قارئین! میرا ذاتی خیال ہے کہ مبینہ ’’امریکی خط‘‘ اور اس سے جڑا موجودہ سیاسی بحران، خانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے۔ من حیث القوم ہماری تعلیمی شرح انتہائی کم زور ہے اور ہم ہر سیاسی بیانئے کو بہت جلد قبول کرتے ہیں۔ اس گم راہ کن سیاسی ماحول میں عام شہری جذباتی ہوتے ہیں اور دوسری طرف حالات سے بھی اتنے دل برداشتہ ہوتے ہیں کہ ہم منتخب وزیراعظم پر جوتوں سے وار کرنے اور وزرا کے دامن پر سیاہی چھڑک کر ان کو ذلیل کرنے میں ذرا دیر سے کام نہیں لیتے۔
دوسری طرف ہمارے سیاست دانوں میں عدم برداشت اس نہج تک پہنچ چکا ہے کہ عام شہری کی تنقید بھی ہاتھا پائی تک پہنچ جاتی ہے۔ حالاں کہ سیاست دان وہ ہے جو گالی تک کو برداشت کرنا جانتے ہیں۔
اس تمام تر حالات میں موجودہ صورتِ حال بتا رہی ہے کہ وطنِ عزیز میں اب جنگ صرف سیاست تک محدود نہیں رہی…… بلکہ ذاتی انا اور انتقام کی آگ بھی تیز بڑھکتی جا رہی ہے۔ عام شہری میں غصے کی ایسی چنگاریاں بھڑک اٹھی ہیں کہ چوک چوراہوں سے لے کر ریستوران تک سیاست دانوں پر فقرے کسنا اور گالیوں سے نوازنا عام سی بات ہوچکی ہے۔ ایسے میں شکوہ کریں بھی تو کس سے……؟
ملک میں اچانک ایک تبدیلی کی لہر اٹھی یا اٹھائی گئی…… اور عمران خان صاحب نے سیاست میں قدم جماتے ہی خود اس کلچر کو خوب پروموٹ کیا۔ ان کے کارکن، سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور ہر ناقد شہری کو مسلسل گالیوں سے نوازتے رہے…… لیکن انہوں نے اتنی بڑی مسند پر ہوتے ہوئے بھی اس تشویش ناک معاملے کا کوئی ایکشن نہیں لیا۔ اب ان کا تختہ اُلٹ دیا گیا، تو یہ آگ مزید بڑھکتی جارہی ہے۔ کل تحریکِ انصاف کی طرف سے جن کو مقدس مانا جاتا تھا، آج توپوں کا رُخ انہی کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔
قارئین! پاکستانی سیاست میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ اچانک چیزیں اُلٹ جاتی ہیں اور حکومت کا ہما راتوں رات کسی اور کے سر بیٹھ جاتا ہے۔
عمران خان صاحب آخری گیند تک لڑے…… مگر گیند ’’یارکر‘‘ آئی، نئی حکومت بن گئی اور کرسی پر ان کے شدید مخالف براجمان ہوگئے۔ پھر بھی خان صاحب جنونی سیاست سے باز نہیں آئے۔ اب پشاور جلسے میں بھی نہ صرف مخالفین کو…… بلکہ دبے الفاظ میں اپنے سابقہ ’’ہم نواؤں‘‘ بلکہ ’’آقاؤں‘‘ کو نشانے پر رکھا۔ دوسری طرف سے آقا بھی ناراض ہیں، گویا کہ
دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی
قارئین! حلف لینے کے بعد شہباز شریف بتا رہے تھے کہ ہم انتقامی کارروائی نہیں کریں گے…… مگر واقعات برعکس رونما ہو رہے ہیں۔ اب بیانات آ رہے ہیں کہ جو الفاظ استعمال ہوں گے…… ان سے شدید الفاظ میں جواب دیا جائے گا۔
وہ جو کہتے ہیں کہ ’’دو ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹیاں کُچلی جاتی ہیں‘‘ لہٰذا اب تمام سیاسی ورکروں کو ان ہاتھیوں کی لڑائی کے بیچ نہیں اترنا چاہیے۔ دور سے تماشا دیکھیے اور خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کیجیے۔ یہ ملک اُن طاقت ور مافیاز کا ہے…… جن کو ہم بھوک پیاس میں نڈھال شام تک قطاروں میں کھڑے ہوکر ووٹ کی پرچی سے ایوانوں میں بیچتے ہیں۔ ہم جیالے ہیں یا جنونی ہیں، پوسٹر چسپاں کرنے اور نعرے بلند کرنے میں ہمارا ثانی کوئی نہیں۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔