31 total views, 1 views today

گذشتہ 74 سالوں میں وہ کچھ نہیں ہوا جو ہم نے اب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ کرونا کی صورتِ حال ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزری…… جب لاہور کی سڑکیں سنسان ہوتی تھیں۔ دن رات چلنے والے بازار وں میں ہو کا عالم طاری ہوگیا۔ قومی اسمبلی میں کیا کیا نہ ہوا؟ پوری قوم دن رات ٹی وی کے آگے بیٹھ کر ڈراما دیکھ رہی ہوتی تھی اور اب گذشتہ روز پنجاب اسمبلی کی تاریخ کا ناقابلِ فراموش واقعہ بھی پیش آیا۔
قارئین! یہ سارے واقعات مسلم لیگ ن ہی کی وجہ سے رونما ہوتے رہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ پر حملہ اور پھر بھری عدالت سے چیف صاحب کا بھاگ نکلنابھی سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے ہاتھوں رونما ہوا۔ اب جو کچھ بھی ہوا اس کی ذمہ دار بلاشبہ مسلم لیگ ن ہی پر عاید ہوتی ہے…… جو حالات کو اس نہج تک لے جاتی ہے۔
آپ ذرا پنجاب اسمبلی کی صورتِ حال ملاحظہ فرمائیں کہ سپیکر چوہدری پرویز الٰہی وزیرِ اعلا کے امیدوار ہیں، ان کے مقابلے میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز بھی وزارتِ اعلا کا امیدوار ہے۔ چند دن قبل حمزہ شہباز کا والد جو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تھا، وہ حکومتی اراکین اور دوسری جماعتوں کو ساتھ ملاکر وزیر اعظم بن جاتا ہے…… وہاں پر جو ہوا سو ہوا، اس کے بعد پنجاب اسمبلی میں تماشا لگتا ہے۔ پی ٹی آئی کا ڈپٹی سپیکر اپنی ہی جماعت کے خلاف ہوکر مسلم لیگ ن کا حامی بن جاتا ہے۔ ایک وقت دو دو قانون لاگو ہو نے لگتے ہیں۔ اسمبلی کے اندر لڑائی اور مار کٹائی ہوتی ہے۔ ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کرسی پر بیٹھ کر جیسے ہی اجلاس شروع کرتا ہے، اس پر لوٹوں کی بارش ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ پھر چند منٹوں بعد مزاری صاحب کی درگت بننا شروع ہوجاتی ہے۔ کسی نے بالوں سے کھینچ لیا، تو کسی نے مکا جڑ دیا۔ سیکورٹی والے بڑی مشکل سے ڈپٹی سپیکر کو کھینچ کر اسمبلی ہال سے باہر لائے جس کے بعد مسلم لیگ ن کے شیر جوانوں نے وزارتِ اعلا کے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی اور اس کے فوٹو گرافر پر حملہ کردیا۔ دونوں زخمی ہوگئے۔ بات تھانے تک پہنچ گئی، جہاں ایک نیا ڈراما شروع ہوگیا۔ چوہدری پرویز الٰہی کی جانب سے دایر مقد مہ کی درخواست پر پولیس نے انہیں میڈیکل معائینہ کرانے کے لیے خط لکھ دیا کہ پہلے زخم کی تصدیق کرائیں، پھر مقدمہ درج ہوگا…… جب کہ ڈپٹی سپیکر کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ جب چوہدری پرویز الٰہی اپنے ٹوٹے بازو کے ساتھ میڈیا کو تفصیلات بتا رہے تھے، اس وقت ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے مونس الٰہی کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ پائیوڈین سے ہڈیاں نہیں جڑتیں۔ پاپا کو دودھ میں ایلفی ڈال کر دو۔ بعد میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری سیکرٹری اسمبلی محمد خان بھٹی، سیکرٹری پارلیمانی امور عنایت لک، سپیشل سیکرٹری عامر حبیب اور چیف سکیورٹی آفیسر اکبر ناصر کو معطل کر دیا گیا۔ سپیکر نے اِن آرڈر کو معطل کردیا کہ ڈپٹی سپیکر کے اختیار میں یہ کام ہی نہیں۔ معطل ہونے والے پھر کام پر لگ گئے۔
اس کے بعد پھر ایک اور ڈراما ہوا۔ ڈپٹی سپیکر نے اپنے طور پر پنجاب اسمبلی کا اجلاس 18 اپریل کو بلا لیا،جسے سپیکر نے یہ کہہ کر رد کردیا ہے کہ اجلاس سیکریٹری اسمبلی کی طرف سے بلایا جاتا ہے نہ کہ ڈپٹی سپیکر خود ہی اجلاس طلب کرلے۔
یہ معاملہ بھی ختم ہوگیا، تو سپیکر نے 40ویں اجلاس کی اگلی نشست 28 اپریل کو اپنے چیمبر میں رکھ لی۔ گورنر پنجاب نے حمزہ شہباز کا الیکشن متنازعہ قرار دے کر فی الحال ان سے حلف نہیں لیا…… جس کے بعد وزیرِ اعظم نے گورنر پنجاب کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ صدرِ پاکستان نے انہیں کام جاری رکھنے کا حکم جاری کردیا۔ جن لوگوں کو عوام نے اپنی نمایندگی اور قانون سازی کے لیے پنجاب اسمبلی بھیجا…… انھوں نے ایک دوسرے پر گھونسوں، لاتوں کی بارش کی اور گالیاں دیں۔ ساری قوم نے دیکھا کہ عوامی نمایندوں کی اصلیت کیا ہے؟ پاکستان کی پارلیمنٹ کی پوری دنیا میں تضحیک ہو رہی ہے۔ اشرافیہ نے اپنی اصلیت قوم کو دکھا دی۔
اب صورتِ حال یہ ہے کہ ملک کی اسمبلیاں اکھاڑوں میں تبدیل ہوگئی ہیں۔ پوری قوم مفادات کے لیے جاری سارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ ہمارے اس جمہوری نظام پر قابض جاگیرداروں، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں نے اسمبلیوں کو مچھلی منڈی تو بنا رکھا تھا، اب تماش گاہ بھی بنا دیا ہے۔ 74 برسوں سے یہ لوگ قوم کی گردنوں پر سوار ہیں۔ ملک کے وسایل کو پہلے بے دردی سے لوٹا جاتا ہے۔ پھر اسی پیسے سے لوٹوں کی خریداری کرکے حکومتوں کا تختہ الٹا جاتا ہے…… جب کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے تنگ عوام کے لیے زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ اقتدار کی جنگ میں مصروف سیاست دانوں کو غریب قوم کی کوئی پروا نہیں، اگر ہے تو جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو پروا ہے، جن کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے تکنیکی فیصلہ کے بعد عرض کی تھی کہ اب پنڈورا بکس کھلا چاہتا ہے۔
موجودہ صورتِ حال سے گلو خلاصی صرف افہام و تفہیم کی راہ میں مضمر ہے۔ پہل شہباز شریف کی طرف سے ہونی چاہیے۔ کیوں کہ اقتدار ان کے پاس ہے۔
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔