محنت کش اللہ تعالا کا دوست ہے۔ ایک بار ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا۔ اس کے ہاتھ کھردرے اور سخت تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اُس شخص سے پوچھا کہ محنت اور مشقت کرتے ہو؟ اس شخص نے بتایا کہ پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کر روزی کماتا ہوں۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس محنت کش کے ہاتھ چوم لیے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدور کے حقوق پر بہت زور دیا اور فرمایا کہ ’’مزدور کی اُجرت ا س کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اداکردی جائے۔‘‘
بلاشبہ اگر مزدور کو مزدوری وقت پر نہ ملے، تو اس پر کیا بیتے گی اور اس کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟
بقولِ شاعر
نیند آئے گی بھلا کیسے اُسے شام کے بعد
روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد
اِس دور میں غریب محنت کش کے لیے رزقِ حلال کے دو لقمے کمانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں…… جب کہ محنت کش کو محنت مزدوری کے دوران میں جس سفاکانہ رویے کا سامنا کرنا پڑتاہے…… وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
محنت کشوں کا ایک طبقہ تعمیراتی کاموں، کھیت کھلیانوں، ورکشاپوں اور دیگر مقامات پر مشقت کرتاہے…… جہاں مالکان کی جانب سے ان کے حقوق اور سلامتی سے متعلق خیال تو درکنار……ان کا بری طرح استحصال کیا جاتا ہے۔
دوسرا طبقہ سرکاری یا پرائیویٹ اداروں، کاروباری مراکز اور کارخانوں میں ملازمت کرتا ہے۔ سرکاری اداروں کی صورتِ حال توکچھ بہتر ہے…… مگر پرائیوٹ کمپنیوں اور اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اکثر پریشان حال نظر آتے ہیں، جہاں ان سے آٹھ گھنٹے کی بجائے بارہ پندرہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ اس طرح تنخواہ اس قدر کم دی جاتی ہے کہ ضروریاتِ زندگی کے لیے ناکافی ر ہے…… اور وہ بھی وقت پر نہیں دی جاتی۔
کچھ کمپنیاں تو دو چار ماہ کے بعد تنخواہ دینا بند کردیتی ہیں…… جس پر مجبوری میں ملازم بغیر تنخواہ لیے کمپنی چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا ہے…… اور وہ لیبر کورٹ میں بھی اپنا مقدمہ لے کر نہیں جاسکتا۔ کیوں کہ اس کے پاس وہاں کام کرنے کا کوئی پروف اور ثبوت نہیں ہوتا۔
معاوضے کا نہ ملنا بھی کوئی اتنی بڑی بات نہیں بلکہ دل دھلانے والی بات تو یہ ہے کہ بعض اوقات غریب مزدور کی عزتِ نفس بھی اپنے مالکان کی غیر انسانی سلوک کی وجہ سے اتنی مجروح ہوتی ہے کہ وہ ایسی ذلت کی زندگی پر موت کو مقدم جانتے ہیں۔ بقولِ شاعر
شہر میں مزدور جیسا در بدر کوئی نہیں
جس نے سب کے گھر بنائے اس کا گھر کوئی نہیں
یکم مئی کو شکاگو کے محنت کشوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات، سیمیناروں، کانفرنسوں اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ملک کے مزدوروں کے حقوق کی جد و جہد کو تیز کرنے، مہنگائی وبے روزگاری کے خاتمے، قومی اداروں کی نجکاری کے خاتمے، مزدور دشمن قوانین کی منسوخی، ٹھیکیداری نظام کے خاتمے، تنخواہوں اور اجرت میں اضافے سمیت مزدوروں، محنت کشوں کے مسایل کو اجاگر کرنے کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا جاتا ہے…… لیکن افسوس کہ ان مزدوروں کو اس کی خبر ہی نہیں ہوتی…… اور تقریباً 99 فیصد مزدور اس بات سے بالکل ناواقف رہتے ہیں کہ سال میں ایک دن ایسا بھی آتاہے…… جو ان کے لیے خاص ہے، ان کے لیے خوشیاں منانے کا موقع ہے، چھٹی کرکے بال بچوں کے ساتھ گزارنے کا دن ہے۔ جسے دنیا بھر میں ’’ مزدوروں کے عالمی دن ‘‘ کے طور پر منایا جاتاہے۔ شاعر افضل خان نے اس حوالے سے کیا خوب کہا ہے:
لوگوں نے آرام کیا اور چھٹی پوری کی
یکم مئی کو بھی مزدوروں نے مزدوری کی
بلاشبہ ایک عام مزدور صبح مزدوری کرتا ہے، تو رات کو اس کا چولہا جلتا ہے۔ آج مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ، تعلیم، صحت، چھت اور روز گار کی ضمانت کی ضرورت ہے۔
مزدوروں کو ان کا جایز حق نہ ملنے کی وجہ سے ان کے حالاتِ زندگی بہت ابتر ہیں۔ سب کے گھر بنانے والے یہ محنت کش اپنی چھت تک سے محروم ہیں۔
بانیِ پاکستان قایداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ’’پاکستان مزدوروں کی خوشحالی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔‘‘
حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ مزدور وں کے حالات میں بہتری کے لیے اقدامات کرے۔
گذشتہ دنوں وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے مزدوروں کی کم از کم اجرت 25 ہزار روپے مہینا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ لایقِ تحسین ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مزدورں کی اجرت اور تنخواہوں میں مناسب اضافے کے ساتھ ساتھ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرکے غربت اور مہنگائی کا خاتمہ یقینی بنا نے کے اقدامات کیے جائیں…… تاکہ محنت کش طبقہ خوشحال ہوسکے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔