداد میں قدرتی چشمے خشک ہوچکے ہیں۔ ندیاں خشک ہوچکی ہیں۔ جن ندیوں میں پانی ہے، اس میں بھی 90 فی صد کمی آچکی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے ڈریلنگ کے لیے فوری قانون سازی نہ کی اور یہ سلسلہ نہ روکا گیا، تو چند سال بعد ہم پینے اور نہانے کے لیے پانی خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ اس لیے اب سے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بارے غور اور قانون سازی کرے۔
اس حوالے سے عوام بھی اپنا مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اگر عوام اس مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ لیں، پانی کا بے جا استعمال بند کردیں اور پانی کو ضایع نہ ہونے دیں، تو اس سے پانی کی بچت ہوسکتی ہے۔
متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کے دور میں مینگورہ شہر کو دریا سے پانی کی فراہمی کی ایک سکیم اس وقت کے ایم پی اے محمد امین نے شروع کی تھی، جو اس وقت مکمل نہ ہوسکی، لیکن اب موجودہ صوبائی حکومت اس اسکیم میں دلچسپی کا اظہار کر رہی ہے، جس کے ذریعے باغ ڈھیرئی سے ایک بڑے پائپ میں دریا کا پانی فضاگٹ تک لایا جائے گا۔ اس کے بعد وہاں پلانٹ میں پانی کو فلٹر کیا جائے گا۔ بالآخر فلٹر شدہ پانی شہریوں تک سپلائی کیا جائے گا۔ اگر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا گیا، تو دریا کا پانی استعمال میں آجائے گا اور زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ بچ جائے گا۔
یہ صرف سوات میں نہیں دیر، شانگلہ، کوہستان، ہزارہ، صوابی، چارسدہ، شمالی اضلاع…… جہاں پر دریا کا پانی موجود ہے، اگر اس کو پینے اور استعمال کے لیے مذکورہ طریقے سے استعمال کیا جائے، تو وافر مقدار میں زیرِ زمین پانی کا ذخیرہ بچ جائے گا۔
اس وقت مینگورہ شہر کو روزانہ 12 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے، جو پوری نہیں ہو رہی۔ اس کا واحد حل دریائے سوات کے پانی کو فلٹر کرکے شہریوں کو فراہم کرنا ہے اور بس!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔