اس پر تو بحث کی ضرورت ہی نہیں کہ عمران سرکار میں جب تیل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا، تو مولانا سے لے کر شہباز شریف تک اور زرداری سے لے کر بلاول تک کتنے ہی ایسے تھے جو لگا تار بیانات داغا کرتے۔ ہر چیز کی قیمت میں اضافے کو ملک و قوم کے ساتھ ’’زیادتی‘‘ قرار دیا جاتا۔ وہ ٹھیک کہتے تھے، کیوں کہ جب قوتِ خرید میں اضافہ نہ ہو اور قیمتوں میں اضافہ کیا جائے، اور ایسا کوئی بھی کرے، تو وہ ظالم ہی کہلائے گا۔
وہ تو اللہ بھلا کرے سوشل میڈیا کا کہ ہر بات ریکارڈ پر آجاتی ہے۔ ذہن سے اگر کچھ محو ہو بھی جائے، تو انگلیوں کی حرکت سے یادوں کی برسات شروع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اب جب محترم مولانا کی قیادت میں ’’پی ڈی ایم‘‘ کی حکومت نے تیل اور بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا، تو اب سوشل میڈیا پر ان کے پرانے بیانات وائرل ہو رہے ہیں۔ بقولِ شاعر
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
وہ مسلم لیگ ن کے راہنما خواجہ آصف نے اسمبلی میں جو کہا تھا کہ ’’کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا ہوتی ہے‘‘ وہ والا معاملہ اب نہیں رہا۔ اب ’’شرم‘‘ ہوتی ہے نہ ’’حیا‘‘۔ کیوں کہ کس کو نہیں یاد کہ اگر ایک طرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے ’’مہنگائی مکاو مارچ‘‘ کا سلسلہ چلایا تھا، تو دوسری طرف مولانا ہر روز مہنگائی پر حکومت کو لتاڑتے تھے۔ اب جب سے یہ ’’تجربہ کار‘‘ حکومت میں آئے ہیں، تو قوم کو ایسے جھٹکے دیے جا رہے ہیں کہ پہلے کبھی دیکھے، سنے اور محسوس تک نہ کیے گئے تھے۔
مَیں اُن لوگوں میں سے تھا جن کا کہنا تھا کہ اگر عمران نااہل ہے، تو پھر بھی جمہوری روایات کے تحت ان کو پانچ سال مکمل کرنے دیے جائیں۔ اگر ایسا ہوجاتا، تو اپنی کارکردگی کی بنیاد پر شاید وہ اگلے عام انتخابات میں دس نشستیں بھی جیتنے میں کامیاب نہ ہوپاتا، مگر اقتدار کے پجاری باالفاظِ دیگر ’’تجربہ کار‘‘ سیاست دانوں نے کب ماننا تھا۔ البتہ جب عمران گئے، تو حالات ایسے تبدیل ہوگئے کہ لوگوں کو وہی نااہل عمران مسیحا نظر آنے لگا۔ ان کی حکومت جیسی بھی تھی، کورونا وبا سر پر تھی، ان کی اور کابینہ کی ناتجربہ کاری تھی…… چاہے وجوہات جو بھی تھیں، مگر مہنگائی آج کے مقابلے میں کم ہی تھی۔ لوڈ شیڈنگ تقریباً ختم ہوچکی تھی۔ نظام سست سہی، مگر روں دواں تھا۔ معیشت کم زور سہی…… چل تو رہی تھی۔
اور اب کیا ہے……!
نئی حکومت کو قایم ہوئے دو مہینے نہیں گزرے کہ تیل کی قیمتوں میں 60 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ بجلی کے فی یونٹ میں 7 روپے (جس کی وجہ سے اب عام صارف کو فی یونٹ تقریباً 25 روپے میں پڑے گا)، خوردنی تیل کی قیمتوں میں 200 روپے فی کلو اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مگر اب بجٹ بھی آنے کو ہے…… جس سے مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
علاوہ ازیں دوست ممالک نے مزید قرض دینے سے فی الحال ہاتھ کھینچ رکھا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے بھی مزید قرض کے لیے شرم ناک قسم کی شرایط رکھ دی ہیں۔ لہٰذا نظام ڈانواں ڈول ہے۔ معیشت پر نظر رکھنے والے غیر ملکی ادارے نے ’’ملکی معاشی آؤٹ لُک‘‘ کو مثبت سے منفی کی طرف گام زن قرار دیا ہے۔ ملک کے اندر سیاسی عدمِ استحکام ہے۔ عوام کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے۔ ایسے میں آج کے حکم ران اگر اقتدار کے شوقین نہ ہوتے، تو فوراً انتخابات کراتے…… تاکہ تازہ مینڈیٹ کے ساتھ نئی حکومت بنتی اور فعال کردار ادا کرتی۔
ہائے افسوس…… مگر اس ہوس پر کہ جب آپ کا فرزندِ ارجمند وزیر بنا، تو اسلام بھی خطرے سے باہر ہوگیا اور مہنگائی بھی اب نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف جب ایک اور مہان سیاست دان کا بیٹا وزیرِ خارجہ بنا، تو معیشت مستحکم نظر آنا شروع ہوگئی۔ یہ کیسی سیاست ہے اور یہ کیسی عوام دوستی ہے؟
حرفِ آخر یہی ہے کہ موجودہ حکم ران جو خود کو ’’تجربہ کار‘‘ کہتے نہیں تھکتے…… بری طرح ناکام ہیں۔ کیوں کہ اگر تجربہ کاری یہی ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کرکے عام آدمی کی چمڑی ادھیڑ دی جائے، تو یہ کام سرکاری بابو لوگ بہ درجہا بہتر کرسکتے ہیں۔ پھر آپ کو وزارتیں لینے کی کیا ضرورت ہے……!
لیکن، خیر…… اب بات یہ ہے کہ چلو ایک منٹ کے لیے مان بھی لیتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں کا معاملہ عالمی منڈی سے نتھی ہے…… اور بجلی قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف کا دباو ہے۔ ٹھیک ہے…… لیکن کیا کوئی بتا سکتاہے کہ جہازی سائز کابینہ اور مشیروں کی فوج رکھنا کون سی مجبوری ہے؟ وزیروں، مشیروں اور اعلا سرکاری اہلکاروں کو مفت پیٹرول اور پرٹوکول دینے پر کس کا دباو ہے؟
ارے او تجربہ کارو……! اور کچھ نہیں کرسکتے، تو کم از کم سرکاری عہدیداروں کے مفت پیٹرول پر تو پابندی لگا دو……!
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔