مہنگائی کا پارہ گرمی کے پارے سے بڑھ چکا ہے۔ اسی پر لکھتے لکھتے ہم بے بس بھی ہوگئے…… لیکن ’’تجربہ کاروں‘‘ کے تجربے ابھی ختم ہونے کو نہیں آئے۔ ٹی وی کا سکرین ہو، اخبار کے صفحات ہوں، یا عوام کے مرجھائے ہوئے چہرے…… سب کے سب زبانِ حال سے کَہ رہے ہیں کہ یہ سب ناقابلِ برداشت ہے…… مگر حکم ران طبقہ ہے کہ ہر بار ہر بوجھ عوام پر ہی ڈالتا ہے۔
اب یہ جو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا گیا ہے…… اس نے تو غریب عوام کا بھرکس نکال کر رکھ دیا ہے۔ وہ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ مہنگائی کے حوالے سے پچھلی حکومت نے عوام کو اُلٹا لٹکایا تھا۔ اب یہ ’’تجربہ کار‘‘ آئے تو لٹکے عوام سے چمڑی ادھیڑنے لگے ہیں۔
مَیں وہ کفن چور والی کہانی نہیں لکھوں گا کہ فایدہ کچھ نہیں۔ بہرحال گرمی اور مہنگائی کی اس بدحالی میں آج کسی اور موضوع پر بات کرتے ہیں کہ ممکن ہے کچھ لمحوں کے لیے ہم یہ معاملہ بھول جائیں اور کچھ سکون میسر ہو۔
یہ ہم سب جانتے ہیں کہ وطنِ عزیز کو اللہ نے بے پناہ وسایل اور انعامات سے نوازا ہے۔ ان نعمتوں میں سب سے اہم پانی ہے۔ راقم چوں کہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں نانِ شبینہ کماتا ہے، اس لیے کوئٹہ میں پانی کی کم یابی کا اپنے علاقوں میں وافر پانی سے تقابل دیکھ کر بے ساختہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن خاص کر سوات اور دیر کی خوب صورتی میں اضافہ دریائے سوات اور دریائے پنج کوڑہ ہی کی بدولت ہے۔ یہاں کے سبزہ زاروں، کوہساروں اور انسانوں کی خوب صورتی میں اس پانی کا عکس نمایاں ہے۔
بدقسمتی لیکن یہ ہے کہ ملک بھر کی طرح اب ان علاقوں میں بھی پانی کا ضیاع اور دریاؤں کو غلاظت سے بھرنے کا رواج چل پڑا ہے۔ اتنا عرصہ تو نہیں گزرا جب دریائے سوات کا پانی نیلگوں اور صاف و شفاف بہا کرتا تھا۔ گزرتے مسافر رُک کر یہاں سے پانی پیتے تھے۔ وضو کرکے تازہ دم ہوجایا کرتے تھے۔ اب بھی وہی پانی بہتا ہے مگر بے رنگ اور بدبودار…… جو دیکھنے کے قابل نہیں…… چکھنے کا تو سوچیں بھی مت۔
یہ کیسے ہوا؟
کس نے کیا ؟
اور کیوں کیا ؟
ان تمام سوالوں کا ایک ہی جواب ہے کہ ہم سب نے اپنی ہوسِ زر مٹانے کے لیے بے ڈھنگ اور بے ترتیب رہائشی سوسائٹیوں کی بنیاد ڈالی۔ جہاں ماحول اور صفائی کا کوئی خاص انتظام نہیں۔ روز منوں کے حساب سے کچرا جمع کیا جاتا ہے اور دریا میں ڈالا جاتا ہے۔ وہ زمانہ نہیں رہا، جب لوگ نیکی کرکے دریا میں ڈالا کرتے تھے۔ اب تو گند جمع کرکے دریا میں ڈالا جاتا ہے۔ یوں خوب صورتی، بدصورتی میں بدلتے دیر نہیں لگتی۔
چند ہی سال تو ہوئے ہیں جب دریائے سوات کا نیلگوں پانی گدلے اور بدبودار پانی میں تبدیل ہوا۔ اس کی دیگر وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ کرش مافیا ہے، جس نے کرش فیکٹریاں لگا کر دریا کا چہرہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔
اس طرح کمرشلائیزیشن کے نام پر دریا کے دونوں کناروں پر سیمنٹ اور اینٹ کی عمارتیں کھڑی کی گئی ہیں…… جس کی وجہ سے دریا اور اس کا پانی نظروں سے اوجھل ہوگیا ہے۔
اس منظر کو مگر بدلا بھی جاسکتا ہے۔ بس تھوڑی ہمت اور کچھ احساس ہی تو درکار ہے۔ نسخہ آزمایا ہوا اور سستا ترین بھی ہے۔ کرنا صرف یہی ہے کہ جس کسی کا بھی گھر، ہوٹل یا دُکان دریا کے کنارے واقع ہے، اس کی ذمے داری لگائی جائے کہ اپنے گھر، ہوٹل یا دُکان کے سامنے جتنا رقبہ ہے، دریا کا وہ کنارا صاف رکھنا اس کے ذمے ہوگا۔ ایک دفعہ حکومت صفائی کروا کر پھر رہایشیوں کو ذمے دار ٹھہرائے، تاکہ صفائی مستقل ہو۔
علاوہ ازیں ساحلی رہایشی بہت آسانی سے ایسا کرسکتے ہیں کہ گھر یا دُکان کے سامنے دریا کا جتنا کنارہ میسر ہے، اس پر موسمی پھول اُگائیں۔ اس سے خوب صورتی میں اضافہ بھی ہوگا اور صحت افزا احساس بھی۔
اس کے ساتھ اگر دریا کے دونوں کناروں پر چنار کے درخت لگائے جائیں، تو سونے پر سہاگا والی بات ہوجائے گی۔ اس کے لیے محکمۂ جنگلات عوام کو چنار کے درخت مہیا کرے۔ عوام خود درخت لگائیں۔ اپنے فوت شدگان کے ایصالِ ثواب کے لیے بھی درخت کاشت کیے جاسکتے ہیں کہ سبز درخت بہرحال خدا کا ثنا خواں ہوتا ہے۔
یقین کیجیے…… اگر صرف دریائے سوات اور پنج کوڑہ کے کناروں پر آباد لوگ یہ کام کردیں، تو کوئی شک نہیں کہ دو سالوں کے اندر اندر نہ صرف یہ دونوں دریا گندگی سے صاف ہوجائیں گے…… بلکہ ان کے کناروں پر اُگے پھول اور چنار سے دریا کی خوب صورتی دو گنی بلکہ سہ گنی ہوجائے گی۔
قارئین! یہ کام وہ ہیں جو ہم کرسکتے ہیں۔ رہی مہنگائی، تو اس پر ہم صرف رو سکتے ہیں یا صبر ہی کرسکتے ہیں…… اور کچھ نہیں!
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔