جب سے وزیرِاعظم محترم میاں محمد شہباز شریف نے اپنے ایک ٹیلی وِژن انٹرویو میں ’’بگر کین ناٹ بھی چوزر‘‘ (Beggars Can’t be Choosers) کہا، تب سے لوگوں کو…… خاص کر ان کے سیاسی حریف سابق وزیر اعظم جناب عمران خان کو ان پر سیاسی تنقید کرنے کا ایک بہت ہی جذباتی ہتھیار کے ساتھ موقع میسر آگیا۔ اب محترم خان صاحب اپنے ہر انٹرویو، ہر تقریر، ہر جلسہ میں اس کو تواتر سے دھراتے ہیں۔
اس بات کو ابھی زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ وزیرِ دفاع خواجہ آصف صاحب نے یہ کہہ دیا کہ ’’امریکہ کی مخالفت کرنا آسان نہیں…… بلکہ ہم جس نازک حالت میں ہیں، تو اس وقت ہمیں ایک وینٹی لیٹر یعنی زندگی بچانے کی آخری مشین کہ جو مصنوعی آکسیجن دیتی ہے، کی شدید ضرورت ہے…… اور وہ وینٹی لیٹر بس امریکہ ہی مہیا کرتا ہے۔‘‘
وزیرِ دفاع کا یہ بیان بھی سیاسی طور پر بہت متنازع بن گیا۔ ہم درجِ بالا دونوں بیانات کے سیاسی اثرات پر بحث نہیں کرتے…… لیکن یہ ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ ہماری قوم کی اکثریت ہر بات کو غیر ضروری طور پر جذباتی لیتی ہے…… اور نہایت ہی انکسار کے ساتھ معافی مانگتے ہوئے یہ سچائی بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے یہ جذبات بھی بہت دوغلے ہیں۔
یعنی ہمیں امریکہ مخالف بیانیہ تو بہت اچھا لگتا ہے…… یا ہم کم از کم ظاہر یہی کرتے ہیں…… لیکن ہمیں اگر امریکہ کا ویزہ ملے، یا امریکہ کے ساتھ ہمارے ذاتی مفادات ہوں…… خواہ وہ سیاسی ہوں یا معاشی، تو تب ہمارا رویہ جذباتی نہیں بلکہ بہت حقیقی ہوجاتا ہے۔ امریکی ویزہ کے لیے ہم ہر کام کر گزرتے ہیں…… لیکن ظاہر یوں کرتے ہیں کہ بہت امریکہ مخالف ہیں۔ بہرحال ہم اس نفرت کو بے شک جذباتی تناظر میں ہو، اگر بالفرض حقیقی معنوں میں غلط یا صحیح تسلیم بھی کرلیں، تب بھی ہم کو حقایق کا باریک بینی سے جایزہ لینا ہوگا…… اور یہ سوچنا ہوگا کہ کیا امریکہ سے ہماری نفرت برحق ہے؟ اگر برحق نہ بھی ہو، تو تب بھی کیا اس کا ذمے دار براہِ راست امریکہ ہے؟
ہمارے خیال میں ہماری قوم کی اکثریت اس بارے بالکل غلط، غیر حقیقی بلکہ سو فی صد جھوٹ پر مبنی بیانیہ رکھتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں بیانیے یعنی ’’امریکہ ہمارا دشمن ہے۔‘‘ اور ’’ہم بالکل بھکاری نہیں۔‘‘ سو فی صد غلط ہیں۔
آئیں، جذبات سے ہٹ کر ذرا مذکورہ دونوں نکتوں پر حقایق کی عینک پہن کر بحث کریں۔
٭ ’’امریکہ ہمارا دشمن ہے۔‘‘
اس پر یقین کرنے سے پہلے ہمیں بہرحال اس کی وجوہات بھی جاننا ہوں گی۔ کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک سے ان وجوہات کی بنیاد پر دشمنی کرتا ہے کہ متعلقہ ملک اس کے لیے جغرافیائی یا معاشی طور پر خطرہ بن رہا ہو۔ اب اس سے بڑھ کر اور کیا مذاق ہو سکتا ہے کہ ہمارے عوام کی ایک معقول اکثریت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ’’امریکہ ہم کو خطرہ سمجھتا ہے۔‘‘ وہ ملک کہ جس کی مکمل معیشت کا انحصار امریکہ، امریکہ کے اداروں اور امریکہ کے اتحادیوں پر ہے، وہ جب چاہیں آپ کی برآمدات اور قرضوں کو روک کر آپ کو تباہ کر سکتے ہیں، اور تو چھوڑیں آپ کی دفاعی ضروریات براہِ راست ان سے وابستہ ہیں، تو ان کے لیے آپ کی حیثیت بس ایک ’’محتاج‘‘ کی ہے اور محتاج قوموں کے خلاف کوئی سازش کیوں کرے گا؟
٭ ’’کیا ہم بھکاری ہیں۔‘‘
ذرا بھکاری کی تعریف تو دیکھیں۔ معذرت کے ساتھ ہم اپنی ابتدا سے لے کر اب تک بھکاری تھے، بھکاری ہیں اور شاید بھکاری ہی رہیں گے۔ مَیں اس کی وجوہات یا ذمے داران پر بات نہیں کرتا…… لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہم نے اول ہی دن سے ملک کے داخلی معاملات پر توجہ نہ دی…… اور ’’ڈنگ ٹپاؤ پالیسی‘‘ اختیار کر رکھی۔ سیاسی استحکام بننے نہ دیا۔ معاشرتی نظام پنپنے نہ دیا۔ آمرانہ دور جاری رکھا اور سماجی فیبرک چکنا چور کر دیا۔
یہ بات بطورِ نعرہ بہت خوش کن ہے کہ ’’کیا ہم بھکاری ہیں؟‘‘ ہم ایک خود دار قوم ہیں…… اور خود داری کا ثبوت یہ ہے کہ کئی دنوں تک ہمارے قیمتی جنگلات میں آگ لگی رہی…… چلغوزے اور زیتون کے قیمتی باغات تباہ ہوگئے…… لیکن ہم اس کو بجھا نہ سکے۔ اس کی مدد کے لیے جو واحد جہاز استعمال ہوا، وہ بھی پڑوسی ملک ایران نے بھیجا۔ یہاں زندگی بچانے والی ادویہ تک کے لیے ہم ان کے محتاج ہیں۔ ’’سوئی‘‘ تک تو ہم چین سے برآمد کرتے ہیں۔ ایک زرعی ملک ہونے کے باجود بھی خوراک کے لیے ہم اغیار کے محتاج ہیں۔ محض درآمدات و برآمدات کا بیلنس قایم رکھنے کے لیے ہم دوسروں کی منتیں کرتے ہیں کہ خدا کا واسطہ بس چند ارب ڈالر ہمارے اکاونٹ میں رکھ دیں اور اس بات پر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ ’’ہم کو بھکاری مت بولو!‘‘ یا تو پھر آج سے قوم یہ عہد کرلے کہ ہم نے کسی صورت کسی ملک سے مدد نہیں مانگنی…… قرض نہیں لینا…… خواہ بھوکے مر جائیں۔ پھر بھی کوئی جواز بنتا ہے۔
اب شہباز شریف نے جو بات کی کہ ’’بھکاری چناؤ نہیں کرسکتے‘‘ اس کے سیاسی اثرات کچھ بھی ہوں…… لیکن یہ بات اپنی اصل میں سو فی صد درست ہے۔ ایک بھکاری یہ حق قطعی نہیں رکھتا کہ وہ پیسے اور روٹی دینے والے کا چناو خود کرے، یا یہ فیصلہ کرے کہ اس کو بھیک دینے والے کس انداز سے دیں۔ حتی کہ وہ یہ فیصلہ بھی نہیں کرسکتا کہ وہ خیرات دینے والے کی بات نہ مانے…… چہ جائیکہ وہ اپنی بات منوانے کی کوشش کرے۔ ہاں! اگر خودی کا بہت جذبہ ہے…… اور بھیک کی ذلت ناقابلِ برداشت ہے، تو آجاؤ میدان میں…… ہمت کرو!
ماضیِ قریب کی دو واضح مثالیں تو سامنے ہیں۔ ایک چین کی اور دوسرا جاپان کی۔ چین میں انقلاب کے بعد ماؤزے تنگ نے اول دن یہ فیصلہ کیا تھا کہ بے شک چین کے بچے بھوک سے تڑپ تڑپ کر مر جائیں…… لیکن وہ بیرونِ ملک سے گندم یا چاول کا ایک دانہ خواہ قیمت دے کر برآمدات کی شکل میں ہوں، خواہ قرض کی شکل میں ہو یا پھر محض امداد مطلب بھیک ہو…… چین میں نہیں لاؤں گا……! اور پھر دنیا نے دیکھا کہ چند سالوں میں چین کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
دوسری مثال جاپان کی ملاحظہ ہو۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان نے جرمنی کا ساتھ دیا اور جواباً امریکیوں نے ایٹم بم مار کر جاپان کو تباہ کر دیا۔ اس تباہ شدہ جاپان کے بادشاہ نے دنیا بھر میں موجود جاپانیوں سے اپیل کی کہ عظیم جاپان کو تمھاری ضرورت ہے۔ اپنے ملک کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے تیار ہو جاؤ……! آپ کو یہ تاریخی حقیقت جان کر حیرت ہوگی کہ محض چند دنوں میں جاپان کی آبادی میں اضافہ ہوگیا۔ کیوں کہ بیرونِ ملک مقیم جاپانیوں کی اکثریت اپنی لگی ہوئی خوش حال نوکریوں اور کاروبار چھوڑ کر واپس پہنچ گئے۔ پھر جاپانی روایت کے مطابق، جاودانی آسمان نے دیکھا کہ جاپان ہفتوں میں کھڑا ہوگیا اور محض دس سال میں دینے والا ملک بن گیا…… اور اگلی ایک دو دہائیوں میں امریکہ کو اپنا مقروض بناگیا۔
لیکن اپنے گریبان میں تو ذرا جھانکیں۔ حکم ران ایلیٹ کو تو ایک طرف رکھیں، عام عوام کا رویہ کتنا حب الوطنی پر مبنی ہے…… ان کا ذاتی کردار کیا ہے؟ جن سے بغاوت کا منترہ بیچا جاتا ہے…… جن کی غلامی کا انکار کیا جاتا ہے…… وہاں جانے کے لیے تو آپ مرے جاتے ہیں۔ راتوں کو جان کا رسک لے کر کشتیوں میں سفر کرتے ہیں…… اور غیرت کا معیار یہ ہے کہ کتنے واقعات ایسے ہوئے کہ سگی بہن کو بیوی بنا کر یاسگے بھائی کو شوہر بنا کر وہاں لے جانے کی کوشش کی گئی۔ امریکی سال میں کبھی ویزہ لاٹری کا اجرا کرتے ہیں، تو اگر آپ کا کوٹا دو ہزار کا ہے، تو آپ کی طرف سے کروڑوں درخواستیں جمع ہو جاتی ہیں۔ وہاں سیاسی پناہ یا قومیت لینے کے لیے جھوٹے حلف نامے جمع کرواتے ہیں اور نعرے ملاحظہ ہوں: ’’کیا ہم بھکاری ہیں؟‘‘
میرے پیارے پاکستانیو! آپ کو برا لگے یا اچھا…… لیکن آپ بھکاری ہیں، حقیقت یہی ہے۔ اور یہ بات ہماری قوم کی اکثریت کو معلوم ہے۔ اگر حقیقت کا اظہار وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کسی ٹی وی انٹرویو میں کر دیا، توکوئی قیامت نہیں آگئی۔
اسی طرح جو بات وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی ہے…… وہ بھی غلط بالکل نہیں۔ ہم بالکل ’’وینٹی لیٹر‘‘ پر ہیں۔ اور آج اگر امریکہ، ورلڈ بنک آئی، ایم ایف حتی کہ عربوں کو آپ سے تعاون کرنے سے روک دے، تو بے شک آپ کی معیشت اس حد تک تباہ ہو جائے کہ سانس بند ہو جائے۔ مَیں پھر یہی کہوں گا کہ اس وینٹی لیٹر سے محض نعرے مار کر، منافقت کر کے اور سیاسی بیانیہ بنا کر آپ نکل نہیں سکتے…… بلکہ اس کا ایک ہی حل ہے…… جو چین اور جاپان نے آپ کو کر کے بتا دیا ہے۔ اگر آپ وہ نہیں کریں گے، تو بے شک اگلے ہزار سال تک خود سے ہی خود داری، آزادی اور عزتِ نفس کے نعرے مارتے رہیں۔ آپ اس وینٹی لیٹر کو لگائے بھکاری کے بھکاری ہی رہیں گے۔ حقیقت یہی ہے۔ البتہ آپ بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرنے والے کبوتر کی طرح خود فریبی کا شکار ہو سکتے ہیں اور اسی خود فریبی میں اگر خوش ہیں، تو رہیں۔
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔