رواں سال مئی سے ہی شدیدگرمی ستم ڈھا رہی ہے۔ شدید ترین گرم موسم میں نقصانات سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ بڑے افراد تو اپنا خیال خود رکھ کر موسم کی شدت سے کسی حد تک بچ سکتے ہیں، ایسے میں بچوں کا خیال رکھنا ازحد ضروری ہے۔
بلاشبہ بچے قدرت کی اَن مول نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہیں۔ یہ قدرت کا وہ بیش بہا عطیہ ہیں…… جن کے دم سے ہماری زندگیاں مسکراتی ہیں۔ بچے پھولوں کی مانند نازک ہوتے ہیں…… جس طرح پھولوں کی صحیح طریقے سے نشو و نما نہ کی جائے، تو وہ مرجھانے لگتے ہیں…… ٹھیک اسی طرح بچے بھی نگہداشت اور توجہ کے طالب ہوتے ہیں۔
بچے سب کو ہی اچھے لگتے ہیں…… لیکن کچھ بچے اپنے والدین کی آنکھ کا تارا ہوتے ہیں…… جس طرح والدین اپنے بچوں کی دیکھ بھال کر سکتے ہیں…… کوئی اور نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما آتے ہی جہاں مائیں اپنے لیے ملبوسات اور دیگر چیزوں کا موسم کے لحاظ سے انتخاب کرتی ہیں…… وہیں وہ اپنے بچوں کو موسمِ گرما کی شدت سے بچانے کے لیے مناسب ملبوسات، ’’پریکلی ہیٹ پاؤڈر‘‘ اور دیگر ضروری چیزوں کا انتظام کرتی ہیں۔
ماہرینِ صحت کے مطابق گرمیوں میں بچوں کو روزانہ نہلانا چاہیے۔ اگر بچوں کو گرمی دانے نکل آئے ہیں، تو پھر نہلانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ گرمیوں میں گرمی دانے خاص طور پر تکلیف کا باعث بنتے ہیں؛ انہیں انگریزی میں ’’ پریکلی ہیٹ’’ کہا جاتا ہے…… اور ٹھیک ہی کہا جاتا ہے۔’’پریکلی‘‘ یعنی کانٹا، کانٹے چھونا، جسم پر گرمی دانے نکل آئیں، تو ایسے لگتا ہے کہ جسم پر کانٹے اُگ آئے ہیں…… یا کانٹے چبھوئے جا رہے ہیں۔ بچے ایسی صورتِ حال میں بہت زیادہ گھبراہٹ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ ان دانوں میں شدید خارش ہوتی ہے۔
گرمی دانے عام طور پر اسی وقت زیادہ نکلتے ہیں…… جب موسم گرما ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا میں نمی کا تناسب بھی بڑھ جائے۔ یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمیں گرمی لگے، تو ہمارا جسم ہمیں ٹھنڈک پہنچانے کی غرض سے پسینا خارج کرتا ہے۔ پسینے کے غدود ہماری جلد کے نیچے واقع ہوتے ہیں۔ ان غدود سے پسینا تنگ نالیوں کے ذریعے ہماری جلد تک پہنچتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ نالیاں بند ہو جائیں، تو پسینے کے غدود سے پسینہ بہہ کر جلد تک نہیں پہنچ پاتا…… اور راستے ہی میں اَٹکا رہ جاتا ہے۔ پھر یہ پسینا بطورِ احتجاج گرمی دانوں کی شکل میں جلد پر اُبھر آتا ہے۔
اگر پسینا جلد کے بالکل نیچے رکا ہوا ہو، تو جلد پر ایسے چھوٹے چھوٹے دانے نمودار ہوجاتے ہیں…… گویا شبنم کے قطرے ہوں۔ اگر پسینا جلد کے نیچے قدرے گہرائی میں رکا رِہ جائے، تو جلد پر لاتعداد سرخ دانے نکل آتے ہیں…… جن میں شدید خارش یا چبھن ہوتی ہے۔
بچوں کو ان گرمی دانوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو…… شدید گرمی سے انہیں بچائیں۔ دھوپ میں براہِ راست انہیں لے جانے سے گریز کریں…… اور اگر انہیں لے کر جانا ہی پڑے، تو دھوپ سے بچاؤ کا سامان مثلاً دھوپ کے نقصان دہ اثرات سے بچانے والے لوشن وغیرہ، چھتری یا سایہ دار کپڑے کا اہتمام ضرور کریں۔ اگر بچوں کے دانے ہوں، تو انہیں روزانہ نہلا کر ’’پریکلی ہیٹ پاؤڈر‘‘ لگائیں…… اورانہیں جہاں تک ممکن ہو کھلی ہوا دار اور ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔
گرمیوں میں پسینا آنا ایک فطری بات ہے۔ پسینے کی حالت میں کبھی بچے کو نہ نہلائیں…… اور نہ پسینا خشک کیے بغیر پنکھے کے نیچے ہی بٹھائیں۔ پسینا تولیے یا رومال سے خشک کریں…… اور پھر بچے کو نہلائیں۔ نہلانے کے بعد پنکھے کی تیز ہوا بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ لہٰذا پنکھے کی زیادہ تیزہوا سے بچے کو بچائیں…… اور قدرتی ہوا کا معقول انتظام کریں…… جیسے کھڑکی وغیرہ کھول لیں ۔
گرمیوں میں بچے کو وقفے وقفے سے پانی پلائیں…… تاکہ اس کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے…… جو کہ پسینے کی صورت میں خارج ہوتی رہتی ہے۔
ماہرینِ صحت کی درجِ بالا ہدایات اور ان معمولی اقدامات سے ہم اپنے پھول جیسے بچوں کی بہتر دیکھ بھال کر سکتے ہیں۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔