تحریر: الحاج زاہد خان
(صدر آل سوات ہوٹل ایسوسی ایشن) 

قارئین! کوئی بھی باشعور فرد کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی مخالفت نہیں کر سکتا لیکن جو منصوبہ عوام کے مشورے اور بہتر طریقے سے عوام کو کم سے کم نقصان کو مدنظر رکھ کر بنایا جائے…… اور تمام منفی عوامل کے اثرات کو زایل کرکے بنایا جائے، تو وہ دیرپا ترقی کا سبب بنتاہے۔
سوات موٹر وے کے موجودہ یا مجوزہ نقشے پر اہلِ سوات کو اعتراض اور تشویش کیوں ہے؟ اس کا دو تین الفاظ میں سادہ سا جواب ہے: ’’زرعی زمینوں کا خاتمہ۔‘‘ سوات تقریباً 18 لاکھ کنال اراضی پر مشتمل ہے…… جس میں آدھا حصہ پہاڑ یا بنجر زمین پر مشتمل ہے۔ باقی 9 لاکھ بیشتر آبادیوں پر مشتمل ہے…… اور زیرِ کاشت رقبہ قلیل ہے…… جو کہ مقامی آبادی کی غذائی ضروریات بھی پورا نہیں کرسکتا۔
اس طرح سوات میں بے روزگاری کی شرح زیادہ ہے اور آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ باہر سے بھی لوگ یہاں کے باشندوں کے اخلاص کی وجہ سے دھڑ ادھڑ آکر آباد ہو رہے ہیں۔ مذکورہ قلیل اراضی میں محنت کرکے زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ چوں کہ آج اقتصاد کا دور ہے، تو نقد اور حاصلات کے لیے بیشتر زمینوں پر باغات لگائے گئے ہیں۔ پہلے سیب لگایا گیا، جو موسمی تغیر کی وجہ سے ختم ہوا۔ اب آڑو، چیری، خوبانی اور الوچہ کے باغات لگائے گئے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق زرعی اراضی کا ایک بڑا حصہ سوات موٹر وے منصوبے کی نذر کیا جا رہا ہے۔ اس طرح تقریباً پانچ لاکھ تک درخت کاٹے جائیں گے۔ ایک لاکھ تک مزدور جو ان اراضیات میں کاشت کار ہیں، ٹریکٹر چلاتے ہیں، فصلیں کاٹتے ہیں، باغوں سے پھل اتارتے ہیں، کریٹوں میں بند کرنے والے، ٹرانسپورٹ والے، زرعی ادویہ والے، کھاد والے اور عام مزدور سب متاثر ہوں گے۔ اس طرح ماحولیاتی تبدیلی جس کے تباہ کن اثرات کا ہمیں سا منا ہے، میں مزید اضافہ ہوگا۔ چوں کہ یہ سڑک آبادیوں کے درمیان بن رہی ہے، تو گاڑیوں سے گیسوں کا اخراج اور ’’نائز پلوشن‘‘ سے مقامی آبادی کو صحت کے خطرناک مسایل کا سامنا ہوگا۔
اب تک اس منصوبے کی انوائر منٹل سٹڈی اور فیزیبلیٹی رپورٹ تک نہیں بنی…… جو کہ انوائر منٹل ایکٹ 2012ء اور بین الاقوامی کلائمٹ چینج قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس طرح یہ بورڈ آف ریونیو کی نوٹیفیکیشن 2020ء اور حکومت کے اپنے ہی بنائے گئے قانون ’’لینڈ پروٹیکشن ایکٹ 2021ء‘‘ کی صریحاً خلاف ورزی ہے…… یعنی یہ موٹر وے قانون کے مطابق بن ہی نہیں سکتی۔
موجودہ نقشے کے متعلق ایک بودی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہم اس کو 2010ء میں آنے والے سیلاب کی حدود سے دور بنا رہے ہیں۔ اب آتے ہیں کہ جب یہ سڑک جو 20 فٹ اونچی ہوگی اور اس کے ذریعے جو بلاکیج آئے گی، تو کیا سیلاب آنے کی صورت میں پانی کا بہاؤ اپنا راستہ تبدیل کرکے سڑک کے پیچھے زمینوں اور آبادی کی طرف نہیں مڑے گا؟ کیا یہ ایک اور انسانی المیہ رونما نہیں ہوگا؟ سوات جو پہلے ہی زلزلوں، دہشت گردی، ملٹری آپریشنوں اور سیلاب جیسی آفتوں سے متاثر اور برباد ہوچکا ہے…… کو پھر سے اس دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے؟
یہ منصوبہ پچاس ارب کے قریب ہے اور اس کے نقصانات چھے سو ارب سے زیادہ ہیں۔ یہ نقصانات بے روزگاری، زرعی ملکیت کی تباہی اور اقتصادی طور پر لوگوں کی تباہی کی صورت میں ہیں۔
زرعی زمینوں اور آبادی کے درمیان سڑک گزرنے سے (جو 20 فٹ بلند ہوگی) اہلِ سوات کا معاشرتی میل جول ختم ہوکر رہ جائے گا۔ دوسری طرف رہ جانے والی زمینوں تک آسان رسائی ختم ہو جائے گی۔ آب پاشی کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ زمینوں تک پہنچنے کے لیے لمبا راستہ اختیار کیا جائے گا، جو دس تا بیس کلومیٹر ہوگا ۔
اس منصوبے میں کم از کم 9 پل تعمیر ہوں گے اور موٹر وے کی لمبائی ’’زِگ زیگ‘‘ شکل میں ہونے کی وجہ سے بھی زیادہ ہوگی۔ اس کے مقابلے میں ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ کا بنایا گیا نقشہ جس کی قابلِ عمل رپورٹ بن چکی ہے…… کی لمبائی 8 کلومیٹر کم ہے۔ کیوں کہ اس میں ’’یو ٹرن‘‘ نہیں اور پلوں کی تعداد بھی تین ہے۔ اس میں جو موڑ دیا گیا ہے، وہ پل میں دیا گیا ہے، تو اس طرح اس کی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ ایک پل اوسط چار ارب روپے میں بنتا ہے، تو چھے پل کم ہونے سے 24 ارب لاگت کم ہو جائے گی۔ 8 کلومیٹر فاصلہ کم ہونے سے وقت کی بچت کے ساتھ چار ارب روپے کی بچت ہوگی۔
ٹوورازم کے نقطۂ نظر سے ایک بہتر ماحول دریائے سوات کے کنارے میسر ہوگا۔ جگہ جگہ ریسٹورنٹ بننے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ سیلاب سے زرعی اراضی کا کٹاؤ رک جائے گا اور جو آبادیاں دریائے سوات کے کنارے ہیں، وہ سیلاب سے محفوظ ہوجائیں گی۔
موجودہ سڑک حکومت یا پبلک پراپرٹی نہیں ہوگی…… بلکہ پرائیویٹ فرم کی ملکیت ہوگی۔ کیوں کہ حکومت صرف پانچ ارب روپے دے گی۔ بقایا رقم (39 ارب) فرم کے ذمے ہوگی…… جس کے بدلے سڑک اس کی ملکیت ہوجائے گی اور یوں فرم کی مرضی کا ٹیکس وصول ہوگا۔
مبینہ طور پر کہا جا رہاہے کہ فرم کی انتظامیہ کی طرف سے ایک اہم شخص کے لیے گبین جبہ میں چیئر لفٹ بنا کر تحفہ میں دیا جائے گا…… اور اس کمپنی کو فایدہ پہنچانے کے لیے ایری گیشن ڈیپارٹمنٹ کا قابلِ عمل نقشہ جس کے کئی فایدے ہیں، مسترد کرکے عوام کے معاشی قتل کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے…… جو صرف اراضی مالکان کی نہیں بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز اور سوات کی مجموعی معیشت کو داو پر لگانے کا منصوبہ ہے۔ اسے کسی طرح قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اگر حکومت نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی نہیں کی، تو نہ صرف آئین بلکہ ملکی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے…… اور سٹے کی صورت میں کئی سالوں تک منصوبہ لٹک سکتا ہے…… جس سے بعد میں منصوبے کے اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ صوبہ پہلے ہی بین الاقوامی اداروں کا چھے سو ارب ڈالر مقروض ہے۔ لہٰذا حکومت ذاتی مفاد کی بجائے قومی مفاد کو ترجیح دے اور زرعی زمینوں پر موٹر وے بنانے کی بجائے دریائے سوات کے کنارے قابلِ قبول نقشے کے مطابق اسے بنانے کی منظوری دے۔
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔