25 total views, 1 views today

ہر سال مئی کی دوسری اتوار کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماں کا عالمی دن بڑے ذوق و شوق سے منایا جاتا ہے۔ سال کے 365 دنوں میں سے صرف ایک دن ماں کے لیے منانا، ممتا جیسی ہستی اور اس حسین رشتے کے لیے بہت ہی ناکافی ہے۔
یقینا ماں وہ ہستی ہے کہ جس کی محبت میں کوئی ریاکاری، کوئی تصنع، کوئی بناوٹ اور کوئی دکھاوا نہیں۔ ماں جو اپنی اولاد کی رازداں ہوتی ہے…… ان کے دلوں کے بھید جانتی ہے…… ان کی خوبیوں کو اجاگر کرتی ہے…… ان کی خامیوں، ان کی کوتاہیوں، کمیوں، کجیوں کی پردہ پوشی کرتی ہے۔ محض اس لیے کہ اولاد کی دل آزاری نہ ہو۔ جو اولاد کی خوشی میں خوش، ان کے غم میں ان کی دل جوئی کرتی ہے۔ گرنے لگتا ہے، تو تھام لیتی ہے۔ اولاد کی کامیابی پر خوشی سے نہال اور ناکامی پر دل گرفتہ ہوجاتی ہے۔
اللہ تعالا تو خالقِ کائنات ہے۔ وہ سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ خالقِ دو جہاں کے بعد ماں ہی وہ واحد ہستی ہے جو لایق، نالایق، صالح، بداعمال اور اپنے سارے جگر گوشوں کے ساتھ یکساں پیار کرتی ہے۔ وہ اپنی اولاد سے پیار اس کی ڈگری، منصب، اہلیت کی بنیاد پر نہیں…… اس کا میرٹ صرف اور صرف اس کی کوکھ سے جنم لینے والا بچہ ہے۔
ہاں! کبھی کبھار کسی ایک بچے کو اپنی ہتھیلی کا چھالا بنالیتی ہے۔ اس کو نہیں جو سب سے زیادہ ذہین، فطین یا خوب روہو…… بلکہ اس کو جو کم زور ہو، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ چکا ہو۔ یہ وصف صرف اور صرف ماں کے رشتے میں ہے اور کسی میں نہیں۔
ماں…… جو سرد ترین راتوں میں سب سے آخر میں سوتی ہے۔ محض اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اس کے بچے پُرسکون نیند سو چکے یا نہیں!
ماں جو ٹھٹھرتی صبح میں سب سے پہلے، نیند پوری کیے بغیر جاگ اٹھتی ہے، تاکہ اولاد کو منھ ہاتھ دھونے کے لیے اور نہانے کے لیے گرم پانی مل سکے۔ ان کو استری یونیفارم اور چمکتے ہوئے پالش شدہ جوتے مل سکیں۔ وہ سکول جانے سے پہلے مقدور بھر ہر بچے کی جیب میں جیب خرچ کے چند روپے ڈال سکے۔ ایسا نہیں تو ان کو لنچ میں وقفے کے لیے کچھ کھانے کو ساتھ دے سکے۔ وہ اس لیے بھی صبح سب سے پہلے بیدار ہوتی ہے کہ دروازے پر کھڑے ہو کر سکول کے لیے رخصت ہوتے بچوں کی پیشانی چوم کر ان کو الوداع کرسکے۔
عالمی دن کے موقع پر کسی نے لکھا کہ ’’ماں کے احسان کا بدلہ کوئی نہیں چکا سکتا۔‘‘ اُس بندۂ خدا کو کیا معلوم کہ ماں کسی پر احسان نہیں کرتی…… ماں تو قربانی دیتی ہے…… ایثار کرتی ہے…… احسان کا کیا ہے…… اس کا بدلہ بڑا احسان کرکے اتارا جاسکتا ہے۔ اس طرح مہربانی کا حساب، اس سے بھی بڑی مہربانی کرکے چکایا جاسکتا ہے۔ ایثار اور قربانی کا کوئی بدلہ نہیں…… اس کا کوئی صلہ نہیں…… ماں کی مشقتوں سے پُر زندگی کے ایک لمحے کا بھی کوئی معاوضہ نہیں دے سکتا۔
قارئین! سال میں ایک دفعہ خصوصی دن منا کر، ایس ایم ایس کرکے، وش کارڈ بھجوا کر، ٹی وی چینل پر خصوصی پیکیج چلا کر یا کسی اخبار میں خصوصی ضمیمہ چھپوا کر تو بالکل ہی نہیں۔ کیوں کہ ماں جیسا کوئی نہیں، ایسا رشتہ کوئی نہیں۔
یہ ماں ہے جو بچوں کے رخصت ہونے کے بعد ان کی بکھری جوتیاں، اِدھر اُدھر پڑے کپڑے، زمین پر گری چادریں اور سلوٹوں سے بھرے بستروں کو درست کرتی ہے۔ کمرہ صاف کرتی ہے۔ ایسا کرتے ہوئے اس کے چہرے پر ناگواری کی شکن تک نہیں ہوتی…… بلکہ خوشی، وارفتگی اور محبت ہوتی ہے۔
یہ ماں ہے جو چلچلاتی دھوپ میں کھڑے ہو کر اپنے بچوں کا انتظار کرتی ہے۔ ان کو اپنے ہاتھوں سے نوالہ کھلاتی ہے۔ یہ صرف اور صرف ماں ہے جو سب سے آخر میں کھانا کھاتی ہے…… تاکہ اس کے بچے پیٹ بھر کر کھا سکیں۔ وہ محض اس لیے بچا کھچا کھاتی ہے کہ کہیں بچوں کو ان کی غربت اور کم مائیگی کا احساس نہ ہو۔ وہ محض اس لیے کم کھا کر، کبھی بھوکے پیٹ سو جاتی ہے کہ کہیں اولاد بھوکی نہ رہ جائے۔ یہ صرف ماں ہے…… جو بچے کی پہلی آواز، پہلی پکار پر لبیک کہتی ہے۔ دنیا میں ایسی کوئی ہستی نہیں۔ باپ، بہن، بھائی سمیت دنیا کا کوئی رشتہ بچوں کی بہترین پرورش کا کام احساسِ ذمے داری کے بغیر کر ہی نہیں سکتا…… لیکن ماں تو محبت ہے، گداز ہے، نرم ہے، ریشم ہے، لطافت ہے، مٹھاس ہے۔ اس کو تو سب گوارا ہے۔ اولاد کا ہر ناز پیارا ہے۔ کیوں کہ وہ ماں ہے۔
یہ ماں ہے جس کے لیے اس کی اولاد ہمیشہ بچہ ہی رہتی ہے۔ چاہے اس کے عمرِ رفتہ کے ساتھ بال سفید کیوں نہ ہوچکے ہوں۔
یہ ماں ہی ہے جو اپنے بچوں کے بچپن کے کھلونے تک ساری زندگی سنبھال کر رکھتی ہے۔ اس کی ایک ایک شرارت، ہر ایک حرکت کو، گزرے ہر دن کو ضروری آموختہ کی طرح دل کی کتاب میں محفوظ رکھتی ہے۔
یہ ماں ہے جس کو بچے کا بولا گیا پہلا لفظ، رینگنے، اپنے قدموں پر چلنے کا پہلا دن ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ بچے کے سکول جانے کا پہلا دن ہمیشہ اس کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔ بچے کے ہاتھ سے لکھا پہلا حرف، سکول کی پہلی کتاب، کاپی اور پہلا رزلٹ ہمیشہ سنبھال کر رکھتی ہے۔
قارئین! بیٹی پیدا ہوتی ہے، تو اس کی پیدایش کے دن ہی سے اس کی رخصتی کے لیے پیسا پس انداز کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ایک ایک جوڑا بنا کر جہیز تیار کرتی ہے۔ ایسی کڑی تپسیا اور کوئی نہیں کر سکتا۔
یہ ماں ہے جو گھر کے خرچ سے (جو اکثر حالتوں میں بہت محدود اور قلیل ہوتا ہے)میں سے خاوند کی نظر بچا کر پیسا پیسا الگ رکھتی جاتی ہے۔ پھر عین اُس دن جب شوہر کی جیب میں بچے کی فیس، داخلہ بھجوانے کے لیے پیسے نہیں ہوتے، کوئی ضروری کتاب خریدنے کی سکت نہیں ہوتی، تو ماں ہی آگے بڑھتی ہے۔ کسی تکیہ کے غلاف میں، کسی دوپٹہ کے کونے میں محفوظ کیے ہوئے پیسے نکال کر ہاتھ پر رکھ دیتی ہے۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے چاؤ اور شوق سے بنوائی کوئی معمولی بالی، ہاتھ کی چوڑی نکال کر بچے کی خواہش پر قربان کر دیتی ہے۔ ایسے کرتے ہوئے وہ کسی کریڈٹ کی طلب گار ہوتی ہے…… نہ ستایش کا مطالبہ کرتی ہے۔
بسترِ مرگ تک اولاد کے لیے تڑپنے، بے چین ، بے قرار و بے کل رہنے والی اس ہستی کے لیے، ’’ماں‘‘ کے لیے صرف ایک دن کیوں……؟ دن کے 24 گھنٹے، ہفتے کے سات روز، سال کے 365 دن، سب اس کے نام…… کیوں کہ بقولِ شاعر
دامن میں ماں کے صرف وفاؤں کے پھول ہیں
ہم سارے اپنی ماؤں کے قدموں کی دھول ہیں
……………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔