نئی حکومت ما شاء اﷲ سے پرانے پاکستان کی آمد کے ساتھ تمام تر انتظامی مشکلات لے کر اسلام آباد پر قبضہ کرچکی ہے۔ اپوزیشن کی بڑی جماعت کے صدر محترم شہباز شریف وزیرِ اعظم جب کہ دوسری بڑی جماعت کے چیئرمین محترم بلاول بھٹو زرداری وزیر خارجہ بن گئے ہیں…… جب کہ دوسری اتحادی جماعتوں کو بھی حصہ بہ قدرِ جثہ مل چکا ہے۔
اُس وقت کی حزبِ اختلاف نے جب تحریک انصاف کے خلاف باقاعدہ سنجیدہ مہم کا آغاز کیا، تو تحریکِ عدمِ اعتماد سے پہلے عوامی سطح پر دباؤ بنانے کی خاطر عوامی رابطہ مہم کی شروعات کی۔ پہلے مولانا فضل الرحمان نے دھرنا دیا۔ پھر مریم شریف نے لانگ مارچ کیا۔ پھر پی ڈی ایم کی جماعتوں نے لانگ مارچ کا اعلان کر دیا…… جو کہ سیاسی حالات کے پیشِ نظر اس طرح نہ ہوا۔ پھر پاکستان پیپلز پارٹی نے کراچی سے لانگ مارچ کیا اسلام آباد تک۔ ذکر شدہ تمام مارچوں اور احتجاجوں کو مہنگائی کے خاتمے کا نام دیا گیا کہ جن کے اختتام پر تحریکِ عدمِ اعتماد پیش کر دی گئی۔ المختصر، عدمِ اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی اور عمران خان مخالف حلقوں کی جانب سے ’’مبارک سلامت‘‘ کے ساتھ عوام کو یہ آس دلائی گئی کہ ہم عمران خان کی تباہی کا مداوا کرنے آئے ہیں۔
مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کی اتحادی جماعتوں کے کارکنان تو ایک طرف لیکن یقین مانیے کہ ہم جیسے لوگوں کو بہرحال یہ یقین تھا کہ شہباز شریف اور آصف زرداری جیسے تجربہ کار لوگ بے شک فوراً کچھ ایسے اقدامات ضرور کریں گے کہ جن سے عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف ضرور ملے گا…… لیکن اس پرانے پاکستان کی نئی حکومت نے آتے ہی عمران حکومت کے آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے مطابق ایک دم سے ساٹھ روپیے کا ’’پٹرول بم‘‘ دے مارا۔ پھر گھروں تک نہ پہنچنے والی گیس کا ریٹ بڑھا دیا اور اب بجلی میں بے تحاشا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کا جواز یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ہم مجبور ہیں اور یہ بارودی سرنگیں عمران خان کی حکومت بچھا کر گئی ہے…… لیکن سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ تجربہ کار آپ ہیں اور آپ کو تو بارودی سرنگوں کا علم بھی ہوگیا تھا، تو پھر آپ نے اس کا کوئی حل کیوں نہ تجویز کیا۔ حقیقت یہ ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں اور عوام بھی…… اور وہ یہ کہ آئی ایم ایف یا دوسرے مالیاتی ادارے جو آپ پر ٹیکس کی شرایط یا سبسڈی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، تو اس کی بنیادی اور واحد وجہ ہوتی ہے کہ وہ یہ یقین دہانی چاہتے ہیں کہ آپ ’’ڈیفالٹ‘‘ نہیں کریں گے…… اور ان کا دیاگیا پیسا ان کو واپس ملے گا…… لیکن اگر آپ ایسے اقدامات کرلیں کہ آپ کے پاس ڈالر موجود ہوں، تو تب ان کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ آپ اپنے عوام پر لازماً ٹیکس لگا کر ان کو پریشان کریں۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہماری وزراتِ خزانہ میں دردِ دل رکھنے والے، عوام دوست اور محب وطن اشخاص موجود ہوتے، تو ان کے پاس ایسے ایک سو ایک حل ہیں کہ جن پر عمل کرکے وہ آئی ایم ایف کو مطمئن کرسکتے ہیں اور عوام کی زندگی آسان بنا سکتے ہیں۔
قارئین! مَیں ایک جاہل آدمی ہوں اور معیشت سے اتنا ہی تعلق ہے کہ جتنا ایک کسان کا ایٹمی سائنس سے…… لیکن کچھ تجاویز تو میں بھی دے سکتا ہوں…… جو کہ درجِ ذیل ہیں۔ کیا حکومت اس پر غور کرے گی؟
٭ تمام لگژری چیزوں اور ایسی چیزیں جو لوکل بنتی ہیں یا پیدا ہوتی ہیں، ان کی درآمد پر یک مشت پابندی لگا دی جائے، جیسے بڑی گاڑیاں، میک اپ کا سامان، گوشت، کھلونے، آئی ٹی سے وابستہ اشیا وغیرہ۔ اس سے آپ ماہانہ اندازاً سات ارب ڈالر کی بچت کرسکتے ہیں۔
٭ تمام سرکاری افسران اور حکومتی عہدیداران بشمول اسمبلی ممبران کے ٹی اے ڈی اے پر پابندی لگا دی جائے، میڈیکل اور خاص کر مفت پٹرول کو بند کیا جائے۔
٭ سرکاری افسران اور سرکاری عہدیداران کے بیرونِ ملک سفر خاص کر طبعی بنیادوں پرکو فی الفور بند کیا جائے۔
٭ بڑی گاڑیوں کے لیے علاحدہ پٹرول پمپ ہوں، جہاں پٹرول مہنگا دیا جائے۔
٭ تمام کمرشل مارکیٹ کو رات نو بجے کے بعد بند کیا جائے جب کہ تفریح کے مراکز جیسے ہوٹل، پارک، سینما وغیرہ رات گیارہ بجے بند کر دیے جائیں۔
٭ اعلا حکومتی عہدیداران کا پروٹوکول پچاس فیصد کم کر دیا جائے۔
٭ تمام سیاسی و انتظامی عہدیداران کے گھروں میں بجلی کا بل دیا جائے ۔
٭ سولر اور ونڈ بجلی بنانے کے لیے آسان قرضے دیے جائیں اور ممکنہ طور پر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔
٭ کراچی پورٹ سے سامان کی ترسیل کے لیے ٹرکوں کی بجائے ریل گاڑی کا زیادہ سے زیادہ استعمال ممکن بنایا جائے۔
٭ بائیسکل کلچر کو پروان چڑھایا جائے اور علامتی طور پر حکومتی عہدیداران سے بائیسکل کا استعمال کروایا جائے۔
٭ داخلی سیاحت کے لیے اقدامات کیے جائیں اور کچھ عرصے کے لیے بیرونِ ملک سیاحت کو مہنگا تر کر دیا جائے۔
٭ بیرونِ ملک پاکستانیوں کو روپیا کی نقل و حرکت پر آسانی دی جائے اور باہر سے آنے والے پیسے پر ٹیکس ختم کر دیا جائے۔
٭ برآمدات کے لیے بھی آسانیاں پیدا کی جائیں اور ان پر ٹیکس کی شرح کم کی جائے۔
٭ توانائی کے غیر ضروری استعمال کو صرف اشتہار بازی یا تبلیغ ہی سے نہ روکنے کی کوشش کی جائے بلکہ باقاعدہ قانون سازی کی جائے اور اس کو فوج داری جرم قرار دیا جائے۔
٭ عمومی سٹریٹ لائٹس کم کی جائیں اور پوش علاقوں کی سٹریٹ لائٹس پر ٹیکس کا اجرا کیا جائے۔
٭ اپنی مدد آپ کے نام سے پیسا جمع کرنے کی عام عوام سے اپیل کی جائے، لیکن اس میں علامتی طور پر اعلا سیاسی و حکومتی شخصیات خود معقول رقم جمع کروائیں۔
٭ حکومت کی جانب سے تمام سیاسی اشتہار بازی فوراً بند کی جائے۔
٭ سرکاری اخراجات پر حج و عمرے وغیرہ کا عمل بند کیا جائے۔
٭ دفاعی اخراجات میں واضح کمی جائے۔ غیر ضروری اسلحہ کی خریداری اور فوجی مشقیں ختم کی جائیں۔
٭ بارانی پانی کو جمع کرنے کے لیے کام کیا جائے۔
٭ خوراک کی پیداوار پر سبسڈی دی جائے…… جیسے گندم دالیں، چاول وغیرہ۔
اس طرح کی مزید بے شمار تجاویز دی جا سکتی ہیں…… لیکن اصل ضرورت ہے حکومت کی نیک نیتی اور سیاسی خواہش کی۔ اگر ایک دفعہ اعلا ارباب اختیار یہ طے کرلیں کہ انہوں نے یہ کرنا ہے، تو پھر ان شاء اﷲ کوئی وجہ نہیں کہ ہم کامیاب نہ ہوں، لیکن اگر حکومت اور ہر حکومت نے بس اپنی سوچ آئندہ انتخابات تک ہی رکھنی ہے…… اور ہر وقت بس یہ خیال کرنا ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ احمق کس طرح بنا کر وقتی سیاسی فایدہ لے سکتے ہیں، تو پھر اگلے 70 سال تک بھی ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔یہاں پر عام عوام کو بھی اپنی ذمے داری کا احساس کرنا چاہیے…… مثلا توانائی کے استعمال میں ہمارے لوگ خاص کر امیر بہت بے پروا ہوتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ خالی کمروں میں گھنٹوں گیس، ہیٹر اور اے سی چلتے رہتے ہیں۔ کسی کو پروا ہی نہیں ہوتی۔
دوسرا ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم بحیثیتِ مجموعی سیاسی تعصب کا شکار قوم ہیں۔ مثلاً آج کے حالات لے لیں، بس دو ماہ قبل کی بات ہے کہ جو لوگ مہنگائی کی توجیح دیتے تھکتے نہ تھے سوشل میڈیا پر، وہ آج اس مہنگائی پر شہباز حکومت کو لعن طعن کر رہے ہیں…… اور جو لوگ دو ماہ قبل مہنگائی کی دہائی دے رہے تھے، وہ اب مہنگائی کے حق میں دنیا بھر کی منطق تلاش کر رہے ہیں۔ عوام کا یہ رویہ بھی حکم رانوں کے سیاسی فایدے کا باعث بنتا ہے ۔ ہمارے عوام کو بھی خود کو سیاسی طور پر باشعور بنانے کی سعی کرنی چاہیے، اور جو جماعت غلط چلے عوام واسطے بہتری نہ لاسکے، اس پر کھل کر تنقید کرنی چاہیے بلکہ اس پر عملی سیاسی دباؤ پیدا کرنا چاہیے۔ مثلاً آج اگر تحریکِ انصاف مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر آتی ہے، تو پھر ن لیگ کے شیروں اور پیپلز پارٹی کے جیالوں کو اس ایشو پر خان صاحب کا ساتھ دینا چاہیے۔ ووٹ بے شک وہ اپنی جماعت کو دیں۔
آخر میں ہم اپنے امیر لوگوں، خاص کر تاجروں اور فیکٹری مالکان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ چند سال تک قربانی دیں۔نہ صرف ٹیکس دیانت داری سے ادا کریں…… بلکہ اگر حکومت پر اعتبار نہیں، تو کم از کم اردگرد کے غربا کی مدد ضرور کریں۔ ضروری نہیں یہ مدد کیش یا ضروریاتِ زندگی کی شکل میں ہو…… بلکہ آپ ان کو کوئی چھوٹا موٹا کاروبارکرنے میں مدد کریں، یا ان کو ملازمت کی تلاش میں مدد دیں۔ اس طرح کم از کم معاشرے کی مجموعی ترقی میں آپ کا مثبت حصہ تو ہوگا۔ بہرحال اول ذمے داری تو حکومت کی ہے کہ وہ مہنگائی اور بے روزگاری کے لیے جواز نہ گھڑے…… سابقین پر الزامات نہ دھرے بلکہ وہ مسایل حل کرے…… اور اپنی ذمے داریوں کو سمجھے۔
…………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔