موجودہ حالات میں وطنِ عزیز کے مختلف علاقے/ حصے شدید قلت آب سے بری طرح متاثر ہیں۔ بدقسمتی سے درختوں کی بے دریغ کٹائی، زرعی زمینوں اور جنگلات کے مسلسل خاتمہ سے موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں…… جس کے نتیجے میں بارشیں کم برستی ہیں اور پانی کے مختلف ذخایر خشک ہورہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں پانی کی شدید کمی ہے جب کہ بعض علاقوں میں تو یہ بالکل ناپید ہے۔ تھر اور چولستان کے صحرائی علاقوں میں شدید خشک سالی اور پانی کی عدم دست یابی سے انسان اور جانور پانی کے ایک ایک گھونٹ کو ترس رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پیاس سے جانور مررہے ہیں اور انسان ان علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ مناظر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے دنیا کو پیش کیے جارہے ہیں…… جو ساری دنیا خصوصاً ہمارے لیے درسِ عبرت ہے۔
قلتِ آب اور پانی کی عدم دستیابی اب ایک عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا کی اقوام کے درمیان لڑائی یعنی ’’تیسری عالمی جنگ‘‘ پانی پر ہوگی۔ غور کا مقام ہے کہ ایسے گھمبیر صورتِ حال میں اشیائے خوراک کی کم یابی اور قحط کے بھی قوی امکانات ہیں۔ لہٰذا یہ ہر شخص کی قومی، اخلاقی اور انسانی ذمے داری ہے کہ پانی کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لے۔
بہ حیثیتِ مسلمان ہمارا فرض ہے کہ اسلامی اُصولوں اور احکامات کی روشنی میں اس سنجیدہ مسئلے سے نمٹیں۔ اگر ہم اس عالمی مسئلے کا حل چاہتے ہیں، تو دوسرے مسایل کی طرح اس سنجیدہ مسئلے کا حل بھی قرآنی تعلیمات اور حضور خاتم النبیّنؐ کے فرامین میں ڈھونڈنا ہوگا۔
عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک موقع پر آنحضرتؐ، سعد بن ابی وقاصؓ کے قریب سے گزرے جو وضو کررہے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ سعدؓ! پانی کے استعمال میں اسراف سے بچو! اس پر سعد ؓ نے فرمایا، یا رسولؐ اللہ! کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا، جی ہاں! اگر تم بہتی نہر کے کنارے ہی وضو کررہے ہو۔
اگر ہم اس حدیث شریف پر عمل کریں گے، تو بے شک اپنے اس مسئلے کو ممکنہ حد تک حل کرسکتے ہیں۔ کیوں کہ اسراف ایک ایسی بیماری اور بری عادت ہے جو وافر سے وافر نعمت کو بھی وقت سے پہلے ختم کرتی ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۂ اعراف میں اللہ تعالا نے اسراف کرنے والوں کو شیطان کا بھائی کہا ہے۔ سرورِکائناتؐ نے ایک موقع پر پانی کے اسراف کرنے والے کو اُمت کا بدترین دشمن قرار دیا ہے۔ احتیاط اور اعتدال سے اگر کام لیا جائے، تو بڑی حد تک قلتِ آب کے اندیشے دور ہوسکتے ہیں۔
سورۂ انبیا میں اللہ تعالا فرماتا ہے کہ ’’جن نعمتوں میں تم عیش کرتے ہو، ان کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا۔‘‘
ہم اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں کہ لوگ مختلف طریقوں سے نہایت بے دردی سے دھڑا دھڑ پانی ضایع کررہے ہیں۔ کیوں کہ ان کے پاس اللہ کی یہ عظیم نعمت وافر مقدار میں موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اس نعمت کی قدر و قیمت سے بے خبر ہیں۔ اس کی قدر اُن سے پوچھیں جہاں یہ نعمت نایاب ہو اور موجود نہ ہو۔
پانی کو ’’نیلا سونا‘‘ (Blue Gold) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ صرف آکسیجن اور ہائیڈرو جن سے مرکب عنصر نہیں بلکہ خالقِ کاینات کی قدرت کاملہ کا مظہر بھی ہے، جب سمندر سے بخارات اُوپر اُٹھ کر بادل کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور ٹھنڈے ہوکر قطرے بن جاتے ہیں اور پھر اللہ تعالا بارش کی شکل میں انہیں ہم پر برساتا ہے، روئے زمین پر تمام جان داروں کی زندگی اس کی مرہونِ منت ہے۔ اس بارے اللہ تعالا قرآن کریم میں بھی فرماتا ہے کہ ’’ہم نے آسمان سے پانی برسایا اور اس سے ہر شے کو زندہ کیا۔‘‘لہٰذا بلا شبہ پانی زندگی ہے۔
آنحضرتؐ نے اللہ تعالا سے دعا کرتے ہوئے فرمایا: ’’اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں، نعمت کے زوال سے، عافیت کے پھرجانے سے، تیری اچانک پکڑ اور ناراضی سے۔‘‘
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔