کل کی متحدہ اپوزیشن اور آج کی حکومت نے ایک معتدل بجٹ پیش کیا ہے۔ اس میں گوادر کے لوگوں کو ’’سولر‘‘ اور پچھلی حکومت کے کٹے،وچھے اور دوسرے اچھے پروگرام بھی جاری رکھے ہیں۔
قارئین! بجٹ پر لکھنے سے پہلے اتنا بتا دوں کہ پاکستان میں خود ساختہ مہنگائی اور کرپشن کچی لسی کی طرح بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے کسی کے پاس کوئی نظریہ ہے اور نہ فکر…… سبھی لکیر کے فقیر بن کر ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانے یا مخالفین کو رگڑا لگانے میں مصروف ہیں۔
پیٹرولیم مصنوعات پر ہونے والے حالیہ اضافے اور مستقبلِ قریب میں مزید اضافے نے غریب عوام کا جینا مشکل کردیا ہے۔ ہم مہنگے داموں اشیا خرید کر سستی نہیں فروخت کرسکتے…… مگر ایسا تو کرسکتے ہیں کہ سستی اشیا خرید کر سستے داموں فروخت کردیں۔
گذشتہ روز پاکستان میں روسی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ روس پاکستان سمیت دیگر ممالک کو سستے تیل کی فراہمی میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اب یہ موجودہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ مہنگا تیل خریدتی ہے یا سستا……!
رہی بات بجٹ کی، تو اس میں مجموعی طور پر 440 ارب روپے کے نئے ٹیکس عاید کیے گئے ہیں۔ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 34 ارب اور سیلز ٹیکس 90 ارب کے نئے ٹیکس اقدامات کی تجویز ہے۔ 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی پیٹرول پر عائد کی گئی ہے۔
بجٹ میں ایک لاکھ جس کی تنخواہ ہے، اس کو ٹیکس چھوٹ ہوگی۔ 6 سے 12 لاکھ تک انکم والوں پر 100 روپے کا ٹیکس جو رکھا گیا ہے، وہ پروسیسنگ فیس ہے۔ غیر ضروری ’’ودہولڈنگ ٹیکسز‘‘ کو ختم کیا گیا ہے۔
اس طرح آڈٹ چار سال میں ایک دفعہ ہوگا۔ بہبود سرٹیفکیٹ پر ٹیکس کی شرح کو 10 فی صد سے کم کرکے 5 فی صد کرنے کی تجویز ہے۔ ایک پلاٹ پر ٹیکس چھوٹ دی جائے گی، جب کہ غیر استعمال شدہ رہایشی، کمرشل، انڈسٹریل پلاٹ اور فارم ہاؤسز پر ٹیکس ہوگا۔ ’’کیپٹل گین ٹیکس‘‘ کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔ نان فائیلر پر پراپرٹی کی خریدوفروخت پر ٹیکس کو 2 فیصد سے پانچ فیصد کیا گیا ہے۔ آئی ٹی کی برآمدات پر ٹیکس 1 فی صد سے کم کرکے 0.25 فی صد کرنے کی تجویز ہے۔
اس طرح عوام کو 85 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ کسٹمز کی مد 6 ارب، سیلز ٹیکس 30 ارب کا ریلیف دینے کی تجویز ہے…… جب کہ انکم ٹیکس کی مد میں 49 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف فراہم کرنے کی بھی تجویز ہے۔ مجموعی طور پر 85 ارب کے ریلیف سے ٹیکس اقدامات کا حجم 355 ارب تجویز کیا گیا ہے۔
مقامی طور پر تیار ہونے والے سگریٹس پر ایف ای ڈی عاید کرنے کی تجویز ہے…… جس سے 10 ارب روپے کا سالانہ ریونیو حاصل ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے عوام کے لیے ایک اور اچھا کام بھی کیا ہے کہ میٹرو بس کو ’’روات‘‘ اور ’’بارہ کہو‘‘ تک توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے ’’بارہ کہو‘‘ اور ’’روات میٹرو بس منصوبے‘‘ کے لیے رقم بھی مختص کردی۔ روات، فیض آباد میٹرو بس منصوبے کے لیے ایک ارب روپے جب کہ بارہ کہو فیض آباد میٹرو سروس پر 10 ارب روپے لاگت آئے گی۔
وفاق کے بعد اب 13 جون کو پنجاب کا بجٹ بھی پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے پنجاب اسمبلی کے جاری 40ویں سیشن کو ہی بجٹ اجلاس میں تبدیل کر دیا ہے جس کی گورنر پنجاب نے منظوری دے دی ہے۔
پنجاب اسمبلی کا یہ بجٹ اجلاس پچھلے اجلاسوں کی نسبت کافی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے۔ کیوں کہ یہاں پر اپوزیشن کے اراکین موجود ہوں گے جو حسبِ روایت وہی کریں گے جو پچھلے چار سالوں میں موجودہ حکومتی اراکین کرتے رہے ہیں۔ اس اجلاس میں وہ زخمی اراکین بھی شامل ہوں گے جو وزیرِ اعلا حمزہ شہباز شریف کے الیکشن کے دوران میں زخمی ہوئے تھے۔
اس کے برعکس قومی اسمبلی میں اتحادی حکومت کے پہلے بجٹ میں قومی اسمبلی کا ماحول روایت کے بر عکس پھیکا رہا۔ ماضی میں پیش ہونے والے بجٹ اجلاسوں کی روا یتی گہما گہمی، جوش و خروش اور دلچسپی مفقود نظرآئی۔ حقیقی اپوزیشن نہ ہونے کے باعث کوئی شور شرابا اور ہنگامہ آرائی نہ ہوئی۔ مہمانوں کی گیلریاں خالی رہیں…… جب کہ میڈیا گیلری میں بھی روایتی رونق نہ ہونے کے برابر تھی۔ اپوزیشن لیڈر وزیرِ خزانہ کی بجٹ تقریر کے دوران ہی ایوان سے چلے گئے۔
ہر سال بجٹ کے موقع پر لاہور، کراچی سمیت دیگر شہروں کے سینئر صحافی بجٹ کور کرنے کے لیے پارلیمانی گیلری میں رونق افروز ہوتے تھے…… جب کہ غیر ملکی صحافیوں کی ایک بڑی تعداد میڈیا گیلری میں موجود ہوتی تھی…… لیکن اس بار میڈیا گیلری میں کثیر نشستیں خالی تھیں۔ وزرائے اعلا، گورنر، وزیرِ اعظم آزاد کشمیر، وزیرِ اعلا گلگت بلتستان کی بجٹ اجلاس میں عدم موجودگی بھی محسوس کی گئی۔ غیر ملکی سفرا، مسلح افواج کی قیادت کے لیے مخصوص گیلری بھی بجٹ تقریر کے دوران میں خالی رہی۔
قارئین! اپوزیشن ارکان ایوان کی اصل رونق ہوتے ہیں۔ گذشتہ 4 بجٹ تقاریر کے دوران میں اپوزیشن ارکان نے بجٹ مخالف ہنگامہ آرائی، نعرے بازی اور سپیکر ڈائس اور سابق وزیرِ خزانہ کی نشست کا گھیرا و کرتے رہے تھے…… مگر اس بار اپوزیشن نے ادب، خاموشی اور سنجیدگی کے ساتھ تقریر سنی۔
پی ٹی آئی کے منحرف ارکان، جی ڈی اے کے غوث بخش مہر، فہمیدہ مرزا، سائرہ بانو اور جماعت اسلامی کے مولانا اکبر چترالی بھی خاموشی سے بجٹ تقریر سنتے رہے…… جس کی وجہ سے وزیرِ خزانہ کو شور شرابے اور ہنگامہ آرائی سمیت کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا…… مگر پنجاب میں ایسا نہیں ہوگا۔ وہاں ٹھنڈے ہاؤس میں درجۂ حرات کافی گرم ہوسکتا ہے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔