34 total views, 2 views today

آج کل اس سوشل میڈیائی دور میں ایک خط کا بہت چرچاہے۔ سابقہ حکومتی حلقوں کے مطابق امریکہ کی جانب سے ایک خط ملا ہے کہ جس کے مطابق امریکہ نے سابقہ وزیرِ اعظم پاکستان کو خطرناک دھمکی دی تھی۔ اس کو پہلی بار سابق وزیرِاعظم نے اسلام آباد کے پلے گراؤنڈ میں لہرایا اور پھر قومی سلامتی کی کمیٹی میں پیش کیا…… لیکن اب مصدقہ ذرایع سے یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ خط کسی امریکی اہلکار کی جانب سے نہیں آیا…… بلکہ پاکستان کے ایک سفارت کار کی کیبل تحریر ہے…… جو وزارتِ خارجہ کو بھیجی گئی اور اس کے مطابق متعلقہ سفارت کار کا دعوا ہے کہ یہ تحریر اُن ’’منیٹس آف میٹنگ‘‘ کی ہے کہ جو اس سے ایک امریکی اعلا شخصیت نے کی۔
اب اس تحریر کی اصل شکل کیا ہے؟ یہ تو کسی کو معلوم نہیں…… لیکن حکومت کا کہنا ہے کہ اس میں عدمِ اعتماد کا ذکر ہے اور امریکہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر عمران حکومت کو ختم نہ کیا گیا، تو پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ اب تک اس کی واحد وجہ عمران خان کا دورۂ روس بتائی گئی ہے۔
کیا یہ خط واقعی اسی طرح ہے جس طرح تحریک انصاف بیان کر رہی ہے…… یا اس طرح ہے کہ جو تشریح دوسرا سیاسی گروہ کر رہا ہے؟ عام عوام کو کچھ معلوم نہیں۔ قبل اس کے کہ ہم اس پر تبصرہ کریں…… یہ کہنا ضروری ہے کہ امریکہ بے شک ہمیشہ سے ہی مختلف ممالک میں حکومتوں کی اُلٹ پلٹ کرتا رہتا ہے۔ ماضی میں لیاقت علی خان ہو، ایوب خان ہو، ذوالفقار علی بھٹو ہو، ضیاء الحق ہو اس کا براہِ راست الزام امریکہ پر لگایا گیا…… بلکہ لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، ضیاء الحق اور محترمہ بینظیر بھٹو کی اموات کو بھی براہِ راست امریکی سازش گر دانا گیا۔ امریکہ کی اس حد تک کارستانی کا اظہار ماضی میں ایوب خان کی کتاب ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ سے لے کر جنرل حمید گل تک کے بیانات میں واضح اظہار ہے…… بلکہ ذوالفقار علی بھٹو تو ایک خط خود لے کر راولپنڈی کے راجہ بازار میں نکل آئے تھے۔ تب چوں کہ امریکہ میں ’’کنزرویٹو‘‘ حکومت تھی کہ جن کا انتخابی نشان ہاتھی ہے، تو بھٹو صاحب نے یہ کہا تھا کہ ہاتھی ان کی جان کے درپے ہے۔ پھر بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی میں بھی بہت واضح اس کا ذکر کیا تھا…… لیکن اب جو صورتِ حال بنی ہے، اس کا موازنہ ماضی سے کیا جائے، تو بات سمجھ آتی نہیں۔ کیوں کہ مثال کے طور پر بھٹو سے امریکہ کی مخالفت ایٹمی پروگرام سے لے کر عربوں کو یک جا کرکے تیل کا ہتھیار استعمال کرنے کی ترویج، روس سے عین کولڈ وار کے دوران میں بے شمار معاہدے اور سب سے بڑھ کر افغان میں امریکی مداخلت پر پاکستان کی عملی حمایت کا انکار بہت قابل ذکر تھا۔ پھر جنیوا معاہدہ کے بعد ضیاء الحق کا پاکستان واسطے ’’سٹریجک ڈیپتھ‘‘ کا آئیڈیا امریکہ کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔
بینظیر بھٹو بارے یہ بات زبان زدِ عام تھی کہ بی بی ’’کولینڈا رائس‘‘ سے کیے گئے معاہدہ کی منکر ہوگئی تھی…… لیکن عمران خان نے کیا کیا؟ محض ایک بے ضرر دورہ……کہ جس کا بظاہر کوئی فایدہ نقصان ہی نہیں۔ کیوں کہ اس دورہ کے اختتام پر نہ تو کوئی معاہدہ ہوا، نہ ’’ایم اُو یو‘‘ حتی کہ کوئی مشترکہ پریس ریلیز تک نہ تھی، تو پھر یہ دورہ کتنا امریکہ کے لیے خطرناک بن سکتا تھا کہ امریکہ ایک مکمل حکومت کو تبدیل کرے؟
ایک اور بات بھی ذہن نشین ہونی چاہیے کہ امریکہ نہ یوں واردات ڈالتا ہے، نہ ڈال سکتا ہے کہ جیسے تحریکِ انصاف کی حکومت گئی۔ اب آپ بالفرض ایک منٹ کے لیے یہ مان لیں کہ امریکہ پاکستان میں ایک رجیم کی تبدیلی کا متمنی تھا، تو اب تک اس کی واحد وجہ جو نظر آئی، وہ تھی وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان کا دورۂ روس۔ کیوں کہ اس کے علاوہ تو اور کوئی کارنامہ اس حکومت کا ہے نہیں…… اور نہ عمران خان یا ان کی کابینہ کے ارکان یا جماعت کے اعلا سطح کے راہنما اس کے علاوہ کچھ کہتے ہیں۔ اگر یہی معیار اور وجہ ہے، تو پھر روس یوکرین تنازعے کے بعد اور بھی ملکوں سے یہی معاملات ہونا چاہیے تھے جو کہ نہیں ہوئے۔
درحقیت سچ یہ ہے کہ عمران حکومت کی تبدیلی میں نہ تو کوئی امریکی سازش ہے اور نہ اس کی ضرورت ہی تھی…… بلکہ عمرانی حکومت کا خاتمہ کلی داخلی کام تھا۔ یہ بات سابق وزیر اعظم اور ان کی کچن کابینہ کے تمام ارکان کو بہرحال معلوم ہے…… لیکن چوں کہ عمران خان کے کریڈٹ پر عملاً کوئی کام سرے سے ہے ہی نہیں کہ جس کو وہ عوام کے سامنے رکھ سکیں۔ سو انہوں نے عوام کی ہم دردیاں حاصل کرنے کے لیے ایک یہ بیانیہ بنا دیا ہے۔
اسلام آباد کے صحافتی ذرایع ایک تحریکِ انصاف کے اعلا عہدیدار کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ اول عمران خان نے یہ بات یورپی یونین کے خط کے حوالے سے کی تھی اور پھر عوام کا ری ایکشن دیکھ کر تحریکِ انصاف کے دماغوں نے یہ حکمت عملی ترتیب دی کہ اس طرح صورتِ حال بنائی جاسکتی ہے اور انہوں نے پھر بنا دی۔ حالاں کہ جس کیبل کو بنیاد بنایا گیا ہے، وہ آپ کسی بھی سفارتی ملازم کلرک سے لے کر سفیر تک سے معلوم کرلیں۔ یہ کیبل بالکل ایک نارمل اور روٹین کی تھی۔ مزید یہ کیبل نہ کسی امریکی عہدیدار کی تھی اور نہ اس میں کسی امریکی دھمکی کا براہِ راست ذکر تھا…… لیکن تحریکِ انصاف نے بہت کامیابی سے اسکو استعمال کرلیا بلکہ اب بھی کرتی جا رہی ہے۔ کیوں کہ اس ملک میں مذہبی چورن اور حب الوطنی کا بیانیہ بکتا تو ہے۔ پھر امریکی بلکہ کل مغرب کے خلاف بات کرنا آپ کو اک مخصوص حلقہ میں عارضی طور مقبول تو بنا دیتا ہے، لیکن خان صاحب یہاں پر بہت ہی سنگین تاریخی غلطی کا شکار ہوگئے ہیں۔ کیوں کہ تاریخ میں اس کی پہلی مثال ذوالفقار علی بھٹو کی ہے کہ انہوں نے امریکی خط کو عوامی سطح پر استعمال کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ناکام ہوگئے تھے۔ حالاں کہ اگر عمران خان کی حکومت اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت شخصی صلاحیت اور مقبولیت کا تقابل کیا جائے، تو یہ موازنہ بنتا ہی نہیں۔ کیوں کہ بھٹو حکومت اس دور میں کامیاب ترین تھی۔ بھٹو صاحب کی ذاتی مقبولیت عمران خان سے کئی درجہ زیادہ تھی۔ اسی طرح قابلیت اور عالمی تعلقات میں عمران خان شاید بھٹو صاحب کے مقابل پانچ فی صد بھی نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بھٹو صاحب کا لہرایا گیا خط سو فیصد سچ پر مبنی تھا اور بھٹو حکومت کے خلاف امریکی سازش سو فیصد سچ تھی…… لیکن اس کے باجود بھٹو صاحب اپنی حکومت بچاسکے اور نہ اپنی جماعت اور جان۔
یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ خان صاحب کو ان کے مشیر یہ سمجھا رہے ہیں کہ اب حالات اس طرح کے نہیں کہ جن کا سامنا بھٹو صاحب کو تھا…… بلکہ اب سوشل میڈیا کا دور ہے۔کچھ واقعات کا اسی طرح ہونا ممکن نہیں۔ خان صاحب کے مشیران کو کوئی کس طرح سمجھائے کہ جناب! خالی سوشل میڈیا کی طاقت سے آپ کسی بھی بیانیہ کو وقتی طور تو شاید استعمال کرسکتے ہیں، لیکن اس کو مستقل قایم رکھنا ممکن نہیں…… بلکہ بعض اوقات یہ آپ کے لیے ’’کاؤنٹرپروڈیکٹو‘‘ ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ سوشل میڈیا کا ہتھیار آپ کے مخالفین بھی تو استعمال کرسکتے ہیں۔ اس لیے ہم بحیثیتِ عام پاکستانی، سابق وزیراعظم جناب عمران خان سے یہ التماس کرتے ہیں کہ وہ اب سیاسی پروپیگنڈوں سے نکلیں اور حالات کا جایزہ حقیقت کی نظر سے لیں۔ اپنی تمام سابقہ خامیوں کو سامنے رکھ کر صرف ایک کام کریں اور وہ یہ کہ بس روایتی مفاد پرست لوٹوں سے نجات پائیں۔ ایک دفعہ پھر اپنے مخلص نظریاتی انصافین سے رجوع کریں اور اپنی جماعت کو مضبوط بنائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار بھرپور اور دلچسپی سے ادا کریں۔ حکومت کی خامیوں کو اجاگر کریں اور آیندہ عام انتخابات جب بھی ہوں، کو آزادانہ اور غیر جانب دارانہ بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پھر آنے والے انتخابات میں عوام پر بھروسا رکھیں اور جو عوام فیصلہ کریں، اس کو خوش دلی سے تسلیم کریں۔ یہی ملک کا بھی فایدہ اور تحریکِ انصاف اور عمران خان صاحب کا اپنا بھی، لیکن جو طریقہ عمران خان صاحب نے اپنا لیا ہے، یاد رہے کہ یہ طریقۂ کار شاید ایک بہت بڑی تباہی کی طرف لے کر جا رہا ہے اور اس میں ملک کا تو نقصان ہونا ہی ہے، جمہوریت کو خطرہ کا اندیشہ بھی ہے…… لیکن اس کا بذاتِ خود عمران خان صاحب کو بھی شدید نقصان ہوسکتا ہے۔ جس کا پھر مداوا شاید خان صاحب کی اپنی زندگی میں ہونا ممکن ہی نہیں۔
اس لیے بہتر ہے کہ حقایق اور سچائی کو اپنا کر فیصلہ عوام پر چھوڑا جائے۔
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔