قارئین! مینگورہ شہر، سیدو شریف اور امانکوٹ بلکہ اس کے ارد گرد مختلف مضافات گونا گوں مسایل سے دوچار ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا مسئلہ سر اٹھاتا رہتا ہے۔
مینگورہ شہر میں گندے پانی کے نکاس کا خاطر خواہ انتظام نہیں۔ مینگورہ خوڑ (ندی) بدبودار اور مچھروں کی افزایش میں اپنا اہم رول ادا کر رہا ہے…… جس سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ ہسپتالوں میں مریضوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے۔ معاینہ کے لیے ڈاکٹروں کے پاس وقت کی قلت ہے۔
دوسری طرف واسا والے پانی کے بل میں خاک روبوں کے لیے صفائی کے پیسے باقاعدہ وصول کررہے ہیں۔
اس طرح مینگورہ میں ٹریفک کا مسئلہ حل نہیں ہوپا رہا۔ رش کی وجہ سے موٹر سائیکل والے سڑکوں کی بجائے گلی کوچوں کا رُخ کر رہے ہیں۔ ان تمام مسایل کے ساتھ ساتھ ایک بڑا مسئلہ مینگورہ میں قبرستان کے نہ ہونے کا ہے، جس پر آج کی نشست میں بات ہوگی۔
مینگورہ میں یوں تو کئی قبرستان ہیں جن میں میاں خواجہ بہاؤ الدین بابا، حاجی بابا، گنبد میرہ، مقبرہ محمد گل شہید، مقبرہ سپین قبر مدین روڈ شامل ہیں، جو عوامی قبرستان ہیں۔ گنبد میرہ قبرستان آج سے تقریباً 50 سال پہلے بلدیہ مینگورہ کے اُس وقت کے چیئرمین بہرام خان (مرحوم) نے خطیر رقم خرچ کرکے زمین خریدی اور عوامی قبرستان کے لیے وقف کردی۔ وقت گزرتا گیا، اب حالت یہ ہے کہ اُس میں مزید قبریں بنانے کی گنجایش نہیں رہی۔ اس کے علاوہ بعض قبروں کے ارد گرد لوہے کے جنگلے بنے ہوئے ہیں جن میں دو دو تین تین قبروں کی جگہ نکل سکتی ہے۔ جان بوجھ کر لوہے کے ان جنگلوں میں قبروں کی گنجایش رکھی گئی ہے، تاکہ بہ وقتِ ضرورت یہ تجاوز کرنے والوں کے کام آئے۔
مقبرہ سپین کہلانے والا قبرستان جو کہ کافی پرانا ہے، وہاں بھی لوگوں کو تکلیف کا سامنا ہے۔ لوگ پرانی قبروں میں اپنے پیاروں کو دفن کرنے پر مجبور ہیں۔ اس قبرستان میں بھی لوگوں نے بعض قبروں کے ارد گرد لوہے کے جنگلے بنائے ہوئے ہیں، یعنی یہاں بھی وہی معاملہ ہے۔
محمد گل شہید کا قبرستان بھی بہت پرانا ہے۔ محمد گل 1823ء میں نوشہرہ کے مقام پر سکھوں کے خلاف جہاد کرتے ہوئے شہید ہوا تھا۔ اُس وقت کے لوگوں نے وسیع زمین قبرستان کے لیے وقف کی۔ پہلی قبر محمد گل شہید کی اس قطعۂ زمیں میں بنی تھی۔ اب اس میں بھی لوہے کے جنگلے نظر آتے ہیں، جو تجاوزات کی نئی قسم ہیں۔
حاجی بابا کے قبرستان میں بھی لوگ پرانی قبروں میں اپنے پیاروں کو دفن کررہے ہیں۔ اس قبرستان میں پنجا خان کی جانب جو راستہ بنا ہوا ہے۔ اُس میں چند قبروں کے درمیان طالب شہید کی قبر بھی ہے۔ یہ بھی نوشہرہ میں سکھوں سے جہاد کرتے ہوئے 1823ء میں شہید ہوا تھا۔ طالب شہید زرگر فیملی سے تعلق رکھتا تھا۔ حاجی بابا مقبرہ بھی مختلف تجاویزات کا شکار ہے…… لیکن یہ بات خوش آیند ہے کہ ایم پی اے فضل حکیم صاحب نے ان تمام قبرستانوں کے ارد گرد چار دیواری بنائی ہے۔ ورنہ ہم جیسے زندہ لوگ مُردوں کی قبروں کو زمین میں برداشت کرنے کے قابل نہیں اور چند ٹکوں کے لیے اُسے فروخت کرنے کے درپے نظر آتے ہیں۔
علاقے کے ایم پی اے فضل حکیم صاحب، میئر شاہد علی صاحب اور علاقے کے معززین حضرات کو چاہیے کہ موجودہ قبرستانوں میں بنے لوہے کے جنگلے ہٹائیں، اور جس طرح ملک بہرام خان مرحوم نے تقریباً پچاس سال پہلے نئے قبرستان کے لیے موزوں زمین خریدی تھی، آپ صاحبان بھی ایسا قدم اُٹھالیں۔ آپ اب مینگورہ شہر کے بڑے ہیں، نکاسیِ آب اور گندے خوڑ کو صاف رکھنے کے لیے مستقل انتظام فرمائیں اور ٹریفک کے مسئلے پر بھی قابو پائیں۔ اہلِ مینگورہ دعائیں دیں گے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔