ہم جب پرائمری میں پڑھتے تھے، تو یہ سابقہ ریاستی دور تھا۔ اُس وقت ہمیں سیاست کی کوئی شدبد نہیں تھی۔ 1969ء میں ادغامِ ریاست کے بعد یہاں سوات میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ اس سے پہلے 1966-67ء میں ہم نے ایک شخص (سیاست دان) کا نام سنا تھا…… یہ تھا سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) جو سابق صدر ایوب خان (مرحوم) کے ساتھ کچھ سیاسی اختلافات کی بنا پر وزارتِ خارجہ سے استعفا دے کر سابق صدر کے خلاف سیاسی تحریک چلا رہا تھا۔ بھٹو (مرحوم) پاکستان پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے سیاست میں متحرک تھا۔ یہ سیاسی شرافت اور شایستگی کا ایک عمدہ زمانہ تھا۔ سیاست میں ایک دوسرے پرذاتی حملوں اور گالم گلوچ اور آج کل کی طرح تعصب اور تشدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ایوب خان (مرحوم) شریف انسان تھا۔ صدارت سے استعفا دے کر خاموشی سے باقی زندگی بسر کی۔ 1970ء کے الیکشن (جنرل) کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی۔ بھٹو (مرحوم) پاکستان کے حکم ران بن گیا۔ اگرچہ اس وقت حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے درمیان چپقلش جاری تھی…… لیکن اُس وقت کے سیاست دانوں نے شرافت اور رواداری کا دامن ہاتھ سے جانے نہ دیا۔
اُس وقت کے سیاسی رہنماؤں میں خان عبدالولی خان، مولانا مودودی، مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی، نواب اکبر بگٹی، خان قیوم اور پیرپگاڑا وغیرہ شامل تھے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ بھٹو کے خلاف ’’پاکستان نیشنل الائنس‘‘ کے بینر تلے تحریک شروع ہوئی، لیکن اس وقت بھی آج کل کی طرح گالم گلوچ، غیر رواداری اور سیاسی تعصب کا رواج نہیں تھا۔ اس تحریک کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق (مرحوم) برسرِ اقتدار آئے۔ ہمارے مشاہدے کے مطابق جنرل ضیاء الحق سے لے کر جنرل مشرف کے اقتدار تک سیاست میں رواداری، برداشت اور شایستگی کم از کم موجود تھی لیکن بدقسمتی سے 2011ء سے ہماری قومی سیاست نے پلٹا کھایا اور سیاست سے بتدریج رواداری اور شایستگی کا خاتمہ ہوتا رہا۔
اس نئے دور کی سیاست اور اس کے علم برداروں نے عوام کے دلوں میں نفرت اور بغض کو ایسا بڑھکایا کہ الامان و الحفیظ۔ گاؤں، شہر، محلہ یہاں تک کہ گھر میں بھائی، بھائی سے لڑنے بلکہ مارنے پر تلا ہوا ہے…… اور بقولِ شاعر
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوایف تماش بینوں میں
ساری قوم گروہوں اور گروپوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کو جان سے مارنے پر تیار بیٹھی ہے۔ تلخ لہجے اور جارحانہ سیاسی رویے نے قومی یک جہتی کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا۔ وقت اور حالات کا تقاضا تھا کہ زمانے کی نئی روش کے پیشِ نظر ہم ایک مہذب، رودار اور جمہوریت پسند قوم بن جاتے…… لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ہم سیاسی فیلڈ میں مزاحمت، فسطائیت اور دست درازی پر اُتر آئے…… یہاں تک کہ ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھال کر مسجد و منبر کی بے احترامی کرنے لگے۔ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہاں پر درودِ پاک بھی تیز آواز میں پڑھنے کی ممانعت ہے…… ہماری پھوہڑپن، ضد، انا اور جہالت نے وہ گل کھلائے کہ ہم دنیا کو آنکھیں دکھانے کے قابل نہ رہے۔ مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ اجتماعی شعور اور عدم برداشت سے تہی ہے۔ لڑائی، مارکٹائی، جارحیت اور محاذ آرائی ہمارا وطیرہ بن چکا ہے اور ہم احساسِ زیاں سے بے نیاز ہوکر اجتماعی خودکشی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
غور کا مقام ہے کہ ان ہی حالات میں اگر ہم اب بھی نہ سنبھلے اور اپنے رویوں میں تبدیلی نہ لائی، تو زمانہ ہمیں ایسے مٹا دے گا کہ ہمارا نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤگے ’’اے پاکستاں‘‘ والو !
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔