30 total views, 1 views today

رمضان کا مقدس مہینا ختم ہونے کو آگیا۔ آخری عشرہ بھی نصف تک پہنچ گیا۔ عبادتوں، سعادتوں اور فضیلتوں کے چند ہی شب و روز باقی ہیں۔ ہر ایک جانتا ہے کہ اس بابرکت مہینے میں کیا پایا اور کیا کھویا؟
مَیں اس مہینے کے آغاز میں بھی عرض کرچکا تھا کہ لگتا ہے امسال بھی یہ محترم مہینا ہمارے اندر کے شیطان کی نذر ہوجائے گا، کیوں کہ بتایا جاتا ہے کہ رمضان میں شیطان کو قید کیا جاتا ہے۔ اب اگر شیطان واقعی قید ہے، تو پھر یہ افراتفری کیوں ہے؟ یہ بہتانوں کی بہتات کیوں ہے، یہ جھوٹ کی فراوانی…… ہیجان انگیزی…… الزام تراشیاں اور بے ہودگیاں کیوں ہیں؟ یہ سب اسی لیے تو بپا ہے کہ ہمارے اندر کا شیطان صرف آزاد نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی فعال ہے۔ اس سلسلے میں ہم سب خود ذمے دار ہیں۔ آخر ہم کیوں ایک لیڈر (خواہ وہ کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ ہو، مذہبی راہنما ہو یا کوئی اور) کے کہنے پر سوچے سمجھے بغیر لبیک کہتے ہیں!
یہ جو سیاسی پارٹیوں کی بجائے سیاسی فرقے بنے ہیں، یہ کس نے بنائے ہیں اور کس لیے بنائے ہیں؟ کیا مقصد یہ تھا کہ معاشرے میں برداشت کا مادہ ختم ہوجائے؟ لیڈر کوئی بات کرے اور ورکر لمحوں میں اس کو پوری دنیا میں پھیلائے۔ کیا یہی سیاسی تربیت ہے؟
ہم بھول چکے ہیں کہ انسانیت کے عظیم محسن سیدنا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب ہے: (مفہوم) ’’کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو آگے پھیلائے!‘‘
آج کل جو سوشل میڈیا پر طوفانِ بدتمیزی بپا ہے، اس تناظر میں اگر جایزہ لیا جائے، تو کتنے ہم میں سچے ہیں؟ جھوٹ ویسے بھی برائی کی جڑ ہے، مگر پھر اس محترم مہینے میں جھوٹ بولنا اور مکمل ڈھٹائی سے بولنا نجانے اس کا انجام کیا ہوگا؟
ابھی کل پرسوں کی بات ہے کہ ایک سوشل میڈیائی دوست جو بظاہر پڑھا لکھا بھی ہے، ایک سرکاری سکول میں نونہالانِ وطن کو پڑھاتا بھی ہے، اب یہ الگ بات ہے کہ سابقہ حکم ران پارٹی کا شیدائی ہے۔ موصوف نے مشہور لکھاری، ادیب، ڈراما نویس اور مِزاح نگار انور مقصود سے منسوب ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں حالیہ ’’سابق‘‘ ہونے والے وزیرِ اعظم کی تعریف کی گئی تھی۔ اس پوسٹ کے جواب میں جب پوچھا گیا کہ انور مقصود صاحب کا تو سرے سے سوشل میڈیائی اکاونٹ ہے ہی نہیں، تو وہ یہ پوسٹ کیسے کرسکتے ہیں؟ اس سوال پر مذکورہ دوست نے جواباً کہا: ’’نہیں، یہ انور مقصود ہی کا اکاونٹ ہے!‘‘ اس حوالے سے جب میرا اصرار بڑھا، تواس نے کہا کہ ’’بیان انور مقصود ہی نے دیا ہے۔‘‘ جب مَیں نے بیان کی تصدیق چاہی، تو کہنے لگا، وہ اکثر اسی طرح بیانات دیتا رہتا ہے۔
اس عجیب و غریب جواب پر عرض کیا کہ پیارے دوست پہلی بات تو یہ ہے کہ انور مقصود کا کوئی سوشل میڈیا اکاونٹ سرے سے ہے ہی نہیں…… جس سے آپ کی بات کی صداقت خود بخود سوالیہ ہوجاتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ انور مقصود مِزاح میں سیاسی حالات پر بے شک لکھتے ہیں…… مگر کبھی سنجیدہ سیاسی بیانات نہیں دیتے۔ کیوں کہ وہ ایک ادیب ہیں۔ کسی پارٹی کے نمک خوار نہیں۔
تیسری بات یہ کہ آپ ایک سرکاری نوکر ہیں، ایک پڑھے لکھے شخص ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ رول ماڈل ہیں، آپ کیسے بغیر تصدیق کے ایسا کرسکتے ہیں؟
ان دلایل کے بعد بھی میرا وہ سوشل میڈیائی دوست باز نہ آیا۔ کیوں کہ اب بھی وہ سیاسی عقیدت یا عصبیت میں مبتلا ہے اور ان دو میں سے کسی ایک بھی حالت میں انسان متوازن نہیں رہتا۔ اپنے نظریات کی ترویج اور لیڈر کے فرمودات کو ہی حق اور حرفِ آخر مانتا ہے۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ’’حق‘‘ صرف اللہ تعالا کی ذات ہے اور حرفِ آخر صرف موت ہے جس کے بعد خاموشی ہی خاموشی ہے۔
قارئین! یہ اکیلے میرے دوست کا مسئلہ نہیں…… بلکہ یہ مشاہدہ و تجربہ عام ہے کہ سوشل میڈیا پر جھوٹ کا کار و بار گرم ہے۔ مشہور وکیل راہنما اعتزاز احسن کے نام سے بھی جھوٹے اکاونٹ اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا دھندا عام ہے، جس کی تردید حالیہ دنوں موصوف کو غالباً ’’آٹھویں بار‘‘ کرنا پڑی…… مگر جھوٹ پھیلانے والوں کو کوئی احساس ہی نہیں۔
کتنا افسوس ناک امر ہے کہ رمضان کے اس مہینے میں بھی لوگوں کو یہ احساس نہیں کہ ہم جھوٹ پھیلا رہے ہیں۔ حالاں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جن چار لوگوں کی ہلاکت کی بددعا پر ’’آمین‘‘ کہا تھا، ان میں ایک کچھ اس قسم کا ہے: (مفہوم) ’’جس پر رمضان کا مہینا گزرے اور اتنی عبادت نہ کرسکے کہ اللہ سے اپنی مغفرت کرواسکے۔ ‘‘
اب جو اس ماہِ مقدس میں بھی تسلسل کے ساتھ جھوٹ بول اور پھیلا رہا ہے، اس کی عبادت کیا ہوگی اور مغفرت کیسے ہوگی! کیوں کہ ایک اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مفہوم ہے: ’’سچائی نجات ہے اور جھوٹ ہلاکت ہے!‘‘
اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہمیں ہلاکت چاہیے یا نجات……!
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔